نئی گریڈنگ پالیسی پھر خطرے میں؛ پنجاب اور بلوچستان نے نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا 

اگر پنجاب اور بلوچستان نے نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا تو دیگر صوبوں کو بھی ایک بار پھر دستبردار ہونا پڑے گا


صفدر رضوی February 10, 2026
فوٹو: فائل

پاکستان کے دو بڑے صوبوں کی جانب سے نئی گریڈنگ پالیسی کا نفاذ نا کرنے سے رواں برس میٹرک اور انٹر کی سطح پر  گریڈنگ پالیسی کا اطلاق ایک بار پھر لٹک گیا ہے۔

یہ پالیسی چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں بیک وقت اسی سال 2026 کے سالانہ امتحانات سے شروع ہونی ہے اور سندھ کے تعلیمی بورڈز میں اس کی تیاریاں بھی شروع ہوگئی ہیں تاہم ملک بھر میں نئی گریڈنگ پالیسی متعارف کرائے جانے کے باوجود پنجاب اور بلوچستان کی حکومتوں کی جانب سے تاحال اس پالیسی کے اطلاق کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں صوبوں کی حکومتیں میٹرک اور انٹر میں نئی گریڈنگ پالیسی کے نفاذ کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں اور پس و پیش سے کام لے رہی ہیں جبکہ یہ پالیسی ابتداء میں آئی بی سی سی اور ازاں بعد گزشتہ میں آئی پی ای ایم سی (انٹر پرووینشل ایجوکیشن منسےرز کانفرنس ) سے منظور ہوچکی ہے جس میں چاروں صوبوں کی نمائندگی موجود ہے جبکہ آئی بی سی سی میں چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر بورڈ کے چیئرمینز کی نمائندگی ہے۔

تاہم اس کے باوجود پنجاب اور بلوچستان کی جانب سے امتحانات میں ایک ماہ یا اس سے کچھ زیادہ وقت رہ جانے کے باوجود پالیسی کے نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا، اگر پنجاب اور بلوچستان کی حکومتوں اور متعلقہ تعلیم کی وزارتوں نے اس پالیسی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا تو دیگر صوبوں کو بھی اس پالیسی سے ایک بار پھر دستبردار ہونا پڑے گا۔

واضح رہے کہ سندھ، کے پی کے اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد بورڈ اس پالیسی کے نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری کرچکے ہیں، جس کے مطابق اس سال سے نویں اور گیارہویں جماعتوں کے تمام مضامین کے پاسنگ مارکس 33 فیصد سے بڑھ کر 40 فیصد ہوجائیں گے جبکہ دیگر اہم نکات کے ساتھ ساتھ ہر مضمون کا علیحدہ پاسنگ گریڈ ہوگا۔

"ایکسپریس " کے رابطہ کرنے پر آئی بی سی سی کے ایگزیکٹیوو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاح نے اس بات کی تصدیق کی کہ اگر پنجاب اور بلوچستان نے اس پالیسی کے نفاذ کا نوٹیفکیشن فوری جاری نا کیا تو جو دیگر صوبے اس پالیسی کے نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری کرچکے ہیں انھیں بھی اس سے دستبردار ہونا پڑے گا کیونکہ پالیسی کا uniform implementation ہونا ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ دو صوبے اسے adopt کرلیں اور دو صوبے پرانی گریڈنگ پالیسی کا تسلسل ہی برقرار رکھیں اگر ایسا ہوا تو پاکستان میں جامعات کی سطح پر داخلوں میں گریڈنگ سسٹم کی کھچڑی پک جائے گی"۔

واضح رہے کہ چاروں صوبوں میں اس پالیسی کے بیک وقت اطلاق سے ہی ملکی جامعات آئندہ برس بیچلر کے داخلوں کے لیے پرانے کے بجائے نئے گریڈنگ سسٹم کے مطابق اپنا میرٹ طے کرکے داخلے دیں گی، اگر دو صوبوں کے طلبہ نئی گریڈنگ پالیسی اور دو کے پرانی پالیسی سے انٹر کرکے جامعات میں داخلوں کے لیے درخواست دیں گے تو جامعات کی سطح پر ایک اکیڈمک بحران کا خدشہ یے۔

مقبول خبریں