رسی کودنا یا دوڑ لگانا: وزن کم کرنے اور فٹ رہنے کےلیے کون سی ورزش زیادہ بہتر؟

دونوں ہی ورزشیں کارڈیو کے زمرے میں آتی ہیں اور دل کی صحت کے لیے مفید سمجھی جاتی ہیں


ویب ڈیسک January 07, 2026

جسمانی سرگرمی صحت مند زندگی کےلیے نہایت ضروری سمجھی جاتی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف جسم کو فِٹ رکھتی ہے بلکہ مختلف بیماریوں سے بچاؤ اور وزن کو قابو میں رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق 18 سے 64 سال کی عمر کے افراد کو ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل شدت کی ورزش یا 75 منٹ سخت ورزش کرنا چاہیے، یا پھر دونوں کا مناسب امتزاج اپنانا چاہیے۔ ایسے میں اکثر لوگ یہ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ رسی کودنا بہتر ہے یا دوڑ لگانا۔

دونوں ہی ورزشیں کارڈیو کے زمرے میں آتی ہیں اور دل کی صحت کے لیے مفید سمجھی جاتی ہیں، تاہم کون سی ورزش آپ کے لیے زیادہ بہتر ہے، اس کا انحصار آپ کے مقصد، وقت، سہولت اور جسمانی حالت پر ہوتا ہے۔ کچھ افراد کم وقت اور محدود جگہ میں شدید ورزش کے لیے رسی کودنا پسند کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ برداشت بڑھانے اور کھلی فضا سے لطف اندوز ہونے کے لیے دوڑ کو ترجیح دیتے ہیں۔

کیلوریز جلانے اور وزن کم کرنے کے لحاظ سے دیکھا جائے تو دونوں ورزشیں مؤثر ہیں، تاہم رسی کودنے سے عموماً کچھ زیادہ کیلوریز جلتی ہیں۔ اندازوں کے مطابق رسی کودنے سے فی منٹ تقریباً 14 سے 16 کیلوریز جل سکتی ہیں، جبکہ دوڑ لگانے سے 12 سے 14 کیلوریز جلتی ہیں۔ البتہ رفتار اور جسمانی وزن اس میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کی کمی کی صورت میں رسی کودنا زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

دل، پھیپھڑوں اور مجموعی برداشت کی بہتری کےلیے بھی دونوں ورزشیں مؤثر ہیں۔ دوڑ لگانا خاص طور پر دل کی صحت اور طویل عمر سے منسلک سمجھا جاتا ہے، جبکہ تحقیق کے مطابق باقاعدہ دوڑ سے مختلف دائمی بیماریوں کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔ 
دوسری جانب مناسب رفتار سے رسی کودنا بھی دل کے لیے اتنا ہی مؤثر ہو سکتا ہے جتنا آٹھ منٹ فی میل کی رفتار سے دوڑ لگانا۔

جوڑوں اور ہڈیوں پر اثرات کے اعتبار سے دونوں ہی وزن برداشت کرنے والی ورزشیں ہیں، جو ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہیں۔ تاہم دوڑ میں زمین سے بار بار ٹکراؤ کی وجہ سے گھٹنوں، کولہوں اور پیروں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر رسی کودتے وقت نرم سطح اور مناسب تکنیک اپنائی جائے تو جوڑوں پر کم دباؤ پڑتا ہے اور پٹھے ار اعصاب مضبوط ہوتے ہیں۔

پٹھوں کی شمولیت کے لحاظ سے رسی کودنے میں جسم کے زیادہ حصے متحرک ہوتے ہیں، جن میں پنڈلیاں، رانیں، کندھے، بازو اور کور مسلز شامل ہیں۔ دوڑ لگانا زیادہ تر نچلے دھڑ پر توجہ مرکوز رکھتا ہے اور ٹانگوں کی برداشت کو بہتر بناتا ہے، مگر اس میں اوپری جسم کی شمولیت نسبتاً کم ہوتی ہے۔

وقت اور سہولت کے معاملے میں رسی کودنا سبقت لے جاتا ہے، کیونکہ ایک چھوٹی سی رسی کم جگہ میں بھی 10 سے 20 منٹ کی مؤثر ورزش ممکن بنا دیتی ہے۔ دوڑ کے لیے اگرچہ صرف محفوظ راستہ اور جوتے درکار ہوتے ہیں، مگر زیادہ تر لوگ اسے کھلی فضا میں لمبے دورانیے تک کرنا پسند کرتے ہیں، جو ذہنی طور پر بھی تازگی فراہم کرتا ہے۔

چوٹ کے خطرے کے حوالے سے دیکھا جائے تو دوڑ لگانا ابتدائی افراد کے لیے نسبتاً آسان ہے، جبکہ رسی کودنے کے لیے کچھ مشق درکار ہوتی ہے۔ غلط تکنیک دونوں صورتوں میں گھٹنوں، پنڈلیوں یا پیروں کے مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ رسی کودتے وقت بہت اونچی چھلانگ یا سخت لینڈنگ سے پرہیز اور مناسب جوتوں کا استعمال ضروری ہے، جبکہ دوڑ میں اچانک فاصلے یا رفتار بڑھانا چوٹ کا باعث بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بہترین ورزش وہی ہے جسے آپ مستقل اور محفوظ انداز میں کرسکیں اور جس سے آپ کو لطف بھی آئے۔ کئی افراد کےلیے دونوں ورزشوں کا امتزاج بہترین رہتا ہے، مصروف دنوں میں رسی کودنا اور فارغ وقت میں دوڑ لگانا۔ اگر آپ کے پاس وقت یا جگہ محدود ہے اور آپ مکمل جسم کی ورزش چاہتے ہیں تو رسی کودنا بہتر انتخاب ہو سکتا ہے، جبکہ برداشت بڑھانے اور کھلی فضا سے لطف اٹھانے والوں کے لیے دوڑ لگانا زیادہ مناسب ہے۔

نوٹ: یہ خبر عمومی معلومات کے لیے ہے اور کسی طبی مشورے کا متبادل نہیں۔ ورزش شروع کرنے سے قبل اپنے ڈاکٹر یا ماہرِ صحت سے مشورہ ضرور کریں۔

مقبول خبریں