ہوشمندی کا تقاضا ہے بات کی جائے، نہیں چاہتے کچھ ایسا ہو جس سے پاکستان کا نقصان ہو، سلمان اکرم راجا

جو لوگ اس وقت نظام پر مسلط ہیں انہیں عوام کے ساتھ بیٹھنا ہوگا، پی ٹی آئی رہنما


ویب ڈیسک January 15, 2026
فوٹو: فائل

پشاور:

تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ ہوشمندی کا تقاضا ہے بات کی جائے، ہم نہیں چاہتے کچھ ایسا ہو جس سے پاکستان کا نقصان ہو۔

ہائی کورٹ  میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ  سہیل آفریدی کراچی گئے تو لوگوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا، جس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اب تمام لوگوں کو پتا چل چکا ہے کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام اب اپنا مقدمہ خود لڑیں گے کیونکہ عوام کو آئین نے یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنے لیے آواز اٹھائیں ۔ ہم اپنا مقدمہ عوام کے سامنے رکھ چکے ہیں۔

سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو بے وقعت کیا گیا ہے۔ ہوش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ بیٹھ کر بات کی جائے۔ اگر لوگوں کو ناحق جیل میں ڈالا جائے گا تو ملک کیسے آگے بڑھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخ اپنا فیصلہ خود کرتی ہے ۔ اب ہر شخص نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس طرح زندگی گزارنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس وقت نظام پر مسلط ہیں انہیں عوام کے ساتھ بیٹھنا ہوگا، کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں ایسا کچھ ہو جس سے پاکستان کا نقصان ہو۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اس وقت ملک میں ترقی نہیں ہو رہی اور نہ ہی سرمایہ کاری ہو رہی ہے، آئندہ کیا ہوگا اس کی ذمہ داری اب انہی پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تک اپوزیشن لیڈر کی تقرری نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر کیا جانا چاہیے ۔ سینیٹ میں راجا ناصر عباس کو اپوزیشن لیڈر بنایا جانا چاہیے۔ اسپیکر کو چاہیے کہ وہ ان کی تقرری کر دیں۔

مقبول خبریں