امن کے دعوے دار کا دہرا کھیل؟

امریکا امن کا خودساختہ دعوے دار ہے لیکن اس کی اصل فطرت دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکی ہے


نعمان حفیظ January 04, 2026

دنیا اگر آج کسی ایک لفظ میں بیان کی جاسکتی ہے تو وہ ہے منافقت۔ یہ منافقت سب سے زیادہ اس وقت نمایاں ہوجاتی ہے جب عالمی طاقتیں امن، انسانی حقوق اور جمہوریت کے نعرے بلند کرتی ہیں، مگر عملی طور پر جنگ، مداخلت اور تباہی کا سامان پیدا کرتی ہیں۔

آج دنیا ایک ایسے المیے کی گواہ ہے جہاں امن کے سب سے بڑے دعوے دار خود جنگ کے سب سے بڑے معمار بن چکے ہیں۔ امریکا، جو خود کو عالمی امن کا علمبردار، ثالث اور اخلاقی رہنما کہلوانا پسند کرتا ہے، ایک بار پھر اپنی اصل فطرت کے ساتھ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے۔

حال ہی میں وینزویلا کے دارالحکومت کراکس کے آسمان پر امریکی ہیلی کاپٹروں کی پروازیں اور شہر کے مختلف حصوں میں دھماکوں کی اطلاعات نے دنیا کو چونکا دیا ہے۔ جس کی تصدیق میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ پر ٹرمپ نے وینیزویلا پر حملوں کے حوالے سے کہا کہ وینیزویلا اور اس کی قیادت کیخلاف آپریشن کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران وینیزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو پکڑ کر ملک سے باہر منتقل کردیا گیا ہے۔

یہ مناظر کسی جنگ زدہ ملک کے ہوتے ہیں، نہ کہ اس ریاست کے جسے عالمی سطح پر ’’امن کا سفیر‘‘ بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہو۔ امریکی صدر کی جانب سے ماضی میں بارہا یہ دعویٰ کیا گیا کہ ان کی خارجہ پالیسی کا محور جنگوں کا خاتمہ اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کا حل ہے، مگر عملی اقدامات ان دعوؤں کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

وینزویلا پہلے ہی معاشی پابندیوں، سیاسی عدم استحکام اور اندرونی انتشار کا شکار ہے۔ ایسے میں بیرونی فوجی دباؤ اور عسکری طاقت کا مظاہرہ نہ صرف حالات کو مزید خراب کرتا ہے بلکہ عام شہریوں کی جان و مال کو بھی شدید خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی خودمختار ریاست کے فضائی حدود میں عسکری سرگرمیاں امن کے قیام کا ذریعہ ہوسکتی ہیں؟ یا یہ صرف طاقت کے نشے میں کیا گیا وہ اقدام ہے جسے بعد میں ’’امن مشن‘‘ کا نام دے دیا جاتا ہے؟

یہی دہرا معیار ایران کے معاملے میں بھی واضح طور پر نظر آتا ہے۔ ایران میں مظاہرین کی ’’مدد‘‘ کے نام پر بیرونی مداخلت کی دھمکیاں، درحقیقت بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت، خواہ وہ کسی بھی عنوان سے کی جائے، عالمی نظام کے لیے خطرناک مثال قائم کرتی ہے۔ اگر ہر طاقتور ملک یہ حق اپنے لیے محفوظ کر لے کہ وہ کسی بھی ریاست میں احتجاج کو بنیاد بنا کر عسکری دباؤ ڈالے، تو دنیا میں خودمختاری کا تصور ہی ختم ہو جائے گا۔

یہ سوال اب محض سیاسی نہیں رہا بلکہ اخلاقی بن چکا ہے: کیا امن بمباری، فوجی دھمکیوں اور خودمختار ریاستوں کی فضائی حدود کی پامالی سے قائم کیا جاتا ہے؟ اگر ہاں، تو پھر دہشت گردی اور ریاستی جارحیت میں فرق کیا رہ جاتا ہے؟

یہ امر مزید تشویشناک اس لیے بھی ہے کہ امریکا وہ ملک ہے جس کے بعض رہنماؤں کو عالمی سطح پر امن کے اعزازات بھی مل چکے ہیں۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امن کے ایوارڈ محض الفاظ اور تقاریر پر دیے جاتے ہیں، یا ان کا تعلق عملی پالیسیوں سے بھی ہونا چاہیے؟ جب ایک ہی ریاست ایک طرف امن کے نعرے لگائے اور دوسری طرف جنگی ہیلی کاپٹر، ڈرون اور پابندیاں استعمال کرے، تو ایسے امن کی ساکھ خود بخود مشکوک ہو جاتی ہے۔

