بھارت کی ریاست کرناٹک میں نوبیاہتا دلہن انجانا بائی شیکھر پاٹل نے اپنی عزت و آبرو کا سودا کرنے کے بجائے موت کو ترجیح دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ بھارتی ریاست کرناٹک کے ضلع بیڈر میں پیش آیا جہاں 22 سالہ لڑکی کی لاش چھت سے لٹکی ہوئی ملی۔
لاش کی شناخت انجانابائی شیکھر پاٹل کے نام سے ہوئی۔ جن کی شادی 2022 میں ہوئی تھی اور ان کا 11 ماہ کا بچہ بھی ہے۔
متوفیہ کے والد وجے کمار نے پولیس کو بتایا کہ ان کی بیٹی کو شادی کے بعد سے ہی غیر مردوں سے غیر اخلاقی تعلقات حتیٰ کہ جسم فروشی کے لیے مجبور کیا جاتا تھا۔
والد وجے کمار نے مزید بتایا کہ میری بیٹی نے انکار کیا تو اس کے شوہر اور سسرالی اس پر ذہنی و جسمانی تشدد کرتے رہے اور بری طرح مارتے پیٹتے۔
انھوں نے مزید کہا کہ مجھے بھی میری بیٹی سے ملنے نہیں دیا جاتا تھا اور ہم نے کئی بار بیٹی کو واپس لانے کی کوشش بھی کی تھی۔
والد کی شکایت کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کیا اور انجانابائی کے شوہر شیکھر پاٹل سمیت تین افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پڑوسیوں کے بیانات قلم بند کرلیے ہیں اور تفتیشی عمل جاری ہے۔ ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