عالمی طاقتوں کا دوہرا معیار

حملوں کے نتیجے میں شدید سرد موسم میں لاکھوں افراد حرارت سے محروم ہوگئے ہیں۔


ایڈیٹوریل February 10, 2026

روس نے یوکرین پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں جس میں بجلی پیدا اور ترسیل کرنے والے مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جس میں 400 سے زائد ڈرونز اور مختلف اقسام کے تقریباً 40 میزائل استعمال کیے گئے۔ حملوں کے نتیجے میں شدید سرد موسم میں لاکھوں افراد حرارت سے محروم ہوگئے ہیں۔

 یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یوکرین اور روس کے نمائندوں کے درمیان ابوظہبی میں مذاکرات کا دوسرا دور متوقع ہے۔ دوسری جانب سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کو غزہ بورڈ آف پیس میٹنگ میں شرکت کی دعوت موصول ہوگئی ہے اور پاکستان نے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اجلاس میں غزہ کی صورتحال، امن و استحکام سے متعلق اقدامات اور آیندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ اب محض دو ریاستوں کا باہمی تنازع نہیں رہی بلکہ یہ موجودہ عالمی نظام، اس کی اخلاقی بنیادوں اور اس کے دعوے کردہ کردار پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ جنگ کے آغاز سے لے کر آج تک دنیا نے مسلسل بیانات، قراردادیں، پابندیاں اور سفارتی کوششیں دیکھیں، مگر عملی طور پر امن کی جانب کوئی ٹھوس پیش رفت نظر نہیں آتی۔ حالیہ دنوں میں روس کی جانب سے یوکرین کے توانائی کے نظام پر بڑے پیمانے پر کیے گئے فضائی حملے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ جنگ نہ صرف طول پکڑتی جا رہی ہے بلکہ اس کی نوعیت بھی مزید سفاک اور غیر انسانی ہوتی جا رہی ہے۔

سرد ترین موسم میں بجلی گھروں، تھرمل پاور اسٹیشنز اور ترسیلی نظام کو نشانہ بنانا دراصل عام شہریوں کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور جنگی اخلاقیات کی صریح خلاف ورزی ہے۔ منفی بیس ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب درجہ حرارت میں ہیٹنگ سسٹم کا بند ہو جانا انسانی زندگی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کے ایک اور دور کی توقع کی جا رہی تھی، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ طاقت کے استعمال کو سفارت کاری پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل اس دعوے کی نفی کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں تنازعات کے حل کے لیے سنجیدہ ہیں۔

روس اور یوکرین کی جنگ کو اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ محض 2022 میں شروع ہونے والا تصادم نہیں بلکہ سرد جنگ کے بعد قائم ہونے والے عالمی طاقت کے توازن کا تسلسل ہے۔ نیٹو کی مشرق کی جانب توسیع، روس کے سیکیورٹی خدشات، یوکرین کی جغرافیائی اور سیاسی اہمیت اور بڑی طاقتوں کے مفادات نے اس خطے کو برسوں سے ایک ممکنہ تصادم کا میدان بنا رکھا تھا۔ مگر اس سب کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ان تاریخی عوامل کی بنیاد پر آج کے دور میں عام شہریوں کو اجتماعی سزا دینا جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ عالمی برادری نے ماضی میں بوسنیا، عراق، افغانستان اور شام جیسے تنازعات میں بھی یہی دیکھا کہ طاقتور ممالک اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرتے ہیں اور انسانی جانوں کی قیمت ثانوی ہو جاتی ہے۔

نیٹو کے سربراہ مارک روٹے کا کیف کے دورے کے دوران یہ کہنا کہ ایسے حملے امن مذاکرات کے لیے غیر سنجیدہ رویے کی عکاسی کرتے ہیں، دراصل ایک اعتراف ہے کہ سفارتی کوششیں مؤثر ثابت نہیں ہو رہیں۔ اگر عالمی اتحاد واقعی مضبوط ہوتا تو شاید روس کو اس سطح کے حملے کرنے کی ہمت نہ ہوتی۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ پابندیوں، سفارتی دباؤ اور عالمی تنہائی کے باوجود روس کی جنگی صلاحیت کیوں برقرار ہے؟ اس کا سادہ جواب یہی ہے کہ عالمی نظام میں طاقت اور مفادات کی سیاست آج بھی غالب ہے اور اخلاقی اصول اکثر بیانیے تک محدود رہ جاتے ہیں۔

اسی عالمی تناظر میں اگر غزہ کی صورتحال کو دیکھا جائے تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔ غزہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل تنازع، محاصرے اور انسانی بحران کا شکار ہے۔ ہزاروں جانیں ضایع ہو چکی ہیں، بنیادی انفرا اسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے اور ایک پوری نسل عدم تحفظ، خوف اور محرومی میں پروان چڑھ رہی ہے۔ اس کے باوجود عالمی برادری کی کوششیں یا تو ناکافی رہی ہیں یا پھر جانبداری کا شکار نظر آئی ہیں۔

