چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی، پلاسٹک کچرا، شور اور گردوغبار مقامی جنگلی حیات، ماحول کیلئے خطرہ

ریلی کے دوران پلاسٹک کی خالی بوتلیں، پلاسٹک ریپرز اور لفافوں سمیت دیگر کچرا یہاں پھینک دیا جاتا ہے، منتظمین


آصف محمود February 10, 2026
فوٹو: اسکرین گریب

محکمہ سیاحت پنجاب کے زیر اہتمام 21 ویں چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی 11 سے 15 فروری تک منعقد ہونے جارہی ہے جس سے دیکھنے کے لیے اندرون اور بیرون ملک سے ہزاروں سیاح بہاولپور پہنچیں گے تاہم ماہرین کا کہنا ہے چولستان میں ہزاروں افراد پانی کی خالی بوتلیں، پلاسٹک ریپر پھینک دیتے ہیں اور اس کچرے سے چولستان میں نہ صرف آلودگی پیدا ہوتی ہے بلکہ یہ کچرا چولستان کی وائلڈلائف کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

وائلڈلائف کنزرویٹو بدرمنیر ان دنوں صحرائے چولستان میں اپنی ٹیم کے ہمراہ پلاسٹک کا کچرا  اکٹھا کرنے میں مصروف ہیں جو گزشتہ برس یہاں ہونے والی ڈیزرٹ جیپ ریلی کے دوران پھینکا گیا تھا۔

بدر منیر نے بتایا کہ جیپ ریلی کے دوران ہزاروں افراد یہاں قیام کرتے ہیں اس دوران پلاسٹک کی خالی بوتلیں، پلاسٹک ریپرز اور لفافوں سمیت دیگر کچرا یہاں پھینک دیا جاتا ہے جس سے نہ صرف چولستان میں آلودگی پیداہوتی ہے بلکہ یہاں پائی جانے والی جنگلی حیات کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

انہوں نے  بتایا کہ ریلی کے ٹریک کے ساتھ ان کا رقبہ بھی ہے جہاں کئی انواع کی جنگلی حیات ہے، جیپ ریلی کے دوران جب گاڑیاں یہاں سے گزرتی ہیں تو ان کے شو ر اور گرد وغبار کی وجہ سے جنگلی جانور اور پرندے متاثر ہوتے ہیں اس کے علاوہ بعض اوقات کئی جانور اور ان کے بچے تیز رفتار گاڑیوں کی زد میں آکر مارے جاتے ہیں، اس لیے ہماری ٹیم ٹریک سے جڑے ایسے راستے بند کررہی ہے تاکہ گاڑیاں ٹریک سے ادھر ادھر نہ جاسکیں اور جنگلی حیات کو نقصان نہ پہنچے۔

صحرائے چولستان چنکارہ ہرنوں سمیت دیگرانواع کی اہم آماجگاہ ہے۔

ایڈیشنل چیف وائلڈلائف رینجرز ساؤتھ پنجاب شیخ زاہد اقبال نے بتایا کہ جیپ ریلی کے دوران جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے گئے ہیں، جیپ ریلی کے 500 کلومیٹر طویل ٹریک سے جڑے مختلف علاقوں جن میں جام گڑھ، موج گڑھ، قلعہ  بجنوٹ اور قلعہ دراوڑ  راستوں کے علاوہ چولستان میں بنائی گئی وائلڈلائف چیک پوسٹوں پر 120 وائلڈلائف رینجرز اہل کار تعینات کیے گئے ہیں۔

ڈپٹی چیف وائلڈلائف رینجرز بھی ڈیوٹی پر موجود ہیں، اس کے علاوہ مختلف مقامات پر آگاہی بورڈ بھی نصب کیے گئے ہیں۔

محکمہ سیاحت پنجاب کے ترجمان کے مطابق ریلی کے دوران اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ مقامی ماحول اور جنگلی حیات کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے، اس کے علاوہ ایونٹ کے دوران اور بعد میں کچرا اٹھایا جاتا ہے۔

ترجمان کے مطابق ریلی کے روٹ کے انتخاب کے دوران اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے تاکہ اس سے مقامی جنگلی حیات کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔

ڈبلیوڈبلیو ایف کی نمائندہ اور ماہرماحولیات ڈاکٹر عظمیٰ خان کے مطابق چولستان کا علاقہ وائلڈلائف گیم ریزور ہے اور یہ مہاجر پرندوں کی بڑی آماج گا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریلی کا انعقاد کرتے وقت اس بات کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا کہ وہاں وائلڈلائف خاص طور پر مہاجر پرندے متاثر نہ ہوں کیونکہ ان کی واپسی کا عمل مارچ میں مکمل ہوتا ہے۔

ماہر ماحولیات کا کہنا تھا کہ پلاسٹک کی خالی بوتلیں، فوڈ ریپرز اور دیگر کچرا پھینکنا مقامی ماحول اور وائلڈ لائف کے لیے سنجیدہ خطرات پیدا کرتا ہے، صحرائی علاقہ قدرتی طور پر نازک ماحولیاتی توازن رکھتا ہے جہاں کچرے کا گل سڑ جانا یا خود بخود ختم ہونا انتہائی سست عمل ہے، اس وجہ سے پلاسٹک برسوں تک زمین پر موجود رہتا ہے اور مٹی کی ساخت کو متاثر کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چرنے والے جانور جیسے ہرن، چنکارا اور مویشی پلاسٹک کو خوراک سمجھ کر نگل لیتے ہیں جس سے ان کے نظام ہاضمہ کو نقصان پہنچتا ہے اور بعض صورتوں میں اموات بھی واقع ہو جاتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق پلاسٹک کی بوتلوں میں جمع ہونے والا بارش یا اوس کا پانی مچھروں اور دیگر کیڑوں کی افزائش کا باعث بنتا ہے جو بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے، اس کے علاوہ شور، گاڑیوں کی تیز رفتاری اور انسانی ہجوم کے ساتھ کچرے کی موجودگی پرندوں اور دیگر جنگلی جانوروں کے قدرتی مسکن میں خلل ڈالتی ہے، جس سے ان کی نقل مکانی، افزائش نسل اور خوراک کے معمولات متاثر ہوتے ہیں۔

بدرمنیر نے کہا کہ اگر اس طرح کے ایونٹس کے دوران مؤثر کچرا مینجمنٹ، صفائی اور ماحولیاتی ضوابط پر عمل نہ کیا جائے تو چولستان کے صحرائی ماحول اور وائلڈ لائف کو طویل المدتی نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

 

مقبول خبریں