ان کی شخصیت ملتان میں انگریز مخالف جذبات کی مرکزی علامت بن گئی، جس کے نتیجے میں وہ شہید ہوئے۔
خواجہ غلام حسن شہید ملتانی کی ’’ملتان کی چابیاں‘‘ والی روایت کا تاریخی تنقیدی تجزیہ
یہ روایت ملتان کی مقامی زبانی تاریخ میں ملتی ہے۔ اس کے مطابق انگریزوں نے کہا: ’’اگر غلام حسن کو ختم کردیا جائے تو ملتان کی چابی مل جائے گی۔‘‘ اس کا مطلب یہ لیا گیا کہ شہر کی عوامی طاقت، مقامی مزاحمت، مذہبی و سماجی اثر کا مرکز وہی تھے۔ یہ روایت نوائے وقت (2021) اور کئی مزاراتی بیانات میں بھی ملتی ہے، مگر ان کا ذریعہ بنیادی طور پر سنی سنائی روایت ہے نہ کہ سرکاری دستاویز۔
مگر کیا واقعی انہوں نے شہر کی ’’حکومتی‘‘ چابیاں رکھی تھیں؟ سرکاری یا فوجی ریکارڈ میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ سکھ دور میں ملتان کی ’’قلعہ چابیاں‘‘ باضابطہ طور پر گورنر، کوتوال، فوجی کماندار یا دیوان کے پاس ہوتی تھیں۔ منشی غلام حسن سرکاری عہدے دار نہیں تھے، نہ ہی قلعہ یا خزانہ خانہ ان کے زیراختیار تھا۔ لہٰذا اصلی قلعہ یا شہر کی چابیاں ان کے پاس ہونے کا امکان نہیں۔ ’’چابی‘‘ یہاں علامت ہے، حقیقت نہیں۔ پھر انگریز کیوں سمجھتے تھے کہ ’’چابی‘‘ ان کے پاس ہے؟ یہاں یہ لفظ سیاسی و سماجی معنی رکھتا تھا۔ وہ ملتان میں عوامی حمایت اصل مرکز تھے۔ انگریز دیکھتے تھے کہ شہر کے لوگ ان کی بات سنتے تھے۔ وہ مذہبی و علمی اثر رکھتے تھے۔ ان کی حیثیت ’’رائے دہندہ گروہ‘‘ جیسی تھی۔ ان کی شخصیت مزاحمت کی علامت تھی اس لیے انہیں ’’چابی رکھنے والا‘‘ کہنا دراصل یہ کہنا تھا کہ ’’اگر انہیں ہٹا دیا جائے تو ملتان کی عوامی مزاحمت ٹوٹ جائے گی۔‘‘ سکھ حکم راں خود بھی مقامی صوفی و منشی خاندانوں کو اہم سمجھتے تھے۔ سکھ دور کا ایک غیررسمی انتظامی اصول تھا کہ شہر کے اصل اثر رکھنے والے افراد پر نظر رکھو وہی فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ خواجہ غلام حسن بھی اسی طرح کے شہری اثر کے مرکز تھے۔ اس پسِ منظر میں ’’چابی‘‘ والی روایت سیاسی اثرورسوخ کی نشان دہی کرتی ہے، نہ کہ کسی مادی چابی کی۔
انگریز جب 1848–49 میں ملتان پر حملہ کر رہے تھے، اُن کی حکمت عملی دو حصوں پر مشتمل تھی۔
فوجی طاقت سے قلعہ پر قبضہ عوامی مزاحمت کو توڑنا
برطانوی ریکارڈ میں بارہا ملتا ہے کہ ملتان میں عوامی مزاحمت ’’مذہبی نفوذ رکھنے والے مقامی افراد‘‘ کی وجہ سے سخت تھی۔ ایسے افراد کو’’ influential natives‘‘ کہا جاتا تھا۔ انگریزوں کے نزدیک خواجہ غلام حسن مزاحمت کی فکری چابی تھی۔
یہ بات تاریخی طور پر درست ہے کہ وہ ملتان کے طاقت ور ترین غیررسمی لیڈرز میں سے تھے۔ ان کی گرفت عوام پر بہت مضبوط تھی، انگریز انہیں مزاحمت کی علامت سمجھتے تھے، ان کی شہادت کا مقصد مزاحمت کا خاتمہ تھا لیکن ان کے پاس کسی قلعے یا شہر کی فِزِیکل/حقیقی چابیاں ہونا تاریخی طور پر ثابت نہیں۔ ’’ملتان کی چابیاں خواجہ غلام حسن کے پاس تھیں‘‘ یہ جملہ ایک سیاسی استعارہ ہے۔ وہ ملتان کے عوامی دلوں کی ’’چابی‘‘ تھے۔ وہ مزاحمت اور دلیری کی ’’چابی‘‘ تھے۔ شہر کا اصل اثر انہی کے ہاتھ میں تھا۔ اسی لیے انگریز انہیں ہٹانے کو ملتان کو کھولنے کے مترادف سمجھتے تھے۔