اقوام متحدہ کی قراردادیں ہوں یا عالمی طاقتوں کے بیانات، زمینی حقائق میں بہت کم تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ایسے میں واشنگٹن میں غزہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس کا اعلان بظاہر ایک مثبت پیش رفت محسوس ہوتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں ہونے والا یہ اجلاس، جس میں مختلف ممالک بشمول پاکستان کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے، غزہ کی صورتحال، امن و استحکام اور تعمیرِ نو کے لیے فنڈ ریزنگ پر غور کرے گا۔ مگر اس اقدام کے ساتھ ہی یہ سوال بھی جڑا ہوا ہے کہ کیا یہ اجلاس محض سفارتی سرگرمی اور علامتی قدم ثابت ہوگا یا واقعی غزہ کے مظلوم عوام کے لیے کوئی عملی تبدیلی لائے گا؟امریکا، جو عالمی سیاست میں سب سے طاقتور کردار سمجھا جاتا ہے، غزہ کے معاملے میں اب تک ایک واضح اور غیر جانبدار کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اگر وہ واقعی امن کا خواہاں ہوتا تو اپنی سیاسی، عسکری اور معاشی طاقت استعمال کر کے فوری اور مستقل جنگ بندی ممکن بنا سکتا تھا، مگر ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ غزہ کے حوالے سے اکثر کوششیں یا تو وقتی ہوتی ہیں یا پھر بڑے جغرافیائی اور سیاسی مفادات کی نذر ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی حکومتوں نے غزہ امن بورڈ کے اجلاس پر محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے۔

پاکستان کی ممکنہ شرکت اس اجلاس کو ایک اخلاقی اور سفارتی وزن فراہم کر سکتی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور انسانی حقوق کی حمایت کی ہے۔ چاہے وزیراعظم شہباز شریف اجلاس میں شریک ہوں یا نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، پاکستان کی موجودگی اس بات کی یاد دہانی ہوگی کہ مسلم دنیا اور ترقی پذیر ممالک اس مسئلے کو محض علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی انسانی بحران سمجھتے ہیں۔

تاہم پاکستان سمیت دیگر ممالک کی آواز اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک بڑی طاقتیں سنجیدگی سے عملی اقدامات پر آمادہ نہ ہوں۔روس اور یوکرین کی جنگ اور غزہ کا بحران دراصل ایک ہی عالمی مسئلے کی دو مختلف شکلیں ہیں۔ دونوں صورتوں میں عالمی ادارے، خصوصاً اقوام متحدہ، اپنی محدودیت کا شکار نظر آتے ہیں۔ سلامتی کونسل کی قراردادیں ویٹو کی سیاست میں الجھ کر رہ جاتی ہیں اور امن کے قیام کی ذمے داری طاقتور ممالک کی صوابدید پر چھوڑ دی جاتی ہے۔ یہ صورتحال عالمی نظام کے اس بنیادی تضاد کو نمایاں کرتی ہے جہاں طاقت اور انصاف ایک دوسرے کے متوازی نہیں چلتے۔

آج دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں اسے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ طاقت کے بل پر قائم نظام کو برقرار رکھنا چاہتی ہے یا انصاف اور انسانی وقار کو بنیاد بنا کر ایک نیا عالمی معاہدہ تشکیل دینا چاہتی ہے۔ امن بورڈز، کانفرنسیں اور اجلاس اس وقت تک بے معنی رہتے ہیں جب تک ان کے پیچھے حقیقی سیاسی عزم موجود نہ ہو۔

دنیا کو آج محض بیانات نہیں بلکہ ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے جو طاقتور اور کمزور کے درمیان فرق مٹا سکیں۔ روس کو یہ پیغام دینا ضروری ہے کہ شہری آبادی کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں، اور غزہ کے حوالے سے یہ واضح کرنا ہوگا کہ انسانی جانوں کی حفاظت سیاسی مفادات سے بالاتر ہے۔اگر عالمی طاقتیں واقعی امن چاہتی ہیں تو انھیں اپنے دوہرے معیار ترک کرنے ہوں گے۔ یوکرین کے لیے اگر سفارتی، معاشی اور عسکری دباؤ استعمال کیا جا سکتا ہے تو غزہ کے لیے کیوں نہیں؟ اگر ایک خطے میں شہریوں پر حملے جنگی جرم کہلاتے ہیں تو دوسرے خطے میں انھیں نظرانداز کیوں کیا جاتا ہے؟ یہی وہ سوالات ہیں جو آج عالمی نظام کے سامنے کھڑے ہیں۔

روس اور یوکرین کی جنگ ہو یا غزہ کا بحران، دونوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کو محض ایک مباحثی فورم کے بجائے ایک مؤثر ادارہ بنانا ہوگا اور بڑی طاقتوں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ امن صرف طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، برابری اور انسانی احترام سے قائم ہوتا ہے، اگر ایسا نہ ہوا تو دنیا ایک کے بعد ایک بحران کا سامنا کرتی رہے گی اور امن ایک دور کی حقیقت بنتا چلا جائے گا۔

آخرکار یہ سوال ہر ذی شعور فرد کے ذہن میں ابھرتا ہے کہ جو قوتیں نہ یوکرین میں جنگ رکوا سکیں اور نہ ہی غزہ میں خونریزی ختم کر سکیں، کیا وہ واقعی دنیا میں امن قائم کرنے کی اہل ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر عالمی نظام کو ازسرنو سوچنے اور تشکیل دینے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ دنیا کو آج انتخاب کرنا ہے یا تو وہ طاقت کے سہارے چلتی رہے، یا پھر انسانیت کو اپنا اصل محور بنا لے۔ یہی انتخاب آنے والے برسوں میں عالمی امن یا عالمی انتشارکا فیصلہ کرے گا۔

مقبول خبریں