پاکستان میں پولیو ویکسین کے خلاف پھیلنے والا بیانیہ دراصل خوف، بداعتمادی اور سازشی سوچ کا مجموعہ ہے، جسے سائنسی تحقیق اور زمینی حقائق کے بجائے افواہوں کے ذریعے تقویت ملتی ہے۔
حالیہ عرصے میں یہ بحث ایک بار پھر اس بنیاد پر تیز ہوگئی ہے کہ چونکہ جیفری ایپسٹین جیسے متنازع کردار بعض عالمی فلاحی منصوبوں یا اداروں سے کسی نہ کسی سطح پر وابستہ رہے ہیں، اس لیے پولیو ویکسین بھی مشکوک ہے اور اسے بند کر دینا چاہیے۔ یہ دلیل جذباتی ضرور ہے مگر منطقی اور سائنسی لحاظ سے کمزور ہے، کیونکہ کسی ایک فرد کے جرائم کو بنیاد بنا کر پوری دنیا کے تسلیم شدہ طبی نظام کو رد کرنا عقل کے بجائے خوف پر مبنی سوچ کی علامت ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پولیو ویکسین کسی ایک شخص، ادارے یا ملک کی ملکیت نہیں بلکہ عالمی سائنسی برادری کی دہائیوں پر محیط تحقیق کا نتیجہ ہے۔
پولیو وائرس کی شناخت بیسویں صدی کے آغاز میں ہوچکی تھی اور اس کے خلاف پہلی مؤثر ویکسین 1955 میں تیار کی گئی۔ اس کے بعد دنیا بھر میں اس ویکسین پر مسلسل تحقیق ہوئی اور اب تک 70 سے زائد ممالک میں کروڑوں بچوں پر اس کے کلینیکل ڈیٹا محفوظ ہیں۔
آج جو ویکسین پاکستان میں استعمال ہو رہی ہے وہ عالمی ادارہ صحت، یونیسف اور پاکستان کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کی نگرانی میں فراہم کی جاتی ہے، اور ہر بیچ پر لیبارٹری ٹیسٹنگ، کولڈ چین مانیٹرنگ اور فیلڈ ویریفکیشن کی جاتی ہے۔ صرف پاکستان میں ہر سال اوسطاً 4 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو پولیو ویکسین دی جاتی ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی ویکسین مہمات میں سے ایک ہے۔
یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ پولیو کوئی فرضی یا معمولی بیماری نہیں بلکہ ایک حقیقی اور تباہ کن وائرس ہے جو اعصابی نظام پر حملہ کر کے بچوں کو عمر بھر کے لیے مفلوج بنا سکتا ہے۔ اس کا کوئی علاج موجود نہیں، صرف روک تھام ممکن ہے۔
عالمی سطح پر 1980 کی دہائی کے آخر میں ہر سال تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار بچے پولیو سے معذور ہو رہے تھے، جبکہ عالمی ویکسین پروگرام کے نتیجے میں آج یہ تعداد 99 فیصد سے زیادہ کم ہو چکی ہے اور دنیا بھر میں سالانہ کیسز کی تعