قومی اسمبلی میں ترلائی دھماکے کے خلاف مذمتی قرارداد کثرت رائے سے منظور

ملک بھر میں عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کے لیے مؤثر، مستقل اور فول پروف انتظامات کیے جائیں، قرارداد


وقاص احمد February 09, 2026
شراب تمام مذاہب میں حرام ہے، رمیش کمار، اپوزیشن ارکان اور حکومت کی طرف سے بل کی مخالفت، مجلس عمل کی حمایت (فوٹو: فائل)

قومی اسمبلی میں ترلائی  امام بارگاہ پر دہشت گردانہ خودکش دھماکے کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔

قومی اسمبلی کا۔اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا۔ جس میں ترلائی میں امام بارگاہ پر ہونے والے دہشت گردانہ خودکش دھماکے کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔

قرارداد مجلس وحدت المسلمین کے رکن قومی اسمبلی انجینئر حمید حسین نے ایوان میں پیش کی، جسے تمام سیاسی جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل ہوئی۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ یہ ایوان ترلائی امام بارگاہ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے، جس کے نتیجے میں معصوم نمازی شہید اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔

ایوان نے اس وحشیانہ کارروائی کو پاکستان کے آئین، مذہبی آزادی، قومی سلامتی اور بین المسالک ہم آہنگی پر براہ راست حملہ قرار دیا۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ اس بزدلانہ حملے میں ملوث خودکش حملہ آوروں، سہولت کاروں اور سرپرست عناصر کو بے نقاب کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

ایوان نے اس بات پر زور دیا کہ کالعدم تنظیموں، ان کے نیٹ ورکس، فنڈنگ ذرائع، سوشل میڈیا پروپیگنڈے اور عوامی سرگرمیوں کے خلاف بلاامتیاز اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔

قومی اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں عبادت گاہوں، بالخصوص مساجد اور امام بارگاہوں کی سیکیورٹی کے لیے مؤثر، مستقل اور فول پروف انتظامات کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا سدباب کیا جا سکے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ شہداء کے لواحقین کو فوری اور مناسب مالی امداد فراہم کی جائے جبکہ زخمیوں کے علاج معالجے کے لیے بہترین طبی سہولیات یقینی بنائی جائیں۔

ایوان نے دہشت گردی کے خلاف قومی سطح پر جامع اور مؤثر حکمت عملی مرتب کرنے اور اس پر عملی طور پر عمل درآمد کا بھی مطالبہ کیا۔ قومی اسمبلی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی، فرقہ واریت اور نفرت پر مبنی تشدد کی کوئی گنجائش نہیں اور ریاست اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے طویل اور غیر معمولی خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی خارجہ پالیسی، افغانستان، دہشت گردی، نائن الیون اور ماضی کی ریاستی غلطیوں پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف کی تقاریر سے انہیں زیادہ اختلاف نہیں کیونکہ اب حقائق سے آنکھیں چرانے کا وقت نہیں رہا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان ویزے کی پابندی نہیں تھی اور لوگ اجازت نامے پر آتے جاتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ خود بھی بغیر ویزہ افغانستان گئے، پاکستان افغانستان کی سرزمین پر لڑی جانے والی دو بڑی جنگوں کا فریق بنا، حالانکہ روس افغانستان کی دعوت پر آیا تھا اور روس کے خلاف جنگ کو جہاد کہنا درست نہیں تھا۔

وزیر دفاع نے اعتراف کیا کہ آج تک ہم اپنا نصاب درست نہیں کر سکے اور اپنی پوری تاریخ تبدیل کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ امریکیوں نے ہمیں استعمال کرنے کے بعد چھوڑ دیا لیکن ہمیں عقل نہ آئی۔

