وکلاء قیادت کی ذمے داری

وکلاء برادری کا اس ملک میں جمہوریت کی بحالی، آزاد عدلیہ اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے تناظر میں تاریخی کردار رہا ہے


[email protected]

سٹی کورٹ، کراچی میں ایک ٹک ٹاکر پر وکلاء کے تشدد سے انصاف دلانے والے کارکنوں کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ عدالت کے احاطے میں اس طرح کے واقعات سے عدلیہ کی آزادی کی تحریک کو بھی دھچکا لگا۔ سند ھ کے وزیر قانون ضیاء النجار جو سندھ بارکونسل کے رکن بھی ہیں، نے سندھ کے چیف جسٹس ظفر راجپوت کو ایک خط بھی لکھا ہے۔ سندھ بار کونسل کے قانون کے مطابق سندھ بار کونسل تشدد میں ملوث وکلاء کا لائسنس منسوخ کرسکتی ہے ۔ تشدد میں ملوث وکلاء کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہوئے مگر ہڑتال ہوگئی اور اب اطلاعات آئی ہیں کہ یہ معاملہ پنجاب بار کونسل تک پہنچ گیا ہے ، البتہ ایک وکیل کا لائسنس معطل ہوا، مگر بار کی تاریخ شاہد ہے کہ وکلاء کے خلاف عموماً کارروائی نہیں ہوتی ۔

وکلاء برادری کا اس ملک میں جمہوریت کی بحالی، آزاد عدلیہ اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے تناظر میں تاریخی کردار رہا ہے۔ سندھ کے وکلاء نے صوبہ کے حقوق کے لیے بڑی جدوجہد کی ہے۔ جب 2007 میں سابق صدر پرویز مشرف نے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ان کے عہدے سے معزول کیا اور انھیں نظر بندکردیا گیا تو پاکستان کے وکلاء نے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے لیے تاریخی جدوجہد کی تھی۔ منیر اے ملک، بیرسٹر اعتزاز احسن، عاصمہ جہانگیر، رشید اے رضوی، علی احمد کرد اور حامد خان وغیرہ اس تحریک کو منظم کرنے والوں میں شامل تھے۔

اس تحریک کے دوران وکلاء کی قیادت سمیت پورے ملک سے سیکڑوں وکلاء گرفتار ہوئے تھے۔ جب جسٹس افتخار محمد چوہدری کراچی آئے تو کراچی میں مختلف مقامات پر فائرنگ سے 10 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ شہر کی تمام سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی گئی تھیں۔ افتخار چوہدری اور ان کے ساتھ آنے والے وکلاء کے کراچی میں داخلے پر پابندی لگادی گئی تھی اور یہ قافلہ واپس اسلام آباد چلاگیا، یہ تحریک گاؤں گاؤں تک پہنچی تھی۔ اس زمانہ میں نجی چینلز نے پہلی دفعہ وکلاء تحریک کو 24 گھنٹوں تک اپنی اسکرین پر جگہ دے کر رائے عامہ کو ہموار کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ ٹیلی وژن چینلز کا کسی عوامی تحریک کو اجاگر کرنے کا یہ پہلا موقع تھا۔ بہرحال انھیں حالات میں دسمبر 2007میں بے نظیر بھٹو راولپنڈی میں شہید ہوئیں۔ ملک میں عام انتخابات منعقد ہوئے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے مابین ججوں کی بحالی کے بارے میں مری میں ایک معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت تمام جماعتیں پرویز مشرف کے مواخذے پر متفق ہوئی تھیں۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کے لیے لاہور سے اسلام آباد مارچ شروع کیا مگر یہ مارچ گوجرانوالہ پہنچا تھا کہ جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی خبر آگئی ۔ اگرچہ یہ تحریک عدلیہ کی آزادی کے لیے چلائی گئی تھی مگر معاملہ صرف جسٹس افتخار چوہدری اور ان کے ساتھی چند ججز کی بحالی تک محدود رہا۔ انھوں نے روزانہ فیصلوں کے ذریعے ایک متوازی حکومت قائم کر لی۔ اب پورے ملک میں وکلاء منظم گروہوں کی صورت میں نظر آنے لگے۔ المیہ یہ ہوا کہ یہ وکلاء جمہوری کلچر کو قبول نہ کرسکے۔

