دہشت گرد اور ان کے سہولت کار

اسلام آباد میں امام بارگاہ پر خودکش حملہ آور کی شناخت بھی ظاہر کی گئی ہے


ایڈیٹوریل February 08, 2026

اسلام آباد کے تھانہ شہزاد ٹاؤن کے علاقے میں امام بارگاہ میں نمازجمعہ دوران خودکش دھماکے کے بعد اس کے ماسٹر مائنڈ اور ہینڈلرز کے خلاف آپریشن جاری ہیں، اس حوالے سے اچھی پیشرفتیں سامنے آئی ہیں۔ دہشت گرد اور اس کے ساتھیوں کے حوالے سے پتہ چلا ہے کہ ان کا تعلق پشاور اور دیگر علاقوں سے ہے۔

کچھ گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔ واقعے کی تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں غازی شاہ امام روڈ پر واقع امام بارگاہ و مسجد کے گیٹ پر سیکیورٹی گارڈز نے خودکش حملہ آورکوروکا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

میڈیا میں عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ نماز جمعہ کے دوران تقریباً ایک بج کر 38 منٹ پرایک حملہ آور دوڑتا ہوا مسجد میں داخل ہوا اور کچھ سیکنڈز بعد دھماکہ ہوا جس کے بعد بھگدڑ مچ گئی اور جائے وقوعہ پر ہر طرف خون اور انسانی اعضاء بکھرے ہوئے نظرآئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کا تعلق فتنہ الخوارج سے ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور متعلقہ اداروں کو ذمے داران کے خلاف فوری کارروائی کی ہدایت کی، قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے موقع سے مبینہ خودکش حملہ آور کے اعضاء کو بھی تحویل میں لے کر فرانزک کے لیے بھجوا دیے ہیں۔

وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پمز اسپتال جب کہ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے پولی کلینک اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کوہدایت کی ہے کہ دھماکہ کے متاثرین کے معاملے میں اسلام آباد انتظامیہ سے معاونت کی جائے۔

ادھر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے امام بارگاہ پرخودکش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہادتوں پر افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ قوم مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے، وزیراعظم نے وزیرداخلہ محسن نقوی سے ملاقات کی ہے اور واقعہ کی تحقیقات کرکے فوری طور پر ذمے داران کے تعین کی ہدایت کی،

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے بھی امام بارگاہ دھماکے کی مذمت اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں ہونے والے افسوسناک دھماکہ کی مذمت کی اور کہا کہ حملہ آور انسانیت کے دشمن اور کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

ادھر روس، امریکا ، برطانیہ، آسٹریلیا اور اسلامی ممالک نے اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کو تعزیتی خطوط بھیجے گئے ہیں۔ روسی صدر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

امریکی سفارت خانے کی جانب سے اسلام آباد میں دھماکے پر اظہار مذمت کیا گیا۔امریکی سفارت خانے کی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے سفارت خانے کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر کہا کہ امریکا دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔

نیٹلی بیکر نے کہا کہ شہریوں اور عبادت گاہوں کے خلاف دہشت گردی اور انھیں نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے، امریکا امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور استحکام کے لیے اپنی شراکت داری پر قائم ہے، ہم اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا کہ برطانیہ اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین اسلام آباد دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میری ہمدردیاں متاثرین، ان کے اہلِ خانہ اور متاثر ہونے والے تمام افراد کے ساتھ ہیں۔

پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے ایران کی حکومت اور عوام کی جانب سے اسلام آباد میں نمازِ جمعہ کے دوران مسجد میں ہونے والے خود کش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لیے دعائے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ دریں اثناء افغان وزارتِ خارجہ نے بھی اسلام آباد دھماکے کی مذمت کی۔

ترجمان افغان وزارت خارجہ عبدالقہار بلخی کی جانب سے جاری بیان میں کہنا تھا کہ اِس طرح کے حملے جو مقدس شعائر اور مساجد کے تقدس کو پامال کرتے ہیں، عبادت گزاروں اور شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں وہ افسوسناک ہیں، اِس نوعیت کے حملوں کو اسلامی اور انسانی اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

سعودی عرب نے اس سفاکانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گزاروں کو نشانہ بنانا، بے گناہ شہریوں کا خون بہانا کھلی دہشت گردی ہے۔ ترک وزارتِ خارجہ نے بھی اس سفاکانہ واقعے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے دہشت گردی کی بدنما حرکت قرار دیتے ہوئے پاکستان کے ساتھ اپنے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

