ماضی میں اہل دانش،علمی اور فکری حلقوں میں نئی اور پرانی نسل کی سیاسی ،سماجی اور معاشرتی سوچ کے درمیان تناؤ اور خلیج پر بہت زیادہ بحث سننے کا موقع ملتا تھا۔
ایک عمومی رائے یہ ہی تھی کہ پرانی نسل اور نئی نسل کے لوگ ایک دوسرے کے مسائل ، سوچ ،فکر اور خیالات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور ان میں ٹکراؤ دیکھنے کو ملتا تھا۔لیکن اب مسئلہ محض پرانی یا نئی نسل کے درمیان معاملات تک محدود نہیں رہا بلکہ ہمیں اب عمروں کے مختلف مراحل کے درمیان نئی سیاسی کشمکش دیکھنے کو مل رہی ہے اور اس کشمکش نے انہیں ایک دوسرے کے مقابلے میں کھڑا کردیا ہے۔
لوگ ایک دوسرے کے خیالات کو نئے جدید تقاضوں کے مطابق سمجھنے کے لیے تیار نہیں اور اس کے مقابلے میں ہم ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کی مدد سے آگے بڑھ رہے ہیں ۔آج کل عالمی اور ہمارے خطے سمیت ملکی سطح پر نئی اور پرانی نسل کے تناظر میں نئی بحثیں جنم لے رہی ہیں اور ان بحثوں کی بنیاد پراپنے اپنے سیاسی فریم ورک کی بنیاد پر اپنا اپنا تجزیہ حکومت اور معاشرے کے بارے میں پیش کیا جا رہا ہے۔
لیکن اس بحث کو سمجھنے کے لیے عالمی سطح پر جو مختلف نوعیت کی اصطلاحات استعمال ہو رہی ہیں پہلے اس کی تعریف اور پس منظر کو سمجھنا ہوگا۔اس بحث میں جنریشن زی،جنریشن وائی ،جنریشن ایکس ،جنریشن الفا جیسے لفظوں پر بہت زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ جنریشن بومرز جو 1946ء سے1964ء تک کے وہ لوگ ہیں جن کی عمریں ساٹھ برس سے زیادہ ہیں ۔
اسی طرح ایکس میں وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جوعملًا 1965ء سے 1980ء کے درمیان پیدا ہوئے اور ان کی عمرڈیجیٹل دنیا کے مقابلے میں پرانی سوچ سمیت روائتی خیالات پر مبنی ہے ۔ جنریشن وائی میں وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جو 1981ء سے 1996ء میں پیدا ہوئے ہیں اور جن کی عمر میں ڈیجیٹل دنیا کا بنیادی ابتدائی عمل شروع ہوا تھا ۔جنریشن زی میں وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جو 1997سے 2012کے درمیان پیدا ہوئے ہیں اور یہ عملاً ایک ڈیجیٹل دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں یا انقلاب سے جڑے ہوئے لوگ ہیں ۔جب کہ جنریشن الفا میں وہ لوگ شامل ہیں جو 2010ء سے 2024ء میں پیدا ہوئے ہیں اور 2026ء میں یہ بچے یا بچیاں سولہ برس کے درمیان ہونگے ۔
یہ نسل پہلی نسل ہے جو عملی طور پر ڈیجیٹل دنیا میں سامنے آئی ہے اور اس کے سامنے مصنوعی ذہانت جیسے میدان بھی موجود ہیں۔ان کو عمومی طور پر پیڈ کٹس یا اسکرین نیٹو بھی کہتے ہیں ۔توقع کی جا رہی ہے کہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی نسل ہوگی اور مستقبل میں اے آئی، روبوٹکس اور ڈیجیٹل معیشت پر یہ لوگ غالب آئیں گے اور مستقبل بھی ان ہی عمر کے لوگوں سے جڑا ہوا ہے۔اسی طرح جو نسل اب 2026ء میں پیدا ہورہی ہے اسے جنریشن Betaکہا جارہا ہے اور مزید نئی سوچ اور فکر کے ساتھ دنیا میں سامنے آئے گی۔
یہ جو نئی نسل کے لوگ ہیں جن کی عمریں 15سے 35برس کی ہیں ان کے سامنے جو دنیا ہے اس میں نظریات،فلسفہ ،عقائد اور دائیں یا بائیں بازو پر مبنی سوچ بھی نہیں ہے ۔ان کے چیلنجز ماضی کی نسل سے مختلف ہیں۔وہ معاشی بنیادوں پر خود کو مضبوط اور مستحکم کرکے بہتر زندگی کا خواب دیکھتے ہیں یا ان کے سامنے ان کے حالات کی درستگی میں موجودہ سیاسی ،سماجی، معاشی ،قانونی اور تحفظ کا نظام سمیت حکمران طبقات کے دوہرے معیارات ،تضادات ،فرسودہ حکمرانی کا سیاسی اور معاشی نظام ،گورننس جیسے سنگین مسائل چیلنجز کے طور پر موجود ہیں۔
