کراچی:
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے پاکستان کاٹن ایکسچینج کی عمارت کی ملکیت کے تنازع سے متعلق درخواست پر کے ایم سی کے حق میں حکم امتناع جاری کردیا۔
ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو پاکستان کاٹن ایکسچینج کی عمارت کی ملکیت کا تنازع سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب اپنے وکیل حیدر وحید ایڈووکیٹ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔
وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ کاٹن ایکسچینج کی عمارت کو سیل کردیا گیا۔ اس سلسلے میں 13 دسمبر کو ایف آئی آر بھی درج کردی گئی ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے عمارت سیل کرنے اور ایف آئی آر درج کرنے کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ آئندہ سماعت تک ایف آئی آر پر کوئی کارروائی نہ کی جائے۔
حیدر وحید ایڈووکیٹ نے مؤقف دیا کہ کاٹن ایکسچینج کی عمارت کو ایف آئی اے نے 12 دسمبر کو سیل کیا تھا۔ ایف آئی اے کے مطابق ای ٹی پی بی کی معاونت اور سپریم کورٹ ہدایات پر کارروائی کی گئی۔ کاٹن ایکسچینج کے مختلف حصے غیر رسمی طور پر متعدد کرایہ داروں کو دیے گئے۔
بعد ازاں عدالت نے کے ایم سی کے حق میں حکم امتناع جاری کرتے ہوئے ایف آئی اے کو درج مقدمے پر کارروائی سے بھی روکتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیے اور 9 جنوری کو جواب طلب کرلیا۔
واضح رہے کہ کے ایم سی نے درخواست میں ایف آئی اے، متروکہ املاک بورڈ اور چیف سیکریٹری سمیت دیگر کو فریق بنایا تھا۔