خیبرپختونخوا، کوہستان مالی اسکینڈل سے متعلق ایک اور رپورٹ سامنے آگئی

ادائیگیوں کے لیے غیرمجازچیک بکس استعمال کی گئیں، بعض چیکس پر جعلی دستخط اور مہریں لگانے کا انکشاف بھی ہوا ہے، رپورٹ


یاسر علی January 03, 2026
(فوٹو: فائل)

پشاور:

خیبرپختونخوا میں اپر کوہستان مالی اسیکنڈل سے متعلق دوسری ابتدائی رپورٹ سامنےآگئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کمپیوٹرائزد نظام کا صحیح استعمال نہ کرنے سے فراڈ کے موقع پیدا ہوئے اور بعض چیکس پر جعلی دستخط اور جعلی مہریں لگانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

خیبرپختونخوا کے محکمہ مواصلات وتعمیرات کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے رپورٹ جمع کرا دی، جس میں کہا گیا کہ ادائیگیوں سےمتعلق 2008 میں کمپوٹرائزڈ نظام ایس اے پی متعارف کیاگیا اور کمپوٹرائزڈ نظام کا صحیح استعمال نہ کرنے سے فراڈ کے مواقع پیدا ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ادائیگیوں کے لیے غیرمجاز چیک بکس استعمال کی گئیں، جاری کیےگئے چیکس کا محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

کوہستان مالی اسکیندل سےمتعلق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض چیکس پر جعلی دستخط اور جعلی مہریں لگانے کا انکشاف بھی ہوا ہے، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر اور اکاؤنٹ جنرل آفس نے درکار اسٹیٹمنٹس فراہم نہیں کیں۔

رپورٹ کے مطابق محکمانہ چھان بین کے بغیر معلوم ٹھیکداروں کو ادائیگیاں کی گئیں، ایکسین کوہستان نےکمیٹی کو 5 برس کی انٹرنل آڈٹ رپورٹ فراہم نہیں کی، نیشنل بینک داسو برانچ لین دین میں بے ضابطگیوں کا سراغ لگانے میں ناکام رہا۔

اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 2019 سے2024 تک محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے ایک ارب 48 کروڑ 90 لاکھ روپے جاری کیے، 5 برسوں میں جاری رقم میں سےصرف 89 کروڑ 12 لاکھ روپےکی تصدیق شدہ ڈیبٹ سامنےآئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اے جی آفس اسٹیٹمنٹس میں موجود مگر ڈویژنل ریکارڈ سے غائب ہے، چیکس کی نشان دہی کرے اور اسٹیٹمنٹس کو فرانزک تصدیق کے لیے لاہور لیب بھیجا جائے اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر سے تمام جاری چیک بکس اور ذمہ دار اہلکاروں کی فہرست طلب کی گئی ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ نیشنل بینک سے 5 سال میں سب ہیڈ جی 10113 کے تحت تمام ادائیگیوں کی تفصیلات مانگی گئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی اسکینڈل میں تاحال محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کےبراہ راست ملوث ہونےکے شواہد نہیں ملے، محکمےمیں ادارہ جاتی کنٹرول، آڈٹ طریقہ کار اور انتظامی نگرانی میں کوتاہیاں سامنے آئی ہیں۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ انکوائری کے نتائج کا انحصار درکار دستاویزات اور فرانزک شواہد کی بروقت وصولی اور جانچ پڑتال پر ہوگا۔

مقبول خبریں