وینزویلا پہلا ملک نہیں؛ کئی ممالک امریکی حملوں کی زد میں آچکے ہیں؛ مختصر تاریخ

اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے لاطینی ممالک پر امریکی حملوں کی تاریخ کافی پرانی ہے


ویب ڈیسک January 03, 2026
لاطینی امریکا کے ممالک پر متحدہ ہائے ریاست امریکا کے حملوں کی تاریخ کافی طویل ہے

ٹرمپ دور میں وینزویلا میں ہونے والی تازہ امریکی فوجی کارروائی کو لاطینی امریکا میں مداخلت کی طویل اور خونخوار تاریخ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

لاطینی امریکا کے متعدد ممالک اس سے قبل بھی بالخصوص سرد جنگ کے دور میں زیادہ شکار رہے رہیں جب واشنگٹن نے کمیونزم کے پھیلاؤ کو روکنے کے نام ہر عسکری کارروائیاں کی تھیں۔

ان ملٹری آپریشن اور حملوں کا مقصد امریکا کا اپنے سیاسی و معاشی مفادات کا تحفظ کرنا تھا۔ جس کے لیے وہ درج زیل ممالک کو خطرہ سمجھتا تھا۔ 

گوئٹے مالا 1954

1954 میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے گوئٹے مالا میں منتخب صدر جیکوبو آربنز گزمین کے خلاف بغاوت کی حمایت کی تھی۔

صدر آربنز کی جانب سے زرعی اصلاحات متعارف کرائی گئیں تھیں جن سے امریکی کمپنیوں کے مفادات متاثر ہو رہے تھے۔

امریکی آشیرباد سے ہونے والی اس بغاوت کے بعدگوئٹے مالا کئی دہائیوں تک عدم استحکام اور فوجی حکمرانی کا شکار رہا تھا۔

کیوبا 1959 تا 1961

1959 میں فیدل کاسترو نے آمر فولخینسیو باتیستا کا تختہ الٹ دیا تھا جس کے بعد امریکا نے کاسترو حکومت کو ہٹانے کی کوششیں شروع کیں۔

اس امریکی مداخلت کا نقطہ عروج 1961 میں سی آئی اے کی حمایت یافتہ کیوبا کی عسکری جماعت نے ناکام یلغار کی تھی اور یوں امریکا کو شکست فاش ہوئی تھی۔

برازیل 1964

برازیل میں امریکا نے کمیونسٹ مخالف قوتوں اور امریکا نواز سیاست دانوں کی حمایت کی جس کے نتیجے میں 1964 میں صدر جواو گولارٹ کو ہٹا کر فوجی حکومت قائم کی گئی۔

امریکا کی آشیرباد سے یہ آمرانہ نظام 1985 تک قائم رہا جس میں جمہوری قوتوں کو طاقت سے کچلا گیا تاکہ امریکی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔

ڈومینیکن ریپبلک 1965

1965 میں امریکا نے فوجی مداخلت کرتے ہوئے بائیں بازو کے صدر خوان بوش کی واپسی کو روکنے کی کوشش کی۔

امریکا نے اپنے اس اقدام کو دوسری کیوبا کے خطرے سے تعبیر کیا اور ایک امریکا نواز حکومت کے قیام میں مدد کی۔

ایکواڈور 1961 تا 1963

اس عرصے کے دوران امریکی حمایت یافتہ اور کمیونسٹ مخالف سرگرمیاں ایکواڈور میں سیاسی بحران کا سبب بنیں جس نے فوجی بغاوت کی راہ ہموار کی۔

امریکی حمایت یافتہ فوجی حکومت نے کیوبا سے تعلقات ختم کر کے واشنگٹن کے قریب ہونے کی پالیسی اپنائی۔

بولیویا 1964 تا 1970 کی دہائی

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے بولیویا میں منتخب رہنماؤں کے خلاف بغاوتوں کی حمایت کی، جن میں وکٹر پاز ایسٹینسورو بھی شامل تھے۔

بعد ازاں صدر خوان خوسے ٹوریس کی حکومت کو بھی نشانہ بنایا گیا خاص طور پر اس وقت جب انھوں نے امریکی کمپنیوں کو قومی تحویل میں لے لیا تھا۔

یوراگوئے 1960 کی دہائی تا 1973

امریکا کی جانب سے سیکیورٹی معاونت اور انٹیلی جنس تعاون نے بائیں بازو کے گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں 1973 میں فوجی حکومت قائم ہو گئی۔

چلی 1970 تا 1973

چلّی میں بھی امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے صدر سالوادور آلندے کے خلاف اپوزیشن کی مالی اور سیاسی مدد کی۔

1973 میں جنرل آگستو پنوشے کی قیادت میں فوجی بغاوت ہوئی جس کے بعد 17 سالہ سخت گیر حکومت قائم رہی جسے امریکا کی مکمل حمایت حاصل تھی۔

ارجنٹائن 1976

1976 میں امریکا نے ارجنٹائن میں اُس فوجی حکومت کی حمایت کی جس نے جمہوری حکومت کو گھر چلتا کرکے طاقت کے بل بوتے پر اقتدار سنبھالا تھا۔

یہ دور بدنام زمانہ ڈرٹی وار کے نام سے جانا جاتا ہے جس میں ہزاروں افراد تشدد، جبری گمشدگی اور قتل کا نشانہ بنے۔

ایل سلواڈور 1980 کی دہائی

ایل سلواڈور کی اندرونی خانہ جنگی سے فائدہ اُٹھانے کے لیے امریکا نے فوجی امداد میں نمایاں اضافہ کیا۔

ان فورسز پر سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگے جن میں 1981 کا ایل موزوتے قتل عام بھی شامل ہے۔

نکاراگوا 1980 کی دہائی

امریکا نے سینڈینستا حکومت کے خلاف کونٹرا باغیوں کی حمایت کی۔ اس حمایت میں خفیہ ایران کونٹرا اسکینڈل بھی شامل تھا جس نے امریکی سیاست میں شدید ہلچل مچائی تھی۔

گریناڈا 1983

1983 میں امریکا نے اندرونی بدامنی اور مارکسی حکومت کے خدشات کے پیش نظر گریناڈا پر حملہ کیا۔ اس کارروائی کے بعد امریکا نواز انتظامیہ قائم کی گئی تھی۔

پانامہ 1989

1989 میں امریکی افواج نے پانامہ پر حملہ کرکے فوجی حکمران مینوئل نوریگا کو اقتدار سے ہٹایا۔ اس کارروائی کے ذریعے امریکا نے پانامہ کینال کے علاقے میں اپنا اثر و رسوخ دوبارہ مستحکم کیا۔

پس منظر اور حالیہ صورتحال

ماہرین کے مطابق وینزویلا میں حالیہ امریکی کارروائی اسی تاریخی سلسلے کا تسلسل ہے جس میں لاطینی امریکا کے ممالک میں سیاسی تبدیلیوں پر امریکا اثر انداز ہوتا رہا ہے۔

خیال رہے کہ یہ مداخلتیں خطے میں طویل المدتی عدم استحکام اور انسانی بحرانوں کا سبب بنی ہیں جب کہ امریکا ان اقدامات کو اپنے قومی سلامتی مفادات سے جوڑتا رہا ہے۔

 

مقبول خبریں