خونی برج
خونی برج ملتان کے قدیم فصیل (شہری دیوار) کا ایک حصہ ہے۔ یہ برج ملتان کی پرانی دیوار میں پاک گیٹ اور دہلی گیٹ کے درمیان واقع ہے۔ ’’خونی برج‘‘ کا مطلب ہے ’’خونین قلعہ / برج‘‘ یہ نام اس کی تاریخی لڑائیوں اور خوںریز واقعات کی وجہ سے ملا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس مقام پر 1849 میں ایک سخت جنگ ہوئی تھی، یہ برطانوی فوج اور سکھ فوج کے درمیان مصاف جنگ تھی، اور یہی واقعہ برج کو اس کا گمبھیر نام دیتا ہے۔ ایک مزید روایت کچھ یوں ہے کہ سکندراعظم نے ملتان پر حملے کے دوران اسی مقام پر زخم کھایا تھا۔ مقامی روایات کے مطابق، اس واقعے کے بعد یہاں قتل و غارت گری ہوئی اور بہت خون بہا۔ اس سے خونی برج کی افسانوی شہرت مزید بڑھی۔ یہاں ایک تحقیقی بات بھی غورطلب ہے کہ تیر کا اصل مقام کسی کو معلوم ہے نہ تیر سے مرنے کی بات کا کوئی مستند حوالہ ہے۔ آج تک کوئی ایسا ٹھوس ثبوت موجود نہیں جو یقینی طور پر بتا سکے کہ سکندراعظم کی وفات کا حتمی سبب کیا تھا۔ مگر سب سے زیادہ معتبر ماہرین نے موت کی وجہ وبائی بیماری (ٹیفائیڈ یا ملیریا) یا شدید شراب نوشی کے باعث جگر کا ختم ہوجانا بتایا ہے۔ ویسے بھی یہ بات عقل سے باہر ہے کہ ملتان میں تیر لگا ہو اور اسی زخمی حالت میں مکران کا مشکل اور خوف ناک ترین صحرا عبور کرکے بابل جا کر اسی تیر کی وجہ سے مرا ہو۔ مکران میں اس کے حالات پڑھیں اور وہاں تو وہ بالکل ٹھیک تھا۔
خونی برج وہ مقام تھا جہاں 1st Bombay Fusiliers (برطانوی فوج) اور سکھ فوج کے درمیان شدید جنگ لڑی گئی تھی۔ یہ برج تب تہہ ہوئی جب برطانوی افواج نے ملتان پر قبضہ کیا۔ یہاں دو برطانوی ایلچی دفن کیے گئے تھے، جنہیں سکھ باغیوں نے قتل کیا تھا۔ بعدازآں ان کی قبریں ملتان قلعہ میں منتقل کی گئیں۔ خونی برج مٹیّ اور اینٹ کی تعمیر ہے، نچلے حصے میں کچھ تباہی ہے۔ چھت پر ایک امام بارگاہ ہے، اور کچھ حصہ مذہبی استعمال کے لیے ہوتا ہے۔ سن 2006 میں تعمیرنو کا کام ہوا، اور اسے جزوی طور پر محفوظ کیا گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں اس دیوار اور برج کو لائٹنگ اور بنچوں کے ساتھ اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ خونی برج نہ صرف ایک تاریخی مقام ہے بلکہ مذہبی اور ثقافتی لحاظ سے بھی اہم ہے۔
وقت کے ساتھ اس برج کا ایک مخصوص تعلق تعزیہ اور محرم سے جڑ گیا ہے۔ یہ تعلق تاریخی بھی ہے اور مذہبی و ثقافتی روایات کا حصہ بھی۔ خونی برج کی اوپری سطح پر ایک امام بارگاہ/ماتمی جگہ موجود ہے۔ یہاں محرم کے ایام میں مجالس ہوتی ہیں، ماتمی جلوس کا گزر ہوتا ہے۔ تعزیوں کی زیارت کے لیے لوگ آتے ہیں۔ اس کی وجہ سے خونی برج ملتان کے محرم کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔ ملتان میں کئی قدیم محلے ایسے ہیں جہاں سے تعزیہ نکل کر مختلف راستوں سے گزرتا ہوا خونی برج کے قریب یا اس کے نیچے سے گزر کر آگے جاتا ہے۔ خاص طور پر قدیم پاک گیٹ، حُسین آگاہی اور گھنٹہ گھر کے محرم جلوس ان کے روایتی تعزیے خونی برج کے قریب آ کر رکتے، سلام کرتے یا گزرتے ہیں۔ یہ رسم سیکڑوں سال پرانی بتائی جاتی ہے۔ خونی برج کے نام کی ایک مقبول مقامی روایت یہ ہے کہ قدیم زمانے میں یہاں لڑائیوں میں بہت خون بہا اسی خوںریز پس منظر کی وجہ سے بعد کے لوگ یہاں تعزیہ اور واقعۂ کربلا کی یاد کو بھی جوڑنے لگے۔ اگرچہ یہ روایت تاریخی طور پر ثابت شدہ نہیں، مگر مقامی عقیدت میں اس کا اثر پایا جاتا ہے۔ دس محرم کو یہاں نوحہ خوانی، علم کی زیارت، تعزیہ کا سلام، ماتمی سینہ زنی، یہ سب روایتی انداز میں ہوتا ہے۔
گاؤ شالہ ملتان
ملتان کا گاؤشالہ (گو شالہ) ایک تاریخی مقام تھا جو ہندو برادری کا قائم کردہ ادارہ تھا۔ اس کا مقصد گائیوں کی دیکھ بھال، خوراک، پناہ اور حفاظت تھا۔ برصغیر کے دیگر شہروں کی طرح ملتان میں بھی ہندو سماج نے ایک باقاعدہ گاؤشالہ قائم کیا ہوا تھا جو 1947ء سے پہلے فعال تھا۔ گاؤشالہ قدیم ملتان شہر کے اندر حرم گیٹ کے علاقے میں واقع تھا۔ یہ جگہ آج بھی لوگوں میں ’’گو شالہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے اور وہاں کی گلیاں، محلہ اور اطراف اس پرانے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ یہاں بیواؤں، مہمان یاتریوں اور مزدوروں کے لیے بھی کبھی کبھار مفت کھانا (لانگر) دیا جاتا تھا۔ قرب و جوار کے علاقوں سے بیمار یا بے سہارا گائے یہاں لائی جاتی تھیں۔ 1947ء کے بعد ہندو آبادی کے ہجرت کرنے پر یہ عمارت سرکاری تحویل میں آگئی۔ آج وہ پرانی عمارت اپنے اصل استعمال میں نہیں، مگر محلہ کا نام ’’گو شالہ‘‘ اب بھی موجود ہے۔ کئی لوگ اسے تاریخی ملتان کی ایک نشانی کے طور پر جانتے ہیں۔
ہندو مذہب میں گوشالہ کی اہمیت کی وجہ یہ ہے کہ اس مذہب میں گائے کو ماں کا درجہ حاصل ہے۔ ہندو مذہب میں گائے کو ’’ماں‘‘ (گاؤ ماتا) کہنے کی کئی مذہبی، علامتی اور معاشرتی وجوہات ہیں۔ یہ تصور صرف عقیدت پر ہی استوار نہیں بلکہ قدیم ہندو سماج کے طرزِزندگی اور مذہبی فلسفے سے جڑا ہوا ہے۔ گائے انسان کو وہ غذائیں دیتی ہے جو قدیم معاشرے میں بنیادی خوراک شمار ہوتی تھیں۔ ہندو شاستروں میں دودھ کو ماں کے دودھ کی طرح نعمت سمجھا جاتا ہے، اسی لیے گائے کو ’’پالن کرنے والی ماں‘‘ کا درجہ دیا گیا۔
گوشالہ ملتان دہلی گیٹ سے تقریباث ایک کلومیٹر دور ہے۔ یہ جگہ کسی دور میں شہر سے باہر ہوا کرتی تھی لیکن اب شہر نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ گاؤ شالہ جامعہ خیرالمدارس کے قریب واقع ہے اور اس کے کچھ آثار ابھی بھی باقی ہیں جن میں نہایت مضبوط اور عالی شان دروازہ اور ایک بہت ہی پرانا نیم کا درخت شامل ہے۔ گاؤ شالہ میں مویشیوں کو پانی کی فراہمی کے لیے ایک کنواں بھی موجود تھا، جسے اب بند کردیا گیا ہے جب کہ مویشیوں کے چارے کے لیے ارد گرد کھیت موجود تھے۔ کچھ عرصہ قبل تک یہاں مویشیوں کے لیے سائے کے لیے بڑے شان دار قسم کے برآمدے موجود تھے جو اب وہاں کے مکینوں نے گرا کر اپنے نئے مکانات تعمیر کرلیے ہیں۔ آج بس ایک دروازہ اور اس کے اوپر موجود ایک کمرا ہی گاؤ شالہ ہے۔ دروازے کے ساتھ ہی ایک پرانا مکان بچا ہے جس میں میں بوجہ خواتین کا داخلہ منع ہے۔ گاؤ شالہ کے قریب ہی شمشان گھاٹ اور ایک مندر بھی موجود ہے۔