خواجہ آصف کے مطابق نائن الیون کے واقعے کا آج تک یہ تعین نہیں ہو سکا کہ اسے کس نے کروایا، اور اس حملے میں کوئی افغان پشتون، تاجک یا ہزارہ شامل نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ دو دہائیوں تک پاکستان کرائے پر دستیاب رہا اور جب تک ماضی کی غلطیوں کا اعتراف نہیں کیا جائے گا، آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ روس کے خلاف جنگ ایک سپر پاور کی جنگ تھی اور افغانستان میں پاکستان نے کوئی جہاد نہیں لڑا۔ نائن الیون افغانستان نے نہیں کرایا، مگر اس کے بعد ہم ایک کرائے کی جنگ لڑتے رہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ایک شخص نے امریکا کی خوشنودی کے لیے پاکستان کو فرنٹ لائن اسٹیٹ بنا دیا۔ انہوں نے اسی ایوان میں اپنے والد کی اُس وقت کی حکومت میں شمولیت پر معذرت کی اور کہا کہ ان کے علاوہ کسی اور نے اپنے کردار پر معافی نہیں مانگی۔

خواجہ آصف نے قائد اعظم محمد علی جناح کے قول “اتحاد، تنظیم، ایمان” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس ترتیب کو بدل کر ایمان، اتحاد، تنظیم کردیا ۔ ہم نے غیر ملکی حملہ آوروں کے ناموں پر سڑکیں رکھیں، مگر اپنے ہیروز کو ہیرو ماننے سے گریز کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں حملہ آوروں کی بجائے اپنے لوگوں کو ہیروز ماننا ہوگا اور کے کے عزیز کی کتاب کو نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ قوم کو اصل تاریخ معلوم ہو۔ وزیر دفاع نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گردی کی مذمت کرنے پر بھی متحد نہیں ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ترلائی واقعے پر بیان دینے کے بعد انہیں سنگین دھمکیاں دی گئیں اور ان کا موبائل دھمکی آمیز پیغامات سے بھرا ہوا ہے، وہ تمام مسالک اور مذاہب کا احترام کرتے ہیں اور سچ بولتے رہیں گے چاہے کچھ بھی ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ پینتیس سال سے سیاست میں ہیں اور اگر سچ نہ بول سکے تو سیاست چھوڑ دیں گے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ریاست کی سرپرستی میں تنظیمیں بنائی گئیں اور مذہبی منافرت کو جان بوجھ کر ہوا دی گئی۔

