اسلام آباد:
پاکستان میں جنوری 2026 کے دوران مہنگائی کی شرح معمولی اضافے کے ساتھ 5.8 فیصد تک پہنچ گئی،جومارکیٹ اور وزارتِ خزانہ کے اندازوں کے عین مطابق ہے، پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق اشیاء اور خدمات کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر اوسط اضافہ مستحکم رہا۔
نان فوڈ اور نان انرجی اشیاء پرمشتمل کور مہنگائی شہری علاقوں میں قدرے بڑھی، جبکہ دیہی علاقوں میں کمی دیکھی گئی۔
تازہ ڈیٹا کے بعد اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرحِ سود کو دوہرے ہندسوں میں برقراررکھنے کے فیصلے پر ایک بار پھر تنقید سامنے آئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق کور مہنگائی گزشتہ چند ماہ سے تقریباً 7.4 فیصد کی سطح پر مستحکم ہے،جبکہ بڑے پیمانے کی صنعت سمیت دیگر معاشی اشاریے بہتری دکھارہے ہیں۔
مرکزی بینک نے یہ بھی تسلیم کیاکہ صارفین اورکاروباری اداروں کی مہنگائی سے متعلق توقعات میں کمی آئی ہے اور مالی سال 2026 اور 2027 میں مہنگائی 5 سے 7 فیصدکے ہدف کے اندررہنے کاامکان ہے، تاہم اس کے باوجودشرحِ سودمیں کمی نہیں کی گئی۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمدکو ہدایت کی ہے کہ معیشت کوسہارادینے کیلیے شرحِ سود میں کمی کریں۔
وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ بڑھتی غربت اور بے روزگاری کے باعث معیشت کو تیزرفتارترقی کی ضرورت ہے۔
وزارتِ خزانہ کی رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران تقریباً 7 لاکھ 62 ہزار پاکستانی بہترروزگارکی تلاش میں ملک چھوڑگئے، جو روزگارکے بڑھتے خدشات کی عکاسی کرتاہے۔
اعدادوشمارکے مطابق شہری علاقوں میں مہنگائی 5.8 فیصد پرمستحکم رہی، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح بڑھ کر 5.8 فیصد ہو گئی ہے۔