مزار نواب سعید خان قریشی
روایت ہے کہ نواب سعید خان قریشی نے اندرونِ دہلی دروازہ اپنا مقبرہ خود بنوایا تھا۔ نیلے ٹائلز، دو منزلہ ڈھانچا (مختلف ماخذوں میں تین/دو منزلہ کا تذکرہ ہے)۔ مقبرہ خود انہوں نے زندگی میں بنا کر اپنے باغ/محل کے گوشے میں رکھوایا بتایا جاتا ہے۔ وفات کا عمومی حوالہ 1677 ہے۔ یوں یہ مغلیہ دور کا عہد بنتا ہے۔ نواب سعید خان کی ذاتی شناختی ملتانی مقبرہ سازی اور ٹائل کاری کی ہے۔ نگہداشت کی کمی کے باعث آج یہ مقبرہ خرابی کا شکار رہا ہے۔ ہوں تو نواب سعید احمد قریشی کے نام پر ملتان کی بہت سی تعمیرات ہیں مگر ان میں سب سے بڑا نام ساقی مسجد کا ہے۔ کچھ محققین اسے 16ویں صدی سے منتسب کرتے ہیں۔ یہ ملتان کی قدیم مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ یہ شہر کی مذہبی و سماجی تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ ان ہی کے مزار کے گرد و نواح (دہلی دروازہ کے اندر جو محل باغ کہا جاتا تھا) کو باغ تھا، وہ بھی نواب سعید احمد خان قریشی کا ہی بنایا ہوا تھا۔ تاریخی روایات بتاتی ہیں کہ نواب صاحب کا ایک وسیع باغ و محل تھا اور مقبرہ اسی باغ کے گوشے میں تعمیر تھا مگر وقت کے ساتھ باغ اور محلات کا زیادہ تر حصہ مٹ گیا یا ضائع ہوچکا۔
نواب سعید خان قریشی ملتان کے معروف نواب قریشی خاندان کی ایک اہم اور بااثر تاریخی شخصیت تھے۔ قریشی خاندان ملتان میں صدیوں سے مذہبی، سماجی اور انتظامی اثر و رسوخ رکھتا آیا ہے۔
نواب سعید خان قریشی بنیادی طور پر تاریخی نواب اور زمیندار اشرافیہ میں شمار ہوتے تھے، جنہوں نے اپنے دور میں ملتان کی تعمیر و ترقی، امن و امان اور مقامی انتظامی معاملات میں کردار ادا کیا۔ وہ ملتان کے ایسے قریشی خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو روایتی طور پر اولیائے کرام، سجادہ نشینوں اور مقامی نوابوں کے طور پر معروف ہیں۔ انہیں اپنے وقت میں ملکی اور مقامی انتظامی اثر و رسوخ حاصل تھا۔ تاریخی شواہد کے مطابق وہ نواب خاندان کی ایک شاخ کے سردار تھے، جس کا اثر ریاستی حکام اور مقامی آبادی پر تھا۔ ان کے خاندان کی جاگیریں اور اثر زیادہ تر شاہ رکن عالم، دولت گیٹ اور پرانے ملتان کے علاقوں تک پھیلا ہوا تھا۔ نواب سعید خان قریشی بنیادی طور پر نوابی زمیندار اور اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیت تھے۔ وہ کسی بڑے مذہبی سلسلے کے سجادہ نشین نہیں تھے، البتہ قریشی خاندان روایتی طور پر مذہبی حیثیت بھی رکھتا ہے۔
ملتان کا تاج محل
ہم ملتان کی تنگ گلیوں میں سے گزر رہے تھے کہ ایک دم سے گلی اونچی ہوئی اور ہم گھومتے ہوئے ایک ایسے گھر کے ساتھ پہنچ گئے جو ملتان شہر میں دھنی کا محل کے نام سے مشہور ہے۔
ملتان کی قدیم شاہی اور مذہبی تاریخ میں ’’دھنی کا محل‘‘ ایک کم معروف مگر اہم حوالہ ہے۔ یہ نام عام طور پر پرانی کشمیری دروازے اور پرانے شاہی قلعے کے اندرونی علاقوں سے منسوب کیا جاتا ہے، جہاں مختلف ادوار میں ہندو، سکھ اور مسلم حکم رانوں کے رہائشی یا مذہبی مقامات موجود تھے۔
