چناروں کے دیس میں !

سچ کے خیمے تک پہنچا جو ظلم کا پہلا تیر آج اسی کی زد میں فلسطیں' بوسنیا' کشمیر


نئیر سرحدی February 09, 2026

اس کی خون آلود آنکھیں بتا رہی تھیں کہ وہ اپنی گہری اور مدھ بھری آنکھوں میں سندر سپنے سجاتے سجاتے اب تھک چکی ہے' وہ اتنے سارے دکھ' غم' زخم اور ظلم و ستم سہنے کے باوجود پرامید ہے کہ وہ دن ضرور آئیگا جب اس کے ہاتھوں سے رسن اور پیروں میں پڑی بیڑیاں کھول دی جائینگی اور وہ ملکہ حسن غلامی سے نجات پا کر آزاد فضاؤں میں سانس لے سکے گی' اس کے وجود کا انگ انگ درد و غم سے دوچار ہے' وہ غلامی کے گھپ اندھیروں میں ڈوبی ایک مسلسل پکارہے 'صدا ہے' فغاں ہے جو اس روشنی اس اجالے اور اس نور کی طلبگار ہے جو اندھیروں کو چھٹ جانے پر مجبور کر دے اور آزادی کی روشن کرنیں اس کی مانگ میں امن و آشتی کا سیندور بھر کر آزادی کے مترنم نغمات فضامیں بکھیردے 'وہ پرکھوں کی امانت وہ مظلوموں کا مسکن وادی کشمیر ہی تو ہے جو آج بھارتی درندوں کے چنگل میں پھنسی اپنی بربادی پر نوحہ کناں ہے۔

حق و باطل کے مابین شر اور خیر میں تصادم ازل سے جاری ہے جو ابد تک رہے گا مگر یہ طے ہے کہ فتح ہمیشہ حق کی اور خیر ہی کی ہو گی۔ یوں تو 5 فروری کا دن پوری دنیا میں یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے لیکن مظلوم کشمیریوں کے ساتھ صرف ایک دن ہی کے لیے نہیں اس وقت تک یکجہتی کا اظہار ہونا چاہیے جب تک کہ یہ جنت نظیر وادی آزاد نہیں ہو جاتی۔

تمام مسلمانوں بشمول کشمیریوں کے ہم سب کی ایک ہی جہت ہے اور وہ ہے کشمیر کی آزادی 'کشمیریوں کا حق خود ارادیت' کشمیری قوم کا تشخص' اس عظیم قوم کی پہچان' وقار اور تقدس اور اسی عزم و ولولہ اور جذبہ خاص کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر دور میں پاکستان کی حکومت اور پوری پاکستانی قوم ہر پلیٹ فارم پر اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ مقبوضہ وادی کشمیر میں خوف کے پہرے ہیں اس درد ناک منظر کو دیکھ کر جناب حبیب جالب بھی خاموش نہ رہ سکے ۔ ببانگ دھل کہہ دیا کہ

ظلم رہے اور امن بھی ہو ' کیا ممکن ہے تم ہی کہو

ہنستی گاتی روشن وادی' تاریکی میں ڈوب گئی

بیتے دن کی لاش پہ اے دل ' میں روتا ہوں تو بھی رو

ہر دھڑکن پہ خوف کے پہرے ' ہر آنسو پر پابندی

یہ جیون بھی کیا جیون ہے ' آگ لگے اس جیون کو

ظلم رہے اور امن بھی ہو

5 فروری کی علی الصبح آنکھ کھلی تو سب سے پہلا میسج سیل فون پر ملائیشیا سے خیبر پختونخوا پشاور کی ممتاز ادیبہ اور شاعرہ محترمہ قدسیہ قدسی کا ملا جوغالباً رات بھر اپنے سندر سپنے میں وادی دلگیر ' کشمیر کا نوحہ کرتی رہیں' یقینا کربلا والوں سے پیارکرنے والوں کے دل بہت ہی گداز ہوتے ہیں' ظالم کا ظلم اور مظلوم کا دکھ برداشت نہیں کر سکتے۔ قدسیہ نے کشمیرکو اپنی کسی عزیز تر سکھی سہیلی کی طرح محسوس کیا' اپنے شبستاں میں شب بھر کشمیر کی بانہوں میں بانہیں ڈالے گریہ کرتی رہیں' وہ کشمیر کے سنگ سنگ چلتے ہوئے قافلہ حسینی کی سفیر بن کر کشمیریوں کے ساتھ صف آراء رہیں۔

وادی کشمیرقدسیہ سے مخاطب ہوئیں' سیدہ تم کربلا والوں کے کرب سے بخوبی واقف ہو' آج میرے کشمیری بچے بھی نیزوں پر اچھالے جارہے ہیں' لکھو' لکھو اور دنیا کے منصفوں کو بتا دو کہ بھارتی درندے عصمت حوا کو تار تار کرنے پر تلے ہوئے ہیں' ایک اور دورکرب و بلا بپا ہو چکا ہے۔ کشمیر' فلسطین اور امت مسلمہ کو دشمنوں نے گھیرے میں لینے کے لیے گھناؤنی سازشوں کا جال پھیلانا شروع کر دیا ہے ' چناروں کے دیس نے ٹپکتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ قدسیہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا' اشکبار آنکھوں کے ساتھ سپنا ٹوٹا تو قلم کاغذلے کر یوں رقم طراز ہوئیں

شعلے سے اٹھ رہے ہیں چناروں کے دیس میں

ویرانیاں بسی ہیں نظاروں کے دیس میں

پامالی و مظالم وہر سو درندگی!!

ہر جا نحوستیں ہیں نگاروں کے دیس میں

کس نے خزاں رسید کیا میرے باغ کو

وحشت سی ہو رہی ہے بہاروں کے دیس میں

قدسی اداس کر گیا اک شخص جو ہمیں

پچھلے برس ملا تھا چناروں کے دیس میں

واقعی ان عظیم شہیدوں کو یاد کرتے ہیں تو دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے کہ جو پچھلے برس ہم میں موجود تھے مگر انھیں بھارتی درندوں نے شہید کر دیا ' کتنے شہداء ہیں جن کے خون سے وادی کشمیر لہو رنگ ہوئی' یہ لازوال قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی' کشمیر جلد آزاد ہو گا۔" ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے " غلام محمد قاصرکے اس شعرپر کالم تمام کیے دیتا ہوں

سچ کے خیمے تک پہنچا جو ظلم کا پہلا تیر

آج اسی کی زد میں فلسطیں' بوسنیا' کشمیر

مقبول خبریں