تاریخ کے صفحات پر اگر غور سے نظر ڈالی جائے تو ہر جنگ کے پس منظر میں جہاں مردوں کی بہادری، سیاستدانوں کے فیصلے اور جنرلوں کی حکمتِ عملیوں کا ذکر ملتا ہے، وہیں پس منظر میں ایک ایسی آواز بھی ہوتی ہے جو کبھی ماں کی پکار ہوتی ہے،کبھی بیوی کا انتظار،کبھی بہن کی دعائیں اورکبھی بیٹی کی آنکھوں میں چھپے آنسو۔ وہ آواز ہے ایک عورت کی جو ہر جنگ میں سب سے زیادہ قربانی دیتی ہے مگر سب سے کم سنی جاتی ہے۔
جنگ کا میدان مردوں کا ہوتا ہے لیکن اس کی سب سے بھاری قیمت عورت ادا کرتی ہے۔ وہ صرف اپنے بیٹوں، شوہروں، بھائیوں اور باپوں کو نہیں کھوتی بلکہ اپنی عزت، اپنے گھر، اپنی شناخت اورکبھی کبھی اپنا وجود بھی کھو دیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی گولہ بارود کی بو پھیلی، عورت کی کوکھ زخمی ہوئی، اس کی آنکھیں آنسوؤں سے نم ہوئیں اور اس کے خواب خاک میں مل گئے۔
1947 کی تقسیم ہو یا بنگلہ دیش کی 1971 کی جنگ ہو،کارگل کی لڑائی ہو یا افغانستان، عراق اور فلسطین کے میدانِ کار زار ہر جگہ عورتوں نے وہ زخم سہے جو ان کے حصے میں نہیں آنے چاہیے تھے۔ تقسیمِ ہند کے وقت لاکھوں عورتیں اغوا ہوئیں، بے گھر ہوئیں، ان کی عصمتیں پامال ہوئیں اور ان کا گواہ نہ قانون بن سکا، نہ تاریخ کا ضمیر۔ ان کے دکھ کو صرف وہی محسوس کرسکتا ہے جو ایک ماں کے دل میں جھانک سکے، ایک بہن کے سناٹے کو سن سکے اور ایک بیوہ کے خاموش آنسوؤں کی زبان سمجھ سکے۔
جنگ میں عورت صرف ایک مظلوم نہیں، بلکہ ایک مورچہ بھی ہوتی ہے۔ وہ زخمیوں کے زخموں پر پٹیاں باندھتی ہے، وہ بچوں کو بھوکے پیٹ سلاتی ہے وہ انتظار کی صلیب پر دن رات ٹنگی رہتی ہے۔ وہ خود بھوکی ہو مگر اپنے بچوں کو دودھ دیتی ہے، وہ خود کانپ رہی ہو مگر اپنے شوہرکو میدانِ جنگ میں بھیجتے وقت مسکراتی ہے۔ ایسی قربانی کو اگر دنیا نے کم اہم جانا ہے تو یہ دنیا کی بڑی ناانصافیوں میں سے ایک ہے۔
آج کے دور میں جب جنگیں صرف توپوں اور ٹینکوں سے نہیں بلکہ نفسیاتی سماجی اور معاشی محاذوں پر بھی لڑی جا رہی ہیں عورت پر دباؤکی نوعیت بھی بدل گئی ہے۔ اب وہ صرف بمباری سے نہیں مرتی بلکہ غربت، ہجرت، بھوک اور بے یقینی کی کیفیت میں جیتی ہے اور مرتی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے کیمپوں میں کشمیرکے سائے تلے، افغانستان کے کھنڈرات میں، یوکرین کے میدانوں میں اور غزہ کی گلیوں میں، عورتیں آج بھی اپنے معصوم بچوں کو بازوؤں میں لپیٹے خوف اور بھوک سے لرزتی زندگی گزار رہی ہیں۔
