سردیوں کا موسم جہاں گرم کپڑوں اور چائے کے مزے لے کر آتا ہے، وہیں بہت سے لوگوں کے لیے بالوں کے جھڑنے کی پریشانی بھی بڑھا دیتا ہے۔
کنگھی میں زیادہ بال نظر آنا، یا سر کی خشکی کا بڑھ جانا عام شکایات ہیں۔ ماہرین کے مطابق موسم کی تبدیلی، نمی کی کمی اور ہماری روزمرہ عادات اس مسئلے کو بڑھا سکتی ہیں۔ آیئے جانتے ہیں کہ سردیوں میں بال زیادہ کیوں جھڑتے ہیں اور اس سے بچاؤ کے آسان طریقے کیا ہیں۔
سرد موسم اور سر کی خشکی
سردیوں میں ہوا میں نمی کم ہوجاتی ہے، جس کا براہِ راست اثر سر کی جلد پر پڑتا ہے۔ خشک کھوپڑی میں خارش اور فلیکس بننے لگتے ہیں، جس سے بال کمزور ہو کر ٹوٹنے لگتے ہیں۔ گرم پانی سے بار بار بال دھونا بھی قدرتی تیل کو ختم کر دیتا ہے، نتیجتاً بالوں کی جڑیں مزید کمزور ہو جاتی ہیں۔
ہیٹر اور گرم ہوا کا نقصان
گھروں میں ہیٹر یا بلور استعمال کرنے سے فضا مزید خشک ہو جاتی ہے۔ مسلسل خشک ماحول میں رہنے سے کھوپڑی کی نمی برقرار نہیں رہتی اور بال بے جان ہونے لگتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال عارضی ہوتی ہے، مگر اگر احتیاط نہ کی جائے تو بالوں کا جھڑنا نمایاں ہو سکتا ہے۔
غذائی کمی اور پانی کم پینا
سردیوں میں پیاس کم لگنے کے باعث لوگ پانی کم پیتے ہیں، جس سے جسم میں پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ اگر خوراک میں پروٹین، آئرن، زنک اور وٹامن ڈی کی مقدار کم ہو تو بالوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ متوازن غذا نہ صرف جسم بلکہ بالوں کی صحت کے لیے بھی ضروری ہے۔
ذہنی دباؤ اور نیند کی کمی
ذہنی دباؤ، بے ترتیب نیند اور سرد موسم کی سستی بھی ہارمونز پر اثر ڈال سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹریس کی وجہ سے بالوں کے قدرتی گروتھ سائیکل میں خلل آتا ہے، جس سے وقتی طور پر بال زیادہ جھڑنے لگتے ہیں۔
بالوں کا جھڑنا روکنے کے آسان طریقے
نرم شیمپو اور نیم گرم پانی استعمال کریں: سردیوں میں بال دھوتے وقت بہت زیادہ گرم پانی سے پرہیز کریں۔ ایسا شیمپو استعمال کریں جو موئسچر فراہم کرے اور سلفیٹس سے پاک ہو تاکہ بالوں کی قدرتی چکنائی محفوظ رہے۔
تیل سے مالش کو معمول بنائیں: ناریل، بادام یا زیتون کے تیل سے ہفتے میں دو بار ہلکی مالش خون کی گردش بہتر بناتی ہے اور بالوں کی جڑوں کو مضبوط کرتی ہے۔ چاہیں تو چند قطرے کیسٹر آئل بھی شامل کر سکتے ہیں۔
متوازن غذا اور پانی کی مقدار بڑھائیں: اپنی خوراک میں انڈے، مچھلی، دالیں، سبزیاں، گری دار میوے اور دہی شامل کریں۔ دن بھر مناسب مقدار میں پانی پینے کی عادت ڈالیں، چاہے سردی ہی کیوں نہ ہو۔
ہیومیڈیفائر کا استعمال: اگر گھر میں ہیٹر چلتا ہے تو کمرے میں ہیومیڈیفائر رکھنے سے ہوا میں نمی برقرار رہتی ہے، جو کھوپڑی اور جلد دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔
بالوں کو سختی سے باندھنے سے گری: ٹوپیاں یا اسکارف زیادہ تنگ نہ باندھیں اور گیلے بالوں کو فوراً کنگھی نہ کریں۔ نرم برش استعمال کریں تاکہ بال ٹوٹنے سے بچ سکیں۔
کب ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے؟
اگر بالوں کا جھڑنا مسلسل کئی ہفتوں تک برقرار رہے، سر میں شدید خارش یا زخم ہوں، یا اچانک بال بہت زیادہ گرنے لگیں تو ماہرِ جلد سے مشورہ لینا ضروری ہے۔ بعض اوقات یہ ہارمونل مسئلہ یا غذائی کمی کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔
سردیوں میں بالوں کا جھڑنا اکثر موسم کی تبدیلی، خشکی اور معمولات میں فرق کی وجہ سے ہوتا ہے، مگر درست نگہداشت، متوازن غذا اور چند سادہ احتیاطی تدابیر اپنا کر اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ تھوڑی سی توجہ آپ کے بالوں کو سرد موسم میں بھی صحت مند اور مضبوط رکھ سکتی ہے۔