وینزویلا پر امریکی حملے اور ملٹری آپریشن میں صدر مادورو کی گرفتاری کے بعد ملک کی نائب صدر کا پہلا بیان سامنے آگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وینزویلا کی نائب صدر دَلسی رودریگیز نے ملک میں ہونے والی ناقابل یقین پیشرفت پر سرکاری ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کیا۔
انھوں نے اعلان کیا ہے کہ حکومت کو اب تک صدر نکولس مادورو اور خاتونِ اوّل سیلیا فلورس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکی ہے۔
وینزویلا کی نائب صدر نے مزید کہا کہ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں اس کے بارے میں جاننے کی مسلسل کوشش میں ہیں۔
انھوں نے امریکی حملے کو بدترین سامراجی جارحیت قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کے زندہ ہونے کا ثبوت پیش کریں۔
نائب صدر رودریگیز نے مزید کہا کہ امریکا کے حملے میں ملک بھر میں متعدد سرکاری حکام، فوجیوں اور شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔
وینزویلا کی نائب صدر نے قوم سے اتحاد اور یکجہتی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال قوم کے لیے انتہائی سنگین ہے۔
یاد رہے کہ قبل ازیں صدر ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ امریکا نے وینزویلا پر بڑے پیمانے پر حملہ کر کے صدر مادورو کو اہلیہ سمیت گرفتار کرلیا اور بیرون ملک منتقل کردیا ہے۔
امریکی صدر نے یہ تو نہیں بتایا کہ صدر مادورو کو کہاں لے جایا گیا البتہ امریکی سینیٹرز کا کہنا ہے کہ مادورو کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے امریکا لایا گیا ہے۔