انہوں نے سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں پاکستان کو استعمال کرنے کی بات کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومتوں نے دنیا بھر میں کروڑوں مسلمانوں کو قتل کیا اور معمر قذافی کے بیٹے کو بھی نہیں بخشا گیا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ افغان حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ٹی ٹی پی کو سرحد سے دور لے جائے گی، مگر اس کے بدلے پاکستان سے دس ارب روپے مانگے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی رقم کے باوجود افغانستان گارنٹی دینے کو تیار نہیں تھا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے کم از کم پچاس لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی، جبکہ امریکہ کے وفادار آج بھی یہاں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت براہ راست جنگ کی ہمت نہیں رکھتا، اس لیے افغانستان کے ذریعے چھپ کر وار کر رہا ہے۔ پاکستان سپر پاورز کا معاون ضرور رہا مگر ہم نے کسی پر حملہ نہیں کیا۔ وزیر دفاع نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ دونوں جنگیں ہماری نہیں تھیں۔
 خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت پاکستان کے خلاف ایک پروکسی جنگ لڑ رہا ہے اور دہشت گردی کے اس چیلنج پر قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے اختلافات پر بھی اتفاقِ رائے پیدا کر سکتے ہیں اور اس ایوان کو اس مقصد کے لیے بروئے کار لانا ہوگا۔ انہوں نے ولی خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بارہ لاشیں اٹھائیں مگر خاموش رہے، کیونکہ اس مٹی کے ساتھ وفاداری مشروط نہیں ہونی چاہیے۔ خواجہ آصف کے مطابق اگر وفاداریاں مشروط ہوں گی تو دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنا مشکل ہو جائے گا۔ قبل ازیں قومی اسمبلی کے اجلاس میں ترلائی میں امام بارگاہ پر ہونے والے ہولناک خودکش حملے پر بحث کے لیے تحریک متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ ترلائی واقعہ ایک منظم دہشت گردی کی کارروائی تھی جس میں خودکش حملہ آور نے سیکیورٹی گارڈز پر فائرنگ کے بعد عبادت گاہ کے اندر داخل ہوکر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے مطابق حملے میں اب تک 33 نمازی شہید ہوچکے ہیں جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے، جب کہ 150 سے زائد افراد زخمی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں تعلیمی ادارے ہونے کی وجہ سے طلبہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔ واقعے میں آئی جی اسلام آباد کے کزن حسن شہید جبکہ چچا زخمی ہوئے۔
ایوان کو آگاہ کیا گیا کہ خودکش حملہ آور کی شناخت یاسر خان کے نام سے کرلی گئی ہے، جب کہ نوشہرہ سے سی ٹی ڈی نے چار دہشت گرد گرفتار کرلیے ہیں۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق مارا جانے والا دہشت گرد بھی خودکش حملہ آور تھا جس نے افغانستان میں تربیت حاصل کی۔ وفاقی وزیر کے مطابق انٹیلی جنس اداروں نے بروقت کارروائیوں کے ذریعے متعدد ممکنہ حملے ناکام بنائے، تاہم ترلائی واقعے میں سیکیورٹی گارڈز خودکش حملہ آور کو روکنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے جو افغانستان میں دہشت گردوں کو تربیت فراہم کر رہا ہے۔پیپلز پارٹی کے رکن عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ سجدے کی حالت میں 31 افراد، بچوں سمیت، شہید کیے گئے، جب کہ زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ کچھ عرصے کے لیے ضرور رکا تھا مگر اب سوال یہ ہے کہ ہم کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک میں عبادت کے دوران لوگ شہید ہوں وہاں بیرونی سرمایہ کاری کیسے آئے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بدامنی اور عدم استحکام کے باعث اس سال سب سے زیادہ سرمایہ داروں نے ہجرت کی۔ ترلائی واقعے نے پورے پاکستان کا دل دہلا دیا، سندھ میں تمام تقریبات منسوخ کردی گئیں، اب وقت آگیا ہے کہ فوکس درست کیا جائے اور اندرونی سیکیورٹی کو اولین ترجیح دی جائے۔
اسد قیصر کا اظہارِ خیال
سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ترلائی دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں اور ایک ہفتے میں 300 جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایوان میں قراردادیں تو پاس کرتے ہیں مگر عملی نتائج سامنے نہیں آتے۔اسد قیصر کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ پالیسی کا محور ہوتی ہے لیکن جو پالیسیاں بن رہی ہیں ان کا پارلیمنٹ سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو آن بورڈ لے کر قومی پالیسی بنانے، نئے انتخابات کے انعقاد اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی کی ذمہ دار موجودہ حکومتی پالیسیاں ہیں۔اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ دہشت گردی کا آغاز عالمی طاقتوں کے خطے میں مداخلت سے ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی قوتیں پاکستان کو کمزور اور تقسیم کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے نجات کا واحد راستہ انصاف ہے، کیونکہ بے انصافی کے نتیجے میں معاشرے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔محمود خان اچکزئی نے قومی حکومت کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ متفقہ آزاد اور شفاف انتخابات کے ذریعے بننے والی حکومت عوامی تائید سے دہشت گردی پر قابو پاسکتی ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار ہے اور عوام نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست رہا ہے اور یہ بزدلانہ حملے کسی اندرونی اختلاف کا نتیجہ نہیں بلکہ پاکستان انڈر اٹیک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کر رہا ہے اور کھلی جنگ میں ناکامی کے بعد اب دہشت گردی کی جنگ مسلط کی جا رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ شیعہ سنی ایک دوسرے کی عبادت گاہوں پر حملے نہیں کر رہے بلکہ فرقہ واریت پھیلانے کے لیے بیرونی قوتیں دہشت گردی کرا رہی ہیں۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ سیاست سب کا حق ہے مگر دہشت گردی کے خلاف یک زبان ہونا ہوگا۔ انہوں نے ایوان پر زور دیا کہ قومی مکالمہ اسی پارلیمنٹ میں ہو کیونکہ یہ ایوان 25 کروڑ عوام کی دانش گاہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اداروں کے پیچھے کھڑا ہونا ہوگا اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دشمن کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

مقبول خبریں