وکلاء نے اب ماتحت عدالتوں میں دباؤ ڈال کر اپنی مرضی کے فیصلے کرانے کی کوشش شروع کردی۔ ایک وقت ایسا آیا کہ ماتحت عدلیہ نے عدالتی کام جاری رکھنے سے انکار کردیا۔ پنجاب ہائی کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس صاحبان نے بڑی مشکل سے حالات کو بحال کیا۔ تحریک انصاف کے دور میں وکلاء گردی کا بدترین مظاہرہ سیکڑوں وکلاء کا لاہور کے امراض قلب کے اسپتال پر دھاوا بولنا تھا۔ اخبارات میں اس واقعے کی جو رپورٹیں شائع ہوئی تھیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ وکلاء جن میں خواتین وکلاء بھی شامل تھے، اسپتال کے آپریشن تھیٹر میں داخل ہوگئے اور وہاں  توڑ پھوڑ کی ۔

کئی وکلاء کے خلاف مقدمات بھی قائم ہوئے۔ بانی پی ٹی آئی کے بھتیجے جو لندن سے بیرسٹری کی سند لے کر آئے تھے ان وکلاء میں شامل تھے۔ لاہور پولیس نے اس مقدمہ میں بہت سے وکلاء کو گرفتار کیا تھا مگر پھر سارے وکلاء رہا ہوگئے۔ سب سے بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ وکلاء کی قیادت جو عدالتوں میں قانون کی بالادستی کے لیے روز دلائل دیتی تھی، اس موقع پر خاموش رہی بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کچھ سینئر وکلاء نے امراض قلب کے اسپتال پر حملے کو اس بات پر درست قرار دیا تھا کہ اس اسپتال کے ڈاکٹروں نے وکیلوں کی بے عزتی کی تھی۔

 پور ے معاشرے کی طرح وکلاء برادری میں بھی مذہبی انتہا پسندی شدت اختیار کرگئی، یوں ان کے مذہبی بیانیے سے انحراف کرنے والے افراد ان وکلاء کی نفرت کا شکار ہونے لگے۔ عجیب بات یہ ہے کہ جب بھی بار ایسوسی ایشن کے انتخابات ہوتے ہیں تو جو امیدوارکامیاب ہوتے ہیں ان کے حامی ہوائی فائرنگ کرتے ہیں۔ فائرنگ کرنے والوں میں خواتین وکلاء بھی شامل ہوتی ہیں اور یہ لوگ بڑے فخر سے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر ان وڈیوز کو اپ لوڈ کرتے ہیں۔ ایک سینئر وکیل کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی ذمے داری وکلاء تحریک کے قائدین پر عائد ہوتی ہے۔ محض انتخابات میں کامیابی کے لیے ایسے عناصرکی حوصلہ افزائی کی گئی ، یوں یہ گروہ پریشر گروپ کی صورت اختیار کرگئے ہیں۔ یہ پریشر گروپ بار کے انتخابات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

محض پریشرگروپ ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ ایک سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ کراچی بار نے آئین کی بحالی کے لیے تاریخی جدوجہد کی ہے۔ اس واقعے سے بار کا تشخص متاثر ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ بار کونسل کو اس واقعے کا نوٹس لینا چاہیے۔ ایک اور صحافی کا کہنا تھا کہ آئے دن وکلاء خود فریق بن کر اسی طرح پرائیوٹ سائلین پر عدالتوں کے احاطوں میں حملہ آور ہوںگے تو ان کی عزت میں بے پناہ کمی ہوگی۔ ان تمام تر تبصروں کے بعد یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح اجاگر ہے کہ جو وکلاء وکیلوں کی قیادت کرنا چاہتے ہیں، ان کی یہ ذمے داری ہے کہ اپنے ساتھیوں کو برداشت اور جمہوری کلچر سے روشناس کرائیں اور اگرکوئی وکیل قانون شکنی کا مرتکب ہو، تو اس کی حمایت نہ کی جائے۔

مقبول خبریں