دنیا بھر میں اس وقت وینزویلا کے گرد گھومتی امریکی کارروائی زیرِ بحث ہے، اور اسی تناظر میں سوشل میڈیا پر تبصروں، میمز اور طنزیہ جملوں کی بھرمار دیکھنے میں آ رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹروتھ سوشل پر وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف کارروائی اور ملک کے وسیع تیل ذخائر سے فائدہ اٹھانے کے دعوے نے عالمی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی۔
اسی شور میں ایک غیر متوقع مگر نہایت دلچسپ آواز آئس لینڈ کرکٹ کی جانب سے سامنے آئی، جس کی ایک پوسٹ نے سوشل میڈیا صارفین کو چونکا بھی دیا اور محظوظ بھی کیا۔ آئس لینڈ کرکٹ نے ایکس پر لکھا کہ وینزویلا کے پاس تیل ہے، گرین لینڈ کے پاس نایاب معدنیات ہیں، جبکہ خوش قسمتی سے آئس لینڈ کے حصے میں صرف آتش فشاں، گلیشیئرز اور اوسط درجے کے کرکٹرز آئے ہیں۔
یہ مختصر مگر گہرا طنز فوراً وائرل ہوگیا۔ پوسٹ کو اب تک ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد افراد لائیک کرچکے ہیں جبکہ اس کے ایمپریشنز 38 لاکھ سے تجاوز کرگئے ہیں۔ صارفین نے اس پر دلچسپ اور مزاحیہ تبصرے بھی کیے۔
ایک صارف سنگیتا نے لکھا کہ زیادہ فکر کی ضرورت نہیں، سنا ہے ٹرمپ برف پر گولف کورس بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
خالدہ تسنیم نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ پھر تو آئس لینڈ مکمل طور پر محفوظ ہے۔
ایک اور صارف گیلسون لُز نے تبصرہ کیا کہ آئس لینڈ ہمیشہ عالمی ہلچل سے دور رہنا پسند کرتا ہے، جہاں قدرت خود روشنیوں کا شاندار مظاہرہ کرتی ہے اور ایک ایسی کرکٹ ٹیم موجود ہے جو اتنی اوسط درجے کی ہے کہ دلکش لگتی ہے، بہترین بننے کا کوئی دباؤ نہیں، بس پکنک کا بہانہ کافی ہے، خاص طور پر جب آتش فشاں خاموش ہوں۔
حیدرآبادی نامی اکاؤنٹ نے امریکی خارجہ پالیسی پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ امریکا کی پالیسی بہت سادہ ہے: آپ کے پاس کیا ہے، اس کا مالک کون ہے، اور یہ ابھی تک امریکا کے پاس کیوں نہیں؟
جبکہ رانگو نامی صارف نے کہا کہ آئس لینڈ کرکٹ کا اکاؤنٹ کئی کیبل نیوز چینلز سے زیادہ عالمی معاملات کی سمجھ رکھتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ایک پوسٹ پر ہی آئس لینڈ کرکٹ رکا نہیں۔ بعد ازاں مزید مزاحیہ بیانات بھی سامنے آئے، جن میں کہا گیا کہ اگر وہ کبھی آئی سی سی کے ایکس اکاؤنٹ پر پرامن قبضہ کرلیں تو عالمی کرکٹ اور پالیسی کی سمت ہی بدل سکتی ہے۔
ایک اور پوسٹ میں انہوں نے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ لوگ کہتے ہیں وہ محض ایک آن لائن اکاؤنٹ ہیں، مگر یہی تو منصوبہ ہے، پہلے مداح بناؤ، کرکٹرز خود ہی سامنے آ جائیں گے۔
مزاح کا سلسلہ یہاں بھی ختم نہ ہوا۔ ایک اور پوسٹ میں آئس لینڈ کرکٹ نے طنزیہ وضاحت کی کہ جی ہاں، وہ آنے والے ٹی 20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی جگہ لے سکتے ہیں، اور نہیں، انہیں سیکیورٹی یا فلاح و بہبود کے کوئی خدشات نہیں، شاید کھلاڑیوں کو ہوں، مگر انتظامیہ کو نہیں۔
آئس لینڈ کرکٹ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وینزویلا سے متعلق پوسٹ کے بعد ان کے فالورز کی تعداد میں ہزاروں کا اضافہ ہوا ہے۔ اسی پوسٹ کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے انہوں نے ہنستے ہوئے لکھا کہ کھلاڑیوں نے لفظوں کے انتخاب پر اعتراض کیا ہے؛ انہیں ’بہت اوسط درجے کا‘ کہلانا پسند نہیں، وہ خود کو ’سنجیدگی سے متاثر نہ کرنے والا‘ کہنا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں۔
واضح رہے کہ وینزویلا میں امریکی حملے کے بعد صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور ملک سے منتقلی نے تیل کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق وینزویلا کے پاس عراق سے بھی زیادہ تیل موجود ہے، جبکہ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق وہاں تقریباً 303 ارب بیرل خام تیل کے ذخائر ہیں، جو دنیا کے مجموعی ذخائر کا لگ بھگ پانچواں حصہ بنتے ہیں۔ ایسے سنگین عالمی حالات میں آئس لینڈ کرکٹ کی طنزیہ آواز نے سوشل میڈیا کو لمحہ بھر کے لیے ہی سہی، مگر مسکراہٹ ضرور دے دی۔