گلگت بلتستان کیلئے ڈیوٹی اور ٹیکس کے بغیر سیکڑوں اشیا کی درآمد کی مشروط اجازت

ایک مالی سال کے دوران سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مجموعی چھوٹ کی حد 4 ارب روپے مقرر کی گئی ہے


ارشاد انصاری January 03, 2026
یہ اجازت صرف سوست کے ذریعے درآمد اشیا پر ہوگی—فوٹو: فائل

اسلام آباد:

وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کے لیے سوست بارڈر کے ذریعے سیکڑوں اشیا کی ڈیوٹی اور ٹیکس کے بغیر درآمد اور کلیئرنس کی مشروط اجازت دے دی، تاہم ہر کنسائنمنٹ کے لیے حکومت گلگت بلتستان کی مجاز اتھارٹی کی جانب سے کسٹمز کمپیوٹرائزڈ کلیئرنس سسٹم میں آن لائن اجازت نامہ لازمی ہوگا اور ایک کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایک مالی سال کے دوران سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مجموعی چھوٹ کی حد 4 ارب روپے مقرر کی گئی ہے اور مقررہ کوٹہ مکمل ہونے کے بعد گلگت بلتستان میں استعمال کے لیے درآمد ہونے والی اشیا پر تمام متعلقہ ٹیکسز لاگو ہوں گے۔

ایف بی آر نے نوٹیفکیشن کے ذریعے سوست کسٹمز ڈرائی پورٹ سے اشیا کی کلیئرنس کے لیے نئے قواعد جاری کے ہیں، جس میں بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر نے کسٹمز ایکٹ 1969سیلز ٹیکس ایکٹ 1990، فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 اور انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے سوست کسٹمز ڈرائی پورٹ سے اشیا کی کلیئرنس کے لیے نئے قواعد جاری کیے ہیں۔

واضح کیا گیا ہے کہ ان قواعد کا اطلاق صرف سوست کسٹمز ڈرائی پورٹ سے درآمد ہونے والی مخصوص اشیا پر ہوگا اور ان کا نفاذ فوری طور پر عمل میں آئے گا۔

ایف بی آر کے مذکورہ قواعد کے تحت ایک خصوصی طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے جس کے مطابق صرف وہی اشیا اس سہولت میں شامل ہوں گی جو سلک روٹ ڈرائی پورٹ سوست کے ذریعے درآمد کی جائیں گی، جن کی درجہ بندی نوٹیفکیشن میں دیے گئے مخصوص پی سی ٹی کوڈز کے تحت ہو۔

قواعد میں واضح کیا گیا ہے کہ ان درآمدات پر سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد نہیں کی جائے گی بشرطیکہ ہر کنسائنمنٹ کے لیے حکومت گلگت بلتستان کی مجاز اتھارٹی کی جانب سے کسٹمز کمپیوٹرائزڈ کلیئرنس سسٹم میں آن لائن اجازت نامہ جاری کیا جائے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ درآمد کرنے والی فرم یا کمپنی مکمل طور پر ایسے افراد کی ملکیت ہو جو گلگت بلتستان کے ڈومیسائل ہولڈر ہوں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ایک مالی سال میں سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مجموعی چھوٹ کی حد 4 ارب روپے مقرر کی گئی ہے جس کا حساب کسٹمز کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے کیا جائے گا اور یہ سہولت پہلے آئیے، پہلے پائیے کی بنیاد پر فراہم کی جائے گی۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مقررہ کوٹہ مکمل ہونے کے بعد گلگت بلتستان میں استعمال کے لیے درآمد ہونے والی اشیا پر تمام متعلقہ ٹیکسز لاگو ہوں گے۔

قواعد میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اس سہولت کے تحت درآمد کی جانے والی تمام اشیا صرف گلگت بلتستان کی حدود میں ہی استعمال ہوں۔

مزید بتایا گیا ہے کہ اگر کسی مرحلے پر احتجاج، دھرنوں یا سڑکوں کی بندش کے باعث کسٹمز آپریشن متاثر ہوتا ہے تو کلیکٹر آف کسٹمز گلگت بلتستان کو صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس ٹیکس چھوٹ کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

اسی طرح اگر کسی انفرادی کیس میں غلط بیانی سامنے آئے یا اشیا کو گلگت بلتستان کی حدود سے باہر لے جایا جائے تو کلیکٹر آف کسٹمز کو ٹیکس چھوٹ واپس لینے کا اختیار حاصل ہوگا اور چیف کلیکٹر آف کسٹمز (انفورسمنٹ) اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گا کہ ان اشیا کو علاقے سے باہر منتقل نہ کیا جا سکے، مسودہ قواعد کے تحت شامل پی سی ٹی کوڈز کا وقتاً فوقتاً جائزہ لے کر ان میں ردوبدل بھی کیا جا سکے گا۔

نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر سوست کے ذریعے باقی ملک کے لیے درآمد کی جانے والی اشیا اور گلگت بلتستان کے لیے مخصوص اشیا کے درمیان واضح فرق، نگرانی اور ٹریکنگ کے لیے ایک الگ خصوصی طریقہ کار بھی متعارف کرائے گا۔

واضح رہے کہ امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ (کنٹرول) ایکٹ 1950، امپورٹ پالیسی آرڈر اور کسٹمز ایکٹ 1969 کی تمام متعلقہ دفعات سوست ڈرائی پورٹ کے ذریعے درآمد ہونے والی تمام اشیا پر لاگو ہوں گی خواہ وہ گلگت بلتستان کے استعمال کے لیے ہوں یا ملک کے دیگر حصوں کے لیے ہوں۔

مقبول خبریں