سسٹم کی اصلاح اور سیاسی ترجیحات

اصلاح سے مراد سسٹم میں موجود وہ معاملات جو بگاڑ کا شکار ہوتے ہیں اور ان میں اصلاح کی گنجائش بھی ہوتی ہے


سلمان عابد January 07, 2026
[email protected]

اصلاحی سیاست بنیادی طور پر معاشرے میں مثبت تبدیلیوں کے اسباب اور امکانات کو پیدا کرنے کا سبب بن کر سماج کو ترقی کے عمل میں شامل کرتی ہے۔ اصلاح سے مراد سسٹم میں موجود وہ معاملات جو بگاڑ کا شکار ہوتے ہیں اور ان میں اصلاح کی گنجائش بھی ہوتی ہے اس میں بہتری پیدا کرنا تاکہ لوگوں کی روزمرہ زندگیوں سمیت دیگر معاملات میں آسانیاں پیدا کرنا ہے۔

شعبدہ بازی یا پوائنٹ اسکورنگ کو ہی سیاست سمجھا جائے ہو تو اس کے نتیجے میں مثبت و پائیدار ترقی کا عمل بہت پیچھے رہ جاتا ہے ۔یہ عمل حقیقی تبدیلی کا راستہ روکتا ہے اور لوگوں کو عارضی حل دہ کر مستقل بنیادوں پر اپنا محتاج بناتا ہے۔بنیادی طور پر تبدیلی کا عمل سیاسی یا انتظامی سمیت قانونی ،معاشی بنیادوں پر ادارہ جاتی ترقی اور شفافیت کے نظام کے ساتھ جڑا ہوا عمل ہے۔یعنی افراد کی ترقی کو ممکن بنانا ہو تو وہ اسی صورت میں ممکن ہوتی ہے جب آپ کے سسٹم میں صلاحیت، قابلیت، شفافیت،جوابدہی ،نگرانی سمیت قانون یا آئین کی حکمرانی کا تصور باقی تمام معاملات میں بالادستی رکھتا ہو۔

پاکستان کا طبقہ اشراف عمومی طور پر اصلاحات کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے ۔اس کے خیال میں اگر سسٹم مضبوط،مربوط ،خود مختارا ور شفاف ہوگا تو ہمیں بطور طبقہ اشرافیہ سسٹم کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا جو ہمیں کسی صورت قبول نہیں اور ہم اسے اپنی بڑی سیاسی طاقت کے ساتھ روکیں گے۔یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں قانون اور حکمرانی کا نظام کسی کو بھی اپنی گرفت میں لینے سے پہلے اس کی سیاسی اور گروہی طاقت کو جانچتا ہے اور اسی بنیاد پر اس کے حق یا مخالفت میں فیصلہ کرتا ہے۔

اس ملک کا جو مضبوط طاقت ور طبقہ ہے وہ بنیادی طور پر حکومتی اداروں کو اپنے طبقاتی مفاد کے حق میں استعمال کرتا ہے ۔اسی بنیاد پر طاقت ور طبقہ حکمرانی کے کھیل کا حصہ بن کر ریاستی اور حکومت کے نظام پر اپنی سیاسی گرفت کو مضبوط بناتا ہے ۔

یہ ہی وجہ ہے کہ وفاق سے لے کر صوبوں اور صوبوں سے لے کر اضلاع اور اضلاع سے تحصیل یا گاؤں یا یونین کونسل کی سطح تک یا اوپر سے لے کر نیچے تک گورننس یا حکمرانی پر اسی طبقے کا کنٹرول نظر آتا ہے۔18ویں ترمیم کے باوجود نہ تو ہم نے صوبوں سے لے کر اضلاع کو سیاسی ،انتظامی یا مالی اختیارات دیے اور نہ ہی اضلاع کی خود مختاری کو قبول کیا۔اسی حکمت عملی کے تحت صوبائی نظام یا صوبائی حکومتیں عوام کے سامنے خود کو بڑی جوابدہی کے طور پر پیش نہیں کرسکی ہیں۔