جنگوں میں خواتین کا بطور ہتھیار استعمال ایک شرمناک حقیقت ہے۔ دشمن کو کمزورکرنے کے لیے عورت کی عزت کو نشانہ بنانا ہزاروں برس سے جاری ایک وحشیانہ روایت ہے۔ سربیا، روانڈا،کانگو اور برما میں لاکھوں خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور یہ سب جنگی حکمتِ عملی کے نام پر کیا گیا۔کیا دنیا کے ضمیرکو یہ سب کچھ جھنجھوڑنے کے لیے کافی نہیں؟لیکن عورت صرف مظلوم ہی نہیں، مزاحمت کی علامت بھی ہے۔ فلسطین کی مائیں اپنے شہید بیٹوں کو آنکھوں سے رخصت کرتی ہیں لیکن دل میں عزم لیے،کشمیری خواتین اپنے لاپتہ شوہروں کی تلاش میں عدالتوں کے چکر کاٹتی ہیں۔
افغان مائیں، اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلانے کی خواہش میں سنگینوں کے سائے میں کھڑی رہتی ہیں۔ یہ عورتیں جنگ کو سہتی ضرور ہیں مگر اس کے خلاف خاموش مزاحمت کا استعارہ بھی بنتی ہیں۔پھر وہ عورتیں بھی ہیں جو جنگوں کو روکنے کے لیے میدان میں نکلتی ہیں احتجاج کرتی ہیں، قلم اٹھاتی ہیں، عالمی پلیٹ فارمز پر آواز بلند کرتی ہیں۔ نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی سے لے کرگوانتانامو کی قیدیوں کے حق میں بولنے والی وکلاء تک عورت نے ہمیشہ امن کا پرچم بلند کیا ہے۔ اس نے سکھایا ہے کہ بندوق سے زیادہ مؤثر آواز امن کی ہوتی ہے،گولی سے زیادہ طاقتور قلم ہوتا ہے اور جنگی نعرے سے زیادہ پُراثر ماں کی لوری ہوتی ہے۔
ہمارے سماج میں جنگ کو اکثر رومانوی انداز میں پیش کیا جاتا ہے، جہاں شہادت بہادری اور حب الوطنی کے ترانے گائے جاتے ہیں، مگر عورت کی اذیت کو کوئی نہیں سمجھتا۔
جنگ کی بات ہو اور فیض احمد فیض یاد نہ آئیں یہ ممکن نہیں، انھوں نے لکھا تھا۔
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
یہ شعر صرف کسی انقلاب کی ناکامی نہیں، بلکہ ان عورتوں کی ناامیدی بھی ہے جو ہر صبح امن کے خواب لیے بیدار ہوتی ہیں مگر رات انھیں خون، دھویں اور چیخوں میں لپیٹ کر پھر سلا دیتی ہے۔
جنگ نہ صرف انسانوں کو مارتی ہے بلکہ انسانیت کو بھی زخمی کرتی ہے۔ عورت اس زخمی انسانیت کی علامت ہے۔ جب تک دنیا میں جنگ رہے گی عورت کا دکھ لکھا جاتا رہے گا اور جب کبھی امن آئے گا تو وہ بھی عورت ہی کے مرہونِ منت ہوگا،کیونکہ وہی زندگی دیتی ہے، وہی اسے سنوارتی ہے اور وہی اسے بچانے کے لیے سب کچھ قربان کر سکتی ہے۔
اب وقت ہے کہ ہم جنگ کو بہادری اور شجاعت کی علامت سمجھنے کے بجائے اسے انسانیت کی شکست کے طور پر دیکھیں اور اس شکست کا سب سے خاموش اورگہرا درد وہ عورت سہتی ہے جس کی گود خالی ہو جاتی ہے، جس کی آنکھوں سے روشنی چھن جاتی ہے اور جس کے ہونٹوں سے لوری کی بجائے ’’آہ‘‘ نکلتی ہے۔
جنگیں مردوں کے فیصلے ہوتی ہیں مگر ان کی قیمت عورتیں چکاتی ہیں۔ اب ہمیں چاہیے کہ ہم عورت کی اس خاموش چیخ کو سنیں، اس کی بے زبان قربانی کو پہچانیں اور جنگ کے خلاف اس کے امن کے خواب کو سچ کریں۔ کیونکہ جب عورت امن کی بات کرتی ہے، تو وہ صرف اپنے لیے نہیں پوری انسانیت کے لیے بات کرتی ہے۔