عالمی سیاست میں ’’انسانی حقوق‘‘ اور ’’جمہوریت‘‘ کو اکثر ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ جن ممالک کی پالیسیاں بڑی طاقتوں کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں، وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نظر انداز کردی جاتی ہیں، اور جو ریاستیں آزاد خارجہ پالیسی اختیار کریں، وہاں معمولی واقعات کو بھی عالمی بحران بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہی دہرا معیار عالمی نظام کو غیر منصفانہ اور غیر متوازن بناتا ہے۔

اس پورے منظرنامے میں سب سے زیادہ متاثر عام انسان ہوتا ہے۔ جنگ، پابندیاں اور بیرونی مداخلتیں کسی حکمران طبقے کو نہیں بلکہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑتی ہیں۔ وینزویلا ہو یا ایران، یا پھر ماضی میں عراق، افغانستان، لیبیا، غزہ (فلسطین)، ہر جگہ طاقتور ریاستوں کے فیصلوں کا خمیازہ معصوم جانوں نے ادا کیا۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں، اور پورے کے پورے معاشرے عدم استحکام کا شکار ہوگئے۔

یہ وہی امریکا ہے جس نے عراق کو ’’وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں‘‘ کے جھوٹے الزام پر راکھ کا ڈھیر بنادیا۔ لاکھوں بے گناہ مارے گئے، مگر آج تک کوئی معافی، کوئی احتساب، کوئی شرمندگی نظر نہیں آئی۔ افغانستان میں دو دہائیوں تک جنگ کے بعد جب ناکامی کا اعتراف ہوا، تو پیچھے صرف لاشیں، تباہی اور ایک شکست خوردہ قوم چھوڑ دی گئی۔

یہ صورتحال عالمی برادری کےلیے ایک واضح وارننگ ہے۔ اگر وہ ملک جو خود کو امن کا علمبردار کہتا ہے، کھلے عام بین الاقوامی قوانین کو پامال کرے اور عسکری طاقت کے ذریعے اپنے مفادات مسلط کرے، تو دنیا میں قانون کی حکمرانی محض ایک نعرہ بن کر رہ جائے گی۔ اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی عدالتیں اگر صرف کمزور ریاستوں کے خلاف متحرک ہوں اور طاقتوروں کے سامنے خاموش رہیں، تو ان اداروں کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ کون سا ملک طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ طاقت کا استعمال کس مقصد کے لیے اور کس حد تک کیا جا رہا ہے۔ حقیقی امن بندوقوں، ہیلی کاپٹروں اور دھمکیوں سے قائم نہیں ہوتا، بلکہ انصاف، برابری، مذاکرات اور خودمختاری کے احترام سے جنم لیتا ہے۔ جو ریاستیں واقعی امن چاہتی ہیں، وہ اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرتی ہیں، نہ کہ عسکری دباؤ کے ذریعے۔

آج دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ، لاطینی امریکا اور دیگر خطے پہلے ہی کشیدگی کی لپیٹ میں ہیں۔ ایسے میں کسی بڑی طاقت کا جارحانہ رویہ عالمی سطح پر عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کے زور پر قائم کیا گیا امن دیرپا نہیں ہوتا۔ دیرپا امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب عالمی قوانین کو سب کے لیے یکساں طور پر لاگو کیا جائے۔

آخرکار، یہ لمحہ عالمی ضمیر کے لیے ایک امتحان ہے۔ کیا دنیا طاقتور ریاستوں کے دوہرے معیار کو قبول کرتی رہے گی، یا واقعی ایک منصفانہ عالمی نظام کے قیام کے لیے آواز بلند کرے گی؟ امن کے دعوے داروں کو اب محض بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ واقعی امن چاہتے ہیں، نہ کہ اسے ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

اگر عالمی برادری نے اس دہرے کھیل کو نظر انداز کیا، تو یہ خاموشی بھی ایک جرم بن جائے گی۔ وقت آگیا ہے کہ امن کے حقیقی مفہوم کو دوبارہ زندہ کیا جائے، ایسا امن جو طاقت نہیں، بلکہ انصاف، احترام اور انسانیت کی بنیاد پر قائم ہو۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
نعمان حفیظ
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔

مقبول خبریں