وینزویلا پر امریکی فوجی حملے سے دو روز قبل ہی صدر نکولس مادورو نے ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کے رضامندی کا اشارہ بھی دیا تھا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سرکاری اور سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے جمعرات کے روز ہی کہا تھا کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون کے لیے امریکا سے معاہدے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
انھوں نے اپنے بیان میں مزید کہا تھا کہ وینزویلا خطے میں منشیات کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی میں امریکا سمیت تمام ممالک کے ساتھ تعاون پر غور کر سکتا ہے۔
وینزویلا کے صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر امریکا واقعی سنجیدہ ہے اور باہمی احترام پر مبنی رویہ اختیار کرے تو مذاکرات کا راستہ اب بھی کھلا ہے۔
تاہم ان بیانات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے سمندر کے کھلے پانیوں میں وینزویلا سے منسوب کشتیوں پر امریکی فوج کے حملوں میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔
امریکی حکام نے تسلیم کیا کہ ستمبر کے بعد سے وینزویلا کے قریب سمندری علاقوں میں 20 سے زائد فضائی حملے کیے گئے، جن کا مقصد منشیات اسمگلنگ اور مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنا تھا۔
ان فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ امریکا نے وینزویلا پر نئی پابندیاں بھی عائد کیں اور معاشی و سفارتی دباؤ بھی بڑھایا۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان حالیہ ہفتوں میں پسِ پردہ سفارتی رابطے بھی جاری تھے۔ جن میں منشیات کے خلاف تعاون، قیدیوں کے تبادلے اور بعض پابندیوں میں نرمی جیسے امور زیرِ بحث آئے۔
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر مادورو کی جانب سے مذاکرات پر آمادگی کا مقصد بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنا اور ممکنہ فوجی تصادم سے بچنا تھا۔
اس کے باوجود حالات تیزی سے کشیدہ ہوتے چلے گئے اور بالآخر امریکا نے آج بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کرتے ہوئے وینزویلا کے صدر کو ان کے گھر سے گرفتار کرلیا۔
لاطینی امریکا کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کا یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا تھا اور مزاکراتی عمل جاری تھا۔