فرینکفرٹ:گھریلو مصنوعات کی سب سے بڑی عالمی نمائش ہیم ٹیکسٹائل 2026ء کا آغاز ہوگیا، پاکستانی مصنوعات کو بھرپور رسپانس مل رہا ہے، نمائش میں پاکستانی گھریلو ٹیکسٹائل مصنوعات کے ساتھ کارپٹ ایکسپورٹرز بھی شرکت کررہے ہیں جس سے پاکستان کی معدوم ہوجانے والی قالین سازی کی صنعت کی بحالی کی امید ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان گھریلو ٹیکسٹائل کی سب سے بڑی عالمی نمائش ہیم ٹیکسٹائل 2026ء میں چوتھے بڑے ملک کی حیثیت سے شریک ہے، جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں 12 جنوری سے شروع ہونے والی اس عالمی نمائش میں 65 ممالک کے 3,100 نمائش کنندگان حصہ لے رہے ہیں۔
نمائش میں پاکستان کی شرکت میں رواں سال نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مجموعی طور پر 285 پاکستانی کمپنیاں ہوم ٹیکسٹائل کی مختلف مصنوعات کے ساتھ عالمی خریداروں اور مندوبین کے سامنے اپنی مصنوعات پیش کر رہی ہیں۔ اس سال نمائش میں پہلی بار پاکستانی قالین بھی متعارف کرائے گئے ہیں، جن کے 11 قالین ایکسپورٹرز نمائش میں شریک ہیں۔
نمائش کی تجارتی اہمیت کے پیش نظر ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) نے قومی پویلین قائم کیا ہے، جہاں 58 چھوٹے اور درمیانے درجے کی برآمدی کمپنیوں کے اسٹال لگائے گئے ہیں۔
نمائش میں شریک ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ہیم ٹیکسٹائل یورپی مارکیٹ تک رسائی کا ایک اہم ترین پلیٹ فارم ہے، جہاں براہِ راست خریداروں سے روابط قائم ہوتے ہیں اور یورپی مارکیٹ کی طلب، معیار اور رجحانات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
قومی پویلین میں شریک چوہدری اعجاز احمد اینڈ سنز کے مارکیٹنگ منیجر محمد حفیظ نے کہا کہ وہ گزشتہ تین برس سے مسلسل اس نمائش میں شرکت کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں یورپ کو برآمدات بڑھانے میں مدد ملی ہے۔ ان کے مطابق ہر سال شرکت سے خریداروں کا اعتماد بڑھتا ہے اور نمائش سے حاصل ہونے والے تجربات کی بنیاد پر کمپنی اپنی پراڈکٹ لائن کو مزید بہتر بناتی ہے۔
الہیٰ فیبرک کے ڈائریکٹر شیخ مبشر احمد نے نمائش کے انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سال پاکستانی اسٹالز کو کشادہ اور مصروف ایریا میں جگہ دی گئی ہے، جس کے باعث پہلے روز سے ہی وزیٹرز کی آمد و رفت جاری ہے اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
نازو انٹرنیشنل کے سی ای او عبدالہادی نے کہا کہ ہیم ٹیکسٹائل نمائش پاکستانی گھریلو ٹیکسٹائل کی برآمدات کے لیے ایک انتہائی اہم پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یورپی خریدار ماحول دوست مصنوعات کو ترجیح دے رہے ہیں، جس کے پیش نظر ان کی کمپنی اپنے پیداواری عمل اور ویسٹ مینجمنٹ کو ماحول دوست بنا رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی ایکسپورٹرز مسابقت بہتر بنانے کے لیے سولر اور ونڈ انرجی کی جانب منتقل ہو رہے ہیں، تاہم اس کے لیے بھاری سرمایہ کاری درکار ہے۔
عبدالہادی نے کہا کہ جو کمپنیاں ماحول دوست توانائی کے ذرائع اختیار کر رہی ہیں انہیں کاربن کریڈٹس کا فائدہ بھی حاصل ہو رہا ہے، جس سے یورپی مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے میں مدد مل رہی ہے۔ ایکسپورٹرز کے مطابق ہیم ٹیکسٹائل نمائش پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں جاری کمی کو سنبھالا دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم اس کے لیے حکومت کو پیداواری لاگت کم کرنے، بالخصوص توانائی کی قیمتوں میں کمی اور متبادل توانائی کے فروغ کے لیے صنعت کو مؤثر سپورٹ فراہم کرنا ہوگی۔