ملتان کے محلہ آغا پورہ میں موجود یہ عمارت دھنی کا محل کہلاتی ہے جب کہ میں اسے ملتان کا تاج محل کہتا ہوں۔ دھنی کا یہ محل تاج محل جیسا تو نہیں لیکن اس کو بنانے کی وجہ اس کو تاج محل بنا دیتی ہے۔ اس کے پیچھے دو کہانیاں ہیں۔ پہلی یہ کہ یہ محل ایک صوفی بزرگ نے اپنی محبوبہ کے لیے بنایا جب کہ دوسری کہ یہ ملتان کے ایک ہندو صنعت کار نے اپنی بیوی کو بنوا کر دیا۔ بس یہی ایک بات ہے جو تاج محل اور دھنی کے محل میں مشترک ہے کہ تاج محل بھی تو شاہ جہان نے اپنی بیوی ممتاز کے لیے بنوایا تھا۔
دھنی کا محل تو ایک طرف رہا، آپ ذرا آخری تصویر میں اس گھر کا پرنالہ دیکھیں کہ کیسے بارش کے پانی کو چھت سے نیچے لانے کے لیے اوپر جہاں پرنالہ شروع ہوتا ہے، وہاں پہلے ایک گولائی دی گئی ہے تاکہ پانی باہر کی طرف نہ اچھلے اور سیدھا دیورا کے ساتھ لگ کر نیچے آئے۔ پہلے کیسے کیسے خوب صورت، ہوا دار اور سب موسموں کو مدنظر رکھتے ہوئے گھر بنائے جاتے تھے۔ اب وہ نفاست، خوب صورتی کہاں۔ اب ایسے جھروکے کہاں جو گھروں کو چار چاند لگا دیا کرتے تھے۔ دھنی محل کا جھروکا اس قدر خوب صورت ہے کہ اگر میرے بس میں ہوتا تو اسے اتار کر اپنے گھر لے آتا۔
حضرت شاہ دانہ شہید، ملتان
تاریخ شاہد کیا کہ اولیاء کرام کے شہر ملتان جو کہ ہمیشہ سے حملہ آوروں کی زد میں رہا، جنہوں نے شہر کو ماسوائے تباہی و بربادی کی کچھ نہیں دیا، ان حملہ آواروں میں چنگیز خان اور منگول فوجی بھی شامل تھے جو کہ آندھی کی طرح شہر میں آئے اور اسے تباہی سے دوچار کیا۔ منگول فوج نے اس شہر میں خون کی ہولی بھی کھیلی اور سروں کے مینار بھی تعمیر کیے۔ وہ گلیاں وہ محلے آج بھی موجود ہیں جو کہ ماضی میں ہونے والے ظلم و ستم کی یاد دلاتے ہیں۔ ان ہی گلی محلوں میں ملتان کے دہلی دروازے کے قریب ایک محلہ ’’کمان گر‘‘ بھی شامل ہے جہاں گھمسان کی جنگ ہوئی تھی اور بے شمار اولیاء کرام، علماء کرام اور بزرگان دین بھی شہید ہوئے تھے۔ اسی جنگ میں شہید ہونے والے ایک بزرگ حضرت شاہ دانہ شہید کے نام سے مشہور ہیں۔
ماضی میں بسنے والے بعض مورخین کہتے ہیں کہ ماضی میں گلی میں تیر کمان، تلواریں، برچھے بندوق وغیرہ تیار کیے جاتے تھے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دنیا کو فتح کرنے کا عزم لے کر نکلنے والے سکندراعظم کو جو تیر لگا تھا وہ اسی محلے میں تیار کیا گیا۔ اولیاء کرام جب اس شہر میں وارد ہونا شروع ہوئے تو مشہور صوفی بزرگ حضرت بہاؤدین زکریا ملتانی نے اسلحہ سازی کرنے والوں سے کوئی اور کام کرنے کی گزارش کی۔ جس کے بعد لوگوں نے اسلحہ سازی چھوڑ کر اس کی جگہ کاشی گری اور نقاشی کا کام شروع کر دیا جس کے بعد اب تک یہاں پر ثقافت کا ہی کام ہوتا ہے۔ اسی علاقے میں منگولوں سے جنگ کرتے ہوئے لا تعداد اولیاء کرام اور بزرگان دین شہید ہوئے جن میں سے ایک حضرت شاہ دانہ شہید بھی ہیں۔