تعلیم،صحت،بیوروکریسی،پولیس،انتظامیہ، قانون یا عدالتی اصلاحات ہماری سیاسی ترجیحات کا حصہ نہیں بن سکی ہیں ۔ جمہوریت کے مقابلے میں آمریت یا بیوروکریسی کا کنٹرول نظام میں بالادست ہے اورسیاست کا بیوروکریسی سے بنا ہوا باہمی گٹھ جوڑ نے عملا لوگوں کے بنیادی مسائل کو اور زیادہ بگاڑ دیا ہے۔

نج کاری کے نام پر سرکاری اداروں کو کمزور کرنا اور اسے عوامی مفاد کے مقابلے میں سرمایہ داروں کے مفادات کے تابع کرنا اور ان کے درمیان عدم ریگولیٹ پر مشتمل غیر شفافیت کے نظام نے لوگوں کو اپنی عملی زندگیوں میں ایک مشکل جگہ پر کھڑا کردیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتیں ادارہ جاتی عمل میں سخت گیر اصلاحات کی بجائے ان ہی کے اندر متبادل ادارے یا نظام تشکیل دے کر ایک ادارے کے مقابلے میں دوسرا ادارہ کھڑا کرکے قومی خزانے کو برباد کررہے ہیں ۔اگر ہم دیکھیں تو اس وقت ہمارا سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ اس قدر بھاری بھرکم ہوگیا ہے اور اس کی بنیاد پر برے طریقے سے ریاستی و حکومتی وسائل کو برباد کیا جارہا ہے، وہ ایک الگ کہانی ہے۔

اصل میں ہمارے حکمران طبقات چاہے وہ آج کے حکمران ہوں یا ماضی کے وہ مستقبل کی سیاسی دوراندیشی کے مقابلے میں وقتی سیاسی مفادات کے تابع ہوتے ہیں ۔اس لیے حکمران طبقہ کی ترجیحات لانگ ٹرم بنیادوں پر سوچنا نہیں بلکہ وہ کچھ اس قسم کے کام کرنے کے عادی ہوتے ہیں کہ ان کو فوری طور نہ صرف سیاسی فائدہ ہو بلکہ ان کی سیاسی تشہیر ہو اورو ہ لوگوں میں مصنوعی سطح کے منصوبوں کی بنیاد پر خود کو مقبول یا پاپولر لیڈر شپ کے طور پر پیش کرسکیں ۔

ایک طرف صوبائی سطح پر مقامی حکومتوں کی خود مختاری یا اس نظام پر سمجھوتے کی سیاست تو دوسری طرف چھوٹے چھوٹے منصوبوں کی بجائے بڑے بڑے میگا منصوبے جن کی لاگت اربوں اور کروڑوں کی ہے، اس پر توجہ دے کر مال کمانے تک محدود ہے۔ صوبوں یا اضلاع کی سطح پر عوامی ترقی کو بنیاد بنا کر کوئی ایسا واضح اور شفاف روڈ میپ موجود نہیں جو لوگوں کے آج کے حالات میں بہتری پیدا کرسکے۔ ہم ترقی کو محض وقتی فائدہ یا ردعمل کی سیاست کی بنیاد پر دیکھ رہے ہیں اور ہماری ترقی کا فریم ورک بھی بڑے شہروں تک محدود ہے اور اس ترقی میں عملا انفراسٹرکچر کی تبدیلی تو ہوتی ہے مگرانسانی ترقی کا ایجنڈا بہت پیچھے ہوتا ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ وفاق اور صوبوں کی سطح پر جو ہمارے سماجی ترقی کے سرکاری اعداد وشمار ہیں ، اس میں مختلف نوعیت کی تفریق ،تضاد اور ٹکراو سمیت صنفی بنیادوں یا کمزور طبقات کی ترقی میں واضح فرق یا خلیج ہی کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔انسانی ترقی کے بے شمار منصوبے حکومت اپنی سیاسی تشہیر کے لیے شروع تو کرتی ہیں یا ان پر پالیسی ،قانون سازی یا ادارے توبنادیے جاتے ہیں مگر حکومتی سطح پر ان کو مالی وسائل کی عدم فراہمی اور بجٹ کی سیاست میں ان کا کم حصہ ہونا عملا سماجی ترقی کے شعبوں کو برباد کررہا ہے۔

