امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی بیوی سلیا فلورس کی گرفتاری کے دوران امریکی فوجی کارروائی میں "بہت سے، بہت سے" کیوبائی ہلاک ہوئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کیوبا کے حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ وینزویلا میں امریکی حملے اور صدارتی محل میں آپریشن کے دوران 32 کیوبائی فوجی مارے گئے۔
کیوبائی حکام نے واضح کیا کہ امریکی کارروائی میں ہلاک ہونے والے یہ کیوبائی فوجی وینزویلا کے صدر مادورو کے تحفظ یا حکومت کی درخواست پر بھیجے گئے تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی حملے کے وقت یہ تمام افراد وینزویلا کے صدر مادورو کے صدارتی محل کے کمپاؤنڈ میں موجود تھے۔
کیوبا کی وزارت خارجہ نے ان ہلاکتوں کو عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہلاکتیں بلاجواز اور قابل افسوس ہیں۔
وینزویلا نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ 3 جنوری کے امریکی حملے میں ہمارے کم از کم 23 فوجی اہلکار بھی مارے گئے۔
اس طرح امریکی حملے میں وینزویلا کے اندر کم از کم 55 فوجی مارے گئے جب کہ صرف ایک یا دو امریکی اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اعتراف کیا کہ کارروائی کے دوران "بہت سے، بہت سے" کیوبائی ہلاک ہوئے مگر انہوں نے اسے "شاندار" فوجی کارروائی بھی قرار دیا۔
ٹرمپ کے بیان میں واضح ہے کہ یہ کیوبائی شہری نہیں بلکہ فجی تھے یعنی یہ افراد صدر مادورو کی سیکیورٹی پر مامور محافظ ہوسکتے ہیں۔
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مارے گئے کیوبائی افراد صدر مادورو کے کمپاؤنڈ میں تھے اس لیے یہ گارڈز بھی ہوسکتے ہیں۔
یاد رہے کہ 3 جنوری کو امریکی اسپیشل خصوصی ٹیم نے وینزویلا میں صدارتی محل میں گھس کر بیڈروم سے نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لیا۔
امریکی اہلکار وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو گھسیٹتے ہوئے بیڈ روم سے کمپاؤنڈ میں لائے اور ہیلی کاپٹر میں بٹھا کر سمندر میں منتظر بحری جہاز پر لے گئے۔
یہ بحری جہاز وینزویلا کے صدر اور خاتون اوّل کو سیکیورٹی حصار میں امریکا لے گیا جہاں دونوں کو اگلے روز نیویارک کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت نے نکولس مادورو پر منشیات دہشتگردی، کوکین کی سپلائی اور امریکا کے خلاف سازش جسے جرائم عائد کیے۔
نکولس مادورو نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مجھے گرفتار نہیں بلکہ اغوا کیا گیا اور میں اب بھی وینزویلا کا صدر ہوں۔
ان کی اہلیہ نے بھی عدالت میں الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض سیاسی مقدمات ہیں جن کا مقصد وینزویلا کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