یہ ہی وجہ ہے کہ یہ لوگ حکمرانی کے نظام سے جہاں نالاں ہیں وہیں طاقت ور طبقات کا نظام ان میں محرومیوں کی سیاست کو جنم دے رہا ہے۔ایسا نظام جہاں نہ تو ان کی آوازوں کو سنا جارہا ہے اور نہ ہی ان کے مسائل کے حل میں انہیں حکمران طبقات کی جانب سے کوئی خاص سنجیدہ کوشش دیکھنے کو ملتی ہے۔یہ ہی وجہ ہے ان میں جہاں اپنے مسائل کے تناظر میں ایک خاص ردعمل کی سیاست پیدا ہورہی ہے وہیں حکومت اور اس نئی نسل کے درمیان موجود بداعتمادی یا خلیج کا پہلو بھی دیکھنے کو مل رہا ہے ۔یہ لوگ اس ملک میں اپنا مستقبل محفوظ نہیں سمجھتے اور حالات کی بہتری کے لیے وہ ملک چھوڑ چکے یا چھوڑنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ باہر کی دنیا میں بھی ان کو بہت سے سنگین مسائل کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود وہ ملک چھوڑ کر باہر جانا چاہتے ہیں ۔
اس نسل کے پاس ماضی کے بزرگوں کے مقابلے میں آج کی دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ڈیجیٹل میڈیا کی صورت میں موجود ہے ۔وہ اپنی سوچ اور خیالات کے اظہار کے لیے رسمی یعنی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے محتاج نہیں بلکہ ان کے پاس اپنے اظہار کے لیے ڈیجیٹل دنیا کی صورت میں مختلف آپشن ہیں اور وہ موجودہ روائتی اور فرسودہ نظام کو ہر سطح پر چیلنج کررہے ہیں ۔ان کے اظہار میں بہت سے منفی پہلو بھی ہیں یا لفظوں کے چناؤ میں ان کے پاس جہاں تنقید ہے وہیں وہ طاقت ور طبقات کے بارے میں تضحیک کا پہلو بھی استعمال کرتے ہیں۔
اسی طرح کیونکہ وہ اب ایک ریاست کے جہاں شہری ہیں وہیں وہ اب گلوبل دنیا کے شہری بھی ہیں اور ان کی معلومات تک رسائی ماضی کے لوگوں سے جہاں مختلف ہے وہیں وہ جدید بنیادوں پر خود کو معلومات تک پہنچا کر اپنی اپنی سطح پر سیاسی تبدیلی کے لیے بھی کوشاں ہیں ۔اس لیے اس وقت جو بھی سیاسی قوت حکمرانی کرنے کی کوشش کررہی ہے اس کی ساکھ اس نئی نسل میں متاثر ہورہی ہے اور لوگ ان کی سیاست کو ہر سطح پر چیلنج کر رہے ہیں ۔
یہ نئی نسل جنگوں اور ٹکراؤ کے مقابلے میں ایک ایسی معیشت کا خواب دیکھ رہی ہے جو ان کے اور ان کے خاندان کے مسائل حل کر سکے اور وہ اسی دنیا میں ایک بہتر زندگی گزار سکیں۔اس نسل کے سامنے جہاں معاشی ناہمواریاں ہیں وہیں روزگار کا نہ ہونا یا ان میں معاشی عدم تحفظ یا آمدنی اور اخراجات میں بڑھتا ہوا عدم توازن اور نئی صنعتوں کا فقدان نظر آتا ہے ۔اسی بنیاد پر ان میں جہاں عدم تحفظ کا احساس ہے تو اس کے نتیجے میں ان میں ڈپریشن ، بے سکونی اور لاتعلقی کا احساس بڑھ رہا ہے۔
ان کی تعلیمی میدان میں ڈگریاں بھی اپنی اہمیت کھوتی جارہی ہیں اور مارکیٹ اور ڈگری کی ضروریات کے درمیان اہمیت کا کم ہونا یا تعلیمی نظام کا خود کو جدید سطح پر منظم نہ کرنا بھی چیلنج بن گیا ہے ۔اسی وجہ سے نئی نسل میں منشیات اور خود کشی کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے اور ان کو لگتا ہے کہ موجودہ نظام ان کی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہے ۔دوسری طرف جب ان کے سامنے طاقت ور اشرافیہ کا نظام ،رہن سہن اور ان کا شاہانہ طرز ندگی دکھائی دیتا ہے تو ان کے اندر غصہ کا پیدا ہونا فطری امر بن جاتا ہے یا جب وہ میرٹ کے مقابلے میں سیاسی اقربا پروری یا ملکی سطح پر کرپشن اور لوٹ مار کا نظام دیکھتا ہے تو اس میں محرومی کی سیاست کا پیدا ہونا ناگزیر ہے ۔
اسی طرح ان کو اپنے سے بڑوں چاہے ان کا تعلق طاقت ور اشرافیہ سے ہی ہو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ یہ نسل جاہل،نکمی ،کام چور اور محنت سے گریز کرتی ہے ۔اسی طرح ایک طرف کہا جاتا ہے کہ یہ دور ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کا ہے تو دوسری طرف ہمارے جیسے ملکوں میں ان کی ڈیجیٹل دنیا یعنی انٹرنیٹ تک کی سہولیات کی مکمل رسائی کا نہ ہونا یا حکومتی سطح پر ان کے لیے روزگار پیدا کرنے کی بجائے ان کے لیے خیراتی منصوبے دکھائی دیتے ہیں جس سے ان میں سخت ردعمل پایا جاتا ہے ۔
اس نسل کا مقابلہ طاقت یا فرسودہ نظام حکومت یا پرانے خیالات اور سوچ کی بنیاد پر ممکن نہیں ۔اس لیے سیاسی ،سماجی ،معاشی ،انتظامی اور قانونی نظام کا جائزہ لے کر اس نئی نسل کے مسائل کو سمجھ کر ایک نئی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو نئی نسل کو ریاستی نظام کے ساتھ جوڑسکے۔