حضرت دانا شہید رحمۃ اللّہ علیہ کا مزار جو کہ قدیم عمارتوں میں گھرا ہے، ان کے حوالے سے تاریخ کی کتب میں درج ہے آپ ایک صاحبِ کرامت بزرگ تھے اور انہوں نے منگولوں کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا مگر شہر ملتان پر آنچ نہیں آنے دی۔ اس جنگ میں شہید ہونے والے یہ واحد بزرگ نہیں ہیں بلکہ ان کے ساتھ سیکڑوں اولیاء کرام اور علماء اکرام نے شہادت پیش کی جن میں سے کچھ تو اس مزار کے احاطے میں دفن ہیں۔ بعض بزرگانِ دین ملتان کے گردونواح میں دفن ہیں اور انہی درباروں میں سے ایک دربار مظفرگڑھ میں ہے جو فرشتوں والا دربار کے نام سے مشہور ہے۔
حضرت شاہ دانہ شہید رحمۃ اللّہ علیہ کے حوالے سے بعض مضبوط روایتیں بھی ہیں جن میں سے ایک میں انہیں حضرت بہاالدین زکریا کا جاں نثار قرار دیا جاتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 10 سال کی عمر میں حضرت بہاالدین زکریا ملتانی رحمۃ اللّہ پر لگے جھوٹے الزام پر گواہی دی تھی اور اس کے بعد ان کی صحبت اختیار کرتے ہوئے علم و فنون کی تربیت حاصل کی اور آگے چل کر خود ایک مشہور بزرگ کے نام پر مانے جانے لگے۔ ان کا مزار جو کہ حضرت بہاالدین زکریا کے مزار سے مشابہ ہیں لیکن ان کے مزار پر کاشی گری کا کوئی کام نہیں بلکہ اس کی گنبد پر سفیدی کی جاتی ہے۔ مزار کے اندر قبریں موجود ہیں، جن میں سے ایک حضرت شاہ دانہ شہید کی جبکہ دوسری قبر ان کے بھائی پیر کمال شاہ کی ہے۔ حضرت شاہ دانا شہید رحمت اللّہ علیہ کے عمل سے یہ بھی مشہور ہے کیوں سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں لوگوں کو مشرف بہ اسلام کیا اور مزار کے قریب ہی لگے درخت کے نیچے وہ بھٹکے ہوئے لوگوں کے درس و تدریس کا کام کیا کرتے تھے اور انہیں نیکی کے راستے دکھاتے تھے۔
ملتان کا ہولی سے بہت گہرا اور قدیم تعلق ضرور موجود ہے مگر یہ غلط العام ہے کہ ہولی کی شروعات ملتان سے ہوئی۔
ہولی کی بنیادی شروعات شمالی ہندوستان خصوصاً متھرا اور ورندابن سے ہوتی ہے۔ رنگوں والی ہولی کرشن کی روایات سے جڑی ہے، اور آگ جلانے والی ہولی (ہولیکا دھن) پرہلاد–ہولیکا کی کہانی سے۔ یہ دونوں روایات ہندوستان سے وابستہ ہیں، اس لیے ہولی کا اصل مرکز ملتان نہیں تھا۔ قدیم ہندو روایات میں ملتان کو ’’پرہلاد کا شہر‘‘ کہا گیا ہے۔ ملتان کے قدیم سورج مندر (سورج کنڈ) کے پاس پرہلاد پیڑی / پرہلاد مندر موجود تھا۔ ہولی کی کہانی پرہلاد اور ہولیکا سے جڑی ہے۔ اس وجہ سے قدیم دور میں ملتان میں ہولی بڑے مذہبی رنگ میں منائی جاتی تھی۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ہولی کی کہانی کا تعلق ملتان سے ہے، مگر ہولی کا آغاز ملتان سے نہیں ہوا۔ ہولی کی بنیاد والی کہانی (پرہلاد–ہولیکا) ملتان کی مذہبی روایات میں اہم مقام رکھتی ہے۔ اس لیے ملتان کو ہولی کی داستان سے جوڑا جاتا ہے لیکن یہ کہنا کہ ہولی کی شروعات ملتان سے ہوئی، یہ غلط ہے۔
یہاں سوال یہ بھی ہے کہ پرہلاد_ہولیکا کی کہانی اصل میں ہے کیا۔