اس پر سوہنے پر سہاگہ کہ ہم وفاقی اور صوبائی نظام پہلے سے موجود ریاستی یا حکومتی اداروں کو نظرانداز کرکے اسے اتھارٹیوں اور کمپنیوں کی بنیاد پر چلارہے ہیں جس سے جہاں عوامی مشکلات بڑھی ہیں وہیں سیاسی نظام کا کمزور ہونا اور عملی طور پر بیوروکریسی کا مضبوط ہونا ہماری ناکامیوںکو مزید بڑھا رہا ہے۔یہ عمل پہلے سے موجود اداروں کی افادیت کو بھی کمزور کررہا ہے اوراب ان اداروں کی موجودگی قومی خزانے پر بوجھ کی حیثیت اختیار کرگئی ہے۔

ہماری مجموعی ترقی کی سوچ اور فکر لوگوں یا کمزور طبقات کے مجموعی سیاسی ،سماجی اور معاشی حیثیت کو مضبوط بنانا نہیں بلکہ ان کو ریاست و حکومت کے نظام کے اندر بھکاری بنا کر پیش کرنے تک محدود نظر آتی ہے۔ہم لوگوں کے نئے نئے اور چھوٹے چھوٹے معاشی منصوبوں یا مقامی سطح پر چھوٹی صنعتوں کو فروغ دینے کی بجائے لوگوں کی ریاست اور حکومت کے نظام کے سامنے لمبی لمبی قطاروں اور ان کو مختلف مد میں مدد کرنے پر ان کے ساتھ تصاویر یا ڈیجیٹل میڈیا کی مشہوری تک محدود ہے ۔لوگوں کو بتایا جارہا ہے یا ان کو سب کے سامنے دکھایا جارہا ہے کہ یہ طبقات ہمارے محتاج ہیں اور ہم ان کو مستقل معاشی ترقی کے عمل میں شامل کرنے کی بجائے اپنی ذات تک محدود رکھنا چاہتے ہیں ۔

یہ عمل کسی بھی طور پر لوگوں کو معاشی بنیادوں پر نہیں کھڑا کرسکے گا۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اس ملک میں نہ صرف غربت اور محرومی کی سیاست سمیت معیشت بڑھ گئی ہے بلکہ معاشی بدحالی اور خوراک کے بحران یا مہنگائی نے لوگوں کی بہتر زندگی تک رسائی کو مشکل بنادیا ہے۔ آمدنی اور اخراجات کے موجود عدم توازن نے غریب تو کجا خود مڈل اور اپر مڈل کلاس کو ایک بڑے بحران میں دکھیل دیا ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول، ڈیزل،مٹی کا تیل،مہنگائی اور ادویات کی مہنگی قیمتیں اس وقت عوامی سطح پر بڑے چیلنج بن گئے ہیں۔لیکن حکمرانی کا نظام نہ تو سیاسی اور معاشی حقایق کو تسلیم کرنے کو تیار ہے اور نہ ہی اپنی طرز حکمرانی میں تبدیلی کا بڑا سیاسی ایجنڈا نظر آتا ہے۔

وفاقی مرکزیت یا صوبائی مرکزیت تک محدود نظام اور عدم مرکزیت سے انحراف کی پالیسی نے اس ریاست اور حکومت کے نظام کو ایک مشکل نظام میں ڈال دیا ہے اور اس نظام میں لوگ جہاں مایوس ہیں وہیں تنہائی اور لاتعلقی کا احساس بھی ان میں بڑھ رہا ہے۔ ایک طرف بیانات دیکھیں توایسے لگتا ہے کہ پاکستان کسی ماڈرن ریاست کی شکل پیش کررہا ہے مگر جب عوام بیانات کی دنیا سے باہر نکل کر دیکھتے ہیں تو اس میں ان کو سماجی ،معاشی اور انصاف کی غربت دیکھنے کو ملتی ہے ۔بالخصوص اس ملک کی آبادی کا ایک بڑا طبقہ جو نوجوانوں پر مشتمل ہے ، اس کے مسائل کے حل میں کوئی سنجیدگی کا پہلو نہیں بلکہ ہمیں نئی نسل کی ترقی پر سیاسی تماشہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہ تماشہ نوجوانوں کو جہاں مایوس کررہا ہے ، وہیں ان میں لاتعلقی کو پیدا کرکے ان کو ردعمل کی سیاست کی طرف دکھیل بھی رہا ہے۔

مقبول خبریں