سردیوں میں گھروں کو گرم رکھنے کے محفوظ طریقے

گھر کو گرم رکھنے کے غیر محفوظ طریقے جان و مال کےلیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں


وقار احمد شیخ January 22, 2026

سردیوں کے موسم میں گھروں کو گرم رکھنا ایک بنیادی ضرورت بن جاتا ہے، خاص طور پر اُن علاقوں میں جہاں درجۂ حرارت اچانک بہت کم ہوجاتا ہے۔ تاہم غیر محفوظ طریقوں سے حرارت حاصل کرنا جان و مال کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ہر سال سردیوں میں گیس لیکیج، ہیٹر حادثات اور کاربن مونو آکسائیڈ کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ گھروں کو گرم رکھنے کے محفوظ اور درست طریقے اپنائے جائیں۔

سردیوں میں گھروں کو گرم رکھنا کیوں ضروری ہے؟

کم درجۂ حرارت نہ صرف جسمانی تکلیف کا باعث بنتا ہے بلکہ بچوں، بزرگوں اور دل و سانس کے مریضوں کے لیے صحت کے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ سرد ماحول میں نمونیا، نزلہ، فلو اور بلڈ پریشر کے مسائل بڑھ جاتے ہیں، اسی لیے گھریلو ماحول کو مناسب حد تک گرم رکھنا صحت کے لیے ناگزیر ہے۔

گیس ہیٹر استعمال کرتے وقت احتیاط

پاکستان میں گیس ہیٹر گھروں کو گرم رکھنے کا سب سے عام ذریعہ ہیں، مگر یہی سب سے زیادہ خطرناک بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہیٹر کو ہمیشہ ہوادار کمرے میں استعمال کریں اور دروازے یا کھڑکی کا تھوڑا سا حصہ کھلا رکھیں تاکہ زہریلی گیسیں جمع نہ ہوں۔ سوتے وقت گیس ہیٹر بند کرنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ کاربن مونو آکسائیڈ بے ہوشی اور جان لیوا حادثات کا باعث بن سکتی ہے۔

الیکٹرک ہیٹر: محفوظ مگر محتاط استعمال ضروری

الیکٹرک ہیٹر نسبتاً محفوظ سمجھے جاتے ہیں، مگر ان کے استعمال میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ ہیٹر کو پردوں، بستر یا کپڑوں کے قریب نہ رکھیں اور غیر معیاری ایکسٹینشن بورڈ استعمال کرنے سے گریز کریں۔ زیادہ لوڈ لینے والے ہیٹر بجلی کے شارٹ سرکٹ اور آگ لگنے کا باعث بن سکتے ہیں، اس لیے معیاری وائرنگ اور ساکٹ کا استعمال کریں۔

کمرے کی مناسب انسولیشن

گھر کو گرم رکھنے کا ایک محفوظ اور مؤثر طریقہ یہ ہے کہ ٹھنڈی ہوا کو اندر آنے سے روکا جائے۔ دروازوں اور کھڑکیوں کے کناروں پر ربڑ پیکنگ یا کپڑے لگانے سے ٹھنڈک کم داخل ہوتی ہے۔ موٹے پردے اور قالین بھی کمرے کے درجۂ حرارت کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

دھوپ سے فائدہ اٹھائیں

سردیوں کے دوران دھوپ ایک قدرتی نعمت ہے۔ دن کے وقت پردے ہٹا کر سورج کی روشنی کمرے میں آنے دیں، اس سے کمرہ قدرتی طور پر گرم رہتا ہے۔ شام کے وقت پردے بند کر دینے سے گرمی باہر نہیں نکلتی اور کمرے کا درجۂ حرارت برقرار رہتا ہے۔

لحاف، کمبل اور گرم کپڑوں کا درست استعمال

گھر کو حد سے زیادہ گرم کرنے کے بجائے جسم کو گرم رکھنا زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔ گرم کپڑے، سویٹر، موزے اور کمبل استعمال کرنے سے ہیٹر پر انحصار کم ہو جاتا ہے، جو نہ صرف محفوظ ہے بلکہ بجلی اور گیس کے بلوں میں بھی کمی لاتا ہے۔

انگیٹھی اور کوئلے کا استعمال: ایک خطرناک روایت

دیہی اور بعض شہری علاقوں میں آج بھی انگیٹھی یا کوئلے سے گرمی حاصل کی جاتی ہے، جو انتہائی خطرناک ہے۔ بند کمروں میں کوئلے یا لکڑی جلانے سے زہریلی گیسیں جمع ہو سکتی ہیں، جو خاموشی سے جان لے لیتی ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق بند کمرے میں انگیٹھی کا استعمال ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔

بچوں اور بزرگوں کے لیے خصوصی احتیاط

گھر میں موجود بچوں اور بزرگ افراد کے لیے اضافی احتیاط ضروری ہے۔ ہیٹر کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں اور بزرگوں کے کمرے میں زیادہ ہواداری کا خاص خیال رکھیں۔ رات کے وقت گرم پانی کی بوتل یا اضافی کمبل زیادہ محفوظ متبادل ہو سکتے ہیں۔

محفوظ گرمی، پرسکون سردی

سردیوں میں گھر کو گرم رکھنا ضروری ہے، مگر حفاظت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مناسب ہواداری، معیاری آلات اور سادہ احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے نہ صرف سردی سے بچا جا سکتا ہے بلکہ جان و مال کو بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ محفوظ طریقے اپنانا ہی ایک بہتر اور ذمے دار لائف اسٹائل کی پہچان ہے۔

مقبول خبریں