جہاز کی لینڈنگ سے پہلے کھڑکیوں کے پردے کیوں ہٹائے جاتے ہیں؟

یہ ہدایت سہولت کے لیے نہیں بلکہ مسافروں کی جان بچانے سے جڑی ایک اہم حفاظتی تدبیر ہے


ویب ڈیسک January 30, 2026

اکثر مسافروں کو فضائی سفر کے دوران یہ بات عجیب لگتی ہے کہ لینڈنگ سے قبل فلائٹ اٹینڈنٹس کیوں بار بار جہاز کی کھڑکیوں کے شیڈز اوپر رکھنے کی درخواست کرتے ہیں۔

تیز روشنی بعض اوقات آنکھوں کو ناگوار بھی محسوس ہوتی ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ ہدایت سہولت کے لیے نہیں بلکہ مسافروں کی جان بچانے سے جڑی ایک اہم حفاظتی تدبیر ہے۔

رپورٹ کے مطابق کمرشل پروازوں میں لینڈنگ سے کچھ دیر پہلے عملہ مسافروں کو متنبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی نشستوں کے ساتھ موجود کھڑکیوں کے پردے کھول دیں۔ بظاہر یہ ایک معمولی بات دکھائی دیتی ہے، مگر درحقیقت یہ اقدام دنیا بھر میں ایئرلائنز کے طے شدہ حفاظتی طریقۂ کار کا حصہ ہے، خاص طور پر اس وقت جب جہاز اپنے خطرناک ترین مرحلے یعنی ٹیک آف یا لینڈنگ سے گزر رہا ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کھڑکیوں کے شیڈز کھلے ہوں تو ہنگامی صورتحال کو فوراً بھانپنا ممکن ہوجاتا ہے۔ اگر طیارے کے کسی حصے میں دھواں، آگ یا چنگاریاں نمودار ہوں تو نہ صرف کیبن عملہ بلکہ مسافر بھی یہ منظر دیکھ سکتے ہیں، جس سے قیمتی وقت ضائع کیے بغیر فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ جہاز سے نکلنے کے لیے کون سا راستہ زیادہ محفوظ ہے۔

اسی طرح روشن کیبن مسافروں کو ذہنی طور پر چوکنا رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اندھیرے ماحول میں لوگ عموماً غنودگی یا بے توجہی کا شکار ہوجاتے ہیں، جبکہ لینڈنگ جیسے اہم مرحلے پر الرٹ رہنا ضروری ہوتا ہے۔ کھڑکیوں کے پردے اوپر ہونے سے فلائٹ اٹینڈنٹس کے لیے بھی کیبن کا جائزہ لینا اور مسافروں کے ردعمل کو دیکھنا آسان ہو جاتا ہے۔

آنکھوں کی تیاری بھی اس ہدایت کی ایک بڑی وجہ ہے۔ دن کی روشنی میں اگر اچانک انخلا کرنا پڑ جائے تو بند پردوں کی صورت میں آنکھوں کو تیز روشنی سے ہم آہنگ ہونے میں وقت لگ سکتا ہے، جو خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح رات کے وقت باہر کا منظر دکھائی دینے سے آنکھیں پہلے ہی ماحول کے مطابق ڈھل جاتی ہیں، جس سے ہنگامی حالات میں تیزی اور کم الجھن کے ساتھ باہر نکلنا ممکن ہو جاتا ہے۔

کھڑکیوں کے شیڈز کھلے رکھنے سے یہ بھی فوری اندازہ ہو جاتا ہے کہ طیارے کے کون سے اخراجی دروازے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اگر کسی ایک سمت آگ، دھواں یا رکاوٹیں موجود ہوں تو عملہ فوراً دوسری محفوظ جانب سے مسافروں کو باہر نکالنے کا فیصلہ کر سکتا ہے، جبکہ مسافر بھی باہر کی صورتحال دیکھ کر ہدایات پر زیادہ اعتماد کے ساتھ عمل کرتے ہیں۔

ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ طریقہ کار صرف کسی ایک ملک یا کمپنی تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی ہوابازی کے قوانین کے تحت دنیا بھر میں اپنایا جاتا ہے۔ عالمی ادارے اسے مجموعی حفاظتی نظام کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں تاکہ چاہے آپ کسی بھی خطے میں سفر کریں، مسافروں اور عملے کو ایک جیسے اصولوں اور تربیت کے مطابق محفوظ رکھا جا سکے۔

مقبول خبریں