راولپنڈی:
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت بغیر کارروائی 20 جنوری تک ملتوی کر دی، 2 ماہ سے عدالتی حکم کے باوجود جیل کے کورٹ روم اور انسداد دہشت گردی عدالت میں وڈیو لنک ،واٹس ایپ کال سسٹم نصب نہ ہوسکا۔
عدالت نے آئندہ تاریخ پر سسٹم فعال کرنے کا حکم دے دیا اور غیر حاضر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے جبکہ تینوں گواہ پھر طلب کر لیے گئے، عمران خان کی جیل روبکار کے ذریعے حاضری لگائی گئی۔
سابق وزیر داخلہ شیخ رشید بھی پیش ہوئے، وکیل صفائی ملک فیصل محمود کی مشاورت کے لئے عمران خان سے ملاقات کی درخواست مسترد کر دی گئی، وکیل نے موقف اختیار کیا جب تک ہمیں عمران خان تک رسائی نہیں دی جاتی ہم عدالتی کاروائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے وڈیو لنک ٹرائل سے متعلق پنجاب حکومت کے نوٹیفیکیشن کی کاپی وکلاء صفائی کو فراہم کر دی جبکہ وکلا وڈیو لنک وٹس ایپ ٹرائل نوٹیفیکیشن ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔
عمران خان کے وکیل فیصل چودھری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ مقدمات اہمیت کھو چکے ہیں، مریخ پر بھی اگر کوئی تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والا بندہ تھا اسکو بھی مقدمہ میں ڈال دیا گیا۔
ملک بحرانوں کی زد میں ہے، لگ رہا ہے حکومت کو پروا نہیں، دونوں طرف سے تلخی بہت بڑھ گئی ہے،اب ضرورت ہے اسکو کم کیا جائے، جو بھی کوششیں کرے اسکو ویلکم کرنا چاہئے۔
کوٹ لکھپت میں جو قید ہیں انکی رہائی کا سوچا جائے۔ فیصل محمود ملک نے کہا ہے کہ نو مئی کے کیسز میں بانی پی ٹی آئی کو عدالت پیش کیا جانا چاہئے۔
کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ وکیل کو اسکے کلائنٹ سے ملنے سے روکا جائے، ان سے قانونی مشاورت نہیں ہوگی تو نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیسوں کے بائیکاٹ پر مجبور ہوں گے۔