میڈیا کی رپورٹس نے اسلام آباد میں امام بارگاہ پر خودکش حملہ آور کی شناخت بھی ظاہر کی گئی ہے، اور بتایا گیا ہے کہ وہ پشاورکا رہائشی ہے، اس نے افغانستان سے دہشت گرد کارروائیوں کی تربیت حاصل کی اور متعدد بار افغانستان کا سفر کر چکا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ اس نے صوبہ کنڑکے ایک ٹریننگ سینٹرسے تربیت حاصل کی۔ ذرائع کے مطابق اعلی حکام خودکش حملے کے پس پردہ پورے نیٹ ورک کے حوالے سے تحقیقات کرکے بے نقاب کرنے کی کوشش کررہے ہیں، تمام اندرونی اور سرحدپارتعلقات کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے کہاکہ اسلام آباد میں دھماکا بھارت اور طالبان کا گٹھ جوڑ ہے، انشا اللہ اس ظلم کا جواب ریاست پوری قوت سے دے گی۔

بلاشبہ دہشت گرد پاکستان اور اس کے عوام کے دشمن ہیں، ویسے بھی بے گناہ شہریوں پر حملہ پرلے درجے کی بزدلانہ کارروائی ہے۔ دہشت گردوں نے تو اپنا کام کر دیا ہے لیکن اصل کام تو ان کے سہولت کاروں، فنانسرز اور ہینڈلرز کے نیٹ ورک کو توڑنا ہے۔

پاکستان کے اداروں نے اس دہشت گردی کے فوراً بعد بروقت کارروائی کی ہے اور پشاور، ضلع خیبر اور نوشہرہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے ہیں۔ یہاں سے کئی مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

حکومتی شخصیات کا دعویٰ ہے کہ بہت جلد حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت ماسٹر مائنڈز تک پہنچ چکی ہے اور جلد ہی ان کا پتہ بھی چل جائے گا۔ دہشت گردوں کے سرپرستوں نے اس واردات کے لیے بڑی اہم ٹائمنگ کا انتخاب کیا ہے۔

اسلام آباد میں ازبکستان کے صدر دورے پر آئے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے لیے ان کا یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان کئی اہم تجارتی معاہدے بھی ہوئے ہیں۔ ان سے پہلے قازقستان کے صدر اسلام آباد آئے۔ ان کے ساتھ بھی پاکستان کے کئی اہم معاہدے ہوئے ہیں۔

یوں پاکستان وسط ایشیا کی سیاست میں خاصی اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ پاکستان کے لیے وسط ایشیا کی منڈیوں کے دروازے کھل رہے ہیں۔ ایسی صورت میں افغانستان کی طالبان حکومت مسلسل تنہائی کا شکار ہو رہی ہے جب کہ بھارت کے لیے بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

چند روز قبل بلوچستان میں دہشت گردوں نے کارروائیاں کی ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو دہشت گردوں کے سرپرستوں نے بیرونی دنیا کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان میں بدامنی ہے اور یہاں انویسٹمنٹ کرنا خسارے کا سودا ہو گا لیکن ازبکستان ہو یا قازقستان یا تاجکستان، ان ممالک کی قیادت کو حقائق کا بخوبی علم ہے۔

افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے بھی یہ ممالک متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی اس پالیسی کی وجہ سے افغانستان کی طالبان حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ جو پہلے زیرزمین تھے، اب منظرعام پر آ گئے ہیں۔

دنیا کو بھی حقائق معلوم ہو رہے ہیں کہ افغانستان میں کس طرح ٹی ٹی پی کی لیڈرشپ، بی ایل اے، داعش خراسان اور القاعدہ سمیت دیگر دہشت گرد تنظیمیں اور ان کے کارکن ولیڈر کھلے عام پھر رہے ہیں۔ وہاں ان کے تربیتی کیمپ موجود ہیں۔ یوں عالمی سطح پر افغانستان کے لیے انتہائی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

پاکستان کے لیے عالمی حالات خاصے سازگار ہیں۔ اندرونی طور پر بھی ایسے گروہ جو بظاہر انتہاپسندی کی مخالفت کرتے ہیں لیکن درپردہ ان کی مدد کر رہے ہیں، وہ بھی دباؤ میں ہیں۔ پاکستان کے عوام کے سامنے بھی حقائق واضح ہو رہے ہیں۔

انھیں معلوم ہو رہا ہے کہ پاکستان کے مسائل کا ذمے دار کون ہے اور یہ مسائل کس طرح پیدا ہوئے ہیں؟ پاکستان جس انداز میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے اقدامات کر رہا ہے، اس کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

پاکستان کی معیشت مستحکم ہو رہی ہے اور عالمی سطح پر اس کا رول بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دن دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کے لیے مزید سخت ہوں گے۔

مقبول خبریں