پرہلاد–ہولیکا کی کہانی ہندو مت میں ہولی کے تہوار سے جڑی ہوئی ایک مشہور روایت ہے۔ یہ کہانی نیکی، بھگتی اور سچائی کی برائی پر فتح کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ روایت کے مطابق ہیرنکشیپ (Hiranyakashipu) ایک طاقت ور راکشس راجا تھا۔ اس نے یہ اعلان کر رکھا تھا کہ کوئی انسان یا جانور اسے نہیں مار سکتا۔ دن یا رات میں کوئی اسے قتل نہیں کرسکتا۔ زمین یا آسمان پر بھی کوئی اسے نہ مار سکے گا۔ اتنی طاقت پا کر وہ خود کو خدا سمجھنے لگا اور اپنی رعایا سے اپنی پوجا کرواتا تھا۔ ہیرنکشیپ کا بیٹا پرہلاد وشنو بھگوان کا سچا بھگت تھا۔ وہ اپنے والد کی بتائی ہوئی خودپرستی ماننے سے انکار کرتا تھا۔ یہ بات ہیرنکشیپ کو سخت ناگوار گزری اور اُس نے پرہلاد کو کئی دفعہ قتل کروانے کی کوشش کی۔ سانپ چھوڑے، پہاڑ سے گرایا، ہاتھیوں سے کچلوانے کی کوشش کی، زہر دیا لیکن ہر بار پرہلاد وشنو کے آشیرواد سے بچ جاتا۔ ہیرنکشیپ کی بہن ہولیکا کو ایک چادر کا وردان ملا تھا کہ آگ اسے نہیں جلا سکتی۔
راجا نے اسے حکم دیا کہ وہ پرہلاد کو اپنی گود میں بٹھا کر آگ میں بیٹھے تاکہ پرہلاد جل جائے۔ ہولیکا نے ایسا ہی کیا، مگر روایت کے مطابق چوںکہ وہ اپنا وردان کسی برے کام میں استعمال کر رہی تھی، اس لیے اس کا اثر ختم ہوگیا۔ الٹا ہوا یہ کہ ہولیکا آگ میں جل کر مر گئی مگر پرہلاد محفوظ رہا۔ یہ لمحہ نیکی کی برائی پر جیت کا اعلان سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بعد ہیرنکشیپ نے خود پرہلاد کو مارنے کی کوشش کی تو وشنو جی نے نرسِمھ اوتار لیا۔ شام کے وقت دہلیز پر اور اس نے ہیرنکشیپ کو مار کر پرہلاد کی حفاظت کی۔ ہولی کے تہوار میں ہولیکا دہن یعنی الاؤ جلایا جاتا ہے جو ہولیکا کے جلنے اور نیکی کی فتح کی یاد میں ہوتا ہے۔ رنگوں والی ہولی اگلے دن منائی جاتی ہے جو خوشی اور بہار کا جشن ہے۔
تقسیمِ ہند سے پہلے ملتان میں ہندو اور سکھ برادری کی درجنوں قدیم حویلیاں موجود تھیں۔ ان میں سے کئی اب ختم ہوچکی ہیں، کئی سرکاری عمارتیں بن چکی ہیں اور کچھ اب بھی کسی صورت میں موجود ہیں۔ ملتان میں سورج کنڈ کے اطراف ہندو حویلیاں تھیں۔ یہ علاقہ ہندوؤں کا قدیم مرکز تھا۔ یہاں آلو گڑھ، کھتری، باگڑی اور ارورا خاندانوں کی حویلیاں تھیں۔ ان حویلیوں میں سب سے زیادہ مشہور حویلی لاجپت رائے، حویلی جے رام داس، حویلی نند لال ارورا، باگڑی خاندان کی حویلیاں، کول خاندان کی حویلیاں تھیں۔ ان کے علاوہ ملتان کے سیتلا ہاؤس سے متصل ہندو حویلیاں بھی تھیں۔ حسین آگاہی اور بوہڑ گیٹ کی بھی حویلیاں مشہور تھیں۔ یہ قدیم بازار ہندو تاجروں کی رہائش کا بڑا مرکز تھا۔ حویلی میتھر داس، حویلی لالہ رام کشن، حویلی ٹکّے مل، لالہ بلبیر رائے کی حویلی، حویلی پرہلاد رائے (پرہلادپوری مندر کے متصل) مشہور تھیں۔ دولت گیٹ اور لوہاری گیٹ سیکٹر کا حصہ زیادہ دولت مند کاروباری ہندو خاندانوں کا تھا۔ یہاں حویلی لالہ موہن لعل، حویلی آتما سنگھ کھتری، حویلی بلدیو داس، حویلی رام داس ارورا بڑی حویلیاں تھیں۔ پرہلادپوری مندر کے نواح میں بھی کچھ حویلیاں تھیں۔ مندر کے احاطے کے ساتھ کئی مذہبی خاندان رہتے تھے۔ ان میں مہاراجا تانکا ناتھ کی حویلی، حویلی شیو پرشاد، بجرنگ داس کی حویلی قابلِ ذکر سمجھی جاتی ہیں۔ اندرون شاہ رکنِ عالم روڈ پر حویلی لالہ ہردیال، حویلی ڈاکٹر ہری لال (برطانوی دور کا معروف ہندو سرجن) بڑی اور مشہور حویلیاں تھی۔
ملتان شہر کے اندر سکھ آبادی ہندوؤں کی نسبت کم تھی مگر کنٹونمنٹ، بوہڑ گیٹ اور گردوارہ چہل کونڑ کے اطراف سکھ خاندان رہتے تھے۔ گردوارہ چہل کونڑ کے آس پاس سردار گوبند سنگھ کی حویلی، سردار مہتاب سنگھ کی حویلی لوہاری گیٹ و قریب علاقوں میں حویلی سردار ہرنام سنگھ، حویلی سردار کرپال سنگھ تھی۔ کنٹونمنٹ (بمبے بازار / کینٹ روڈ) پر سکھ مہاجر فوجی اور کاروباری طبقہ رہتا تھا۔ حویلی سردار سنگھا سنگھ، حویلی سردار تارا سنگھ یہاں قابلِ ذکر ہیں۔ ہندو شیٹلا ماتا مندر کے آس پاس کا یہ علاقہ سرائیکی ہندوؤں اور بنیا برادری کا گڑھ تھا۔ یہاں حویلی سوہن لعل بنیا، حویلی شیام داس، حویلی گنگا رام بڑی حویلیاں تھیں۔ زیادہ تر اب سرکاری دفاتر یا اسکولوں میں تبدیل ہوچکی ہیں۔
تقسیمِ ہند سے پہلے کا ملتان ایک قدیم، تہذیبی، مذہبی اور تجارتی مرکز تھا۔ اس دور کا ملتان آج کے شہر سے کئی حوالوں سے مختلف تھا۔ آبادی، ثقافت، طرزِزندگی، بستیاں، بازار، سب کچھ تاریخی رنگ میں ڈوبا ہوا تھا۔ تقسیم سے پہلے ملتان ایک کثیرمذہبی اور کثیر تہذیبی شہر تھا جہاں مسلمان، ہندو، سکھ، جین اور کچھ مسیحی آباد تھے۔ ہندو برادری زیادہ تر تجارتی طبقہ تھی (ارورا، باگڑی، کھتری، لاجپت رائے خاندان وغیرہ)، سکھ زیادہ تر فوج اور ٹرانسپورٹ / زراعت میں جب کہ مسلمان حرفت، کاشت کاری، دست کاری اور مذہبی خدمات میں نمایاں تھے۔ ملتان کی روایتی سرائیکی زبان اُس وقت بھی وسیع پیمانے پر بولی جاتی تھی، جب کہ ہندو و سکھ برادریاں عام طور پر پنجابی/سرائیکی اور اردو بولتی تھیں۔ ملتان کے دروازوں کی گلیاں بہت تنگ اور چھتوں کے راستے ملے تھے۔ ہندو حویلیاں کے چوبارے اور جھروکے بہت ہی خوب صورت بنے ہوئے تھے۔
ملتان کو قدیم زمانے سے ’’مدینۃ الاولیاء‘‘ کہا جاتا رہا ہے۔ تقسیم سے پہلے بھی شہر میں کئی بڑے روحانی مراکز تھے جن میں دربار بہاء الدین زکریا، دربار شاہ رکنِ عالم، دربار شاہ شمس تبریز سبز واری، دربار جھولے لال (سندھی ہندوؤں کا مرکز)، دربار پرہلادپُری مندر (قدیم ترین ہندو مقام) بہت مشہور تھے۔ ہندوؤں کے بڑے مندروں میں پرہلادپُری اور سورج کنڈ کا ذکر ملتا ہے۔ ملتان اُس وقت پورے پنجاب اور سندھ کا اہم تجارتی شہر تھا۔
ہندو تاجر طبقہ اقتصادی سرگرمیوں میں غالب تھا، اس لیے 1947 میں ان کی نقل مکانی نے شہر کی تجارت کو شدید متاثر کیا۔ تقسیم سے پہلے ملتان میں اینڈریو ڈائن ہائی سکول، ایمّرسن کالج (1914 میں قائم)، ہندو گرلز اسکول، سناتن دھرم کالج جب کہ تقسیم سے پہلے مشن ہسپتال بہت مشہور تھا۔ برطانوی دور میں ملتان ضلع ہیڈکوارٹر تھا۔ یہاں کمشنر ہاؤس، سول لائنز، برطانوی تھانہ، کچہری، کنٹونمنٹ ایریا سب موجود تھے۔ ریلوے لائن (1880 کی دہائی) آنے سے ملتان پورے پنجاب کا اہم کنیکٹیو مرکز بنا۔
تقسیم کے دنوں میں ملتان میں کچھ علاقوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی ہوئی۔ ہندو اور سکھ برادری نے بھارت کی طرف ہجرت کی۔ ان کے چھوڑے گئے مکانات اور حویلیاں خالی ہوگئیں۔ مسلمان مہاجرین (خصوصاً مشرقی پنجاب سے) یہاں آباد کیے گئے یوں شہر کی آبادی اور تہذیب کا نقشہ بدل گیا۔
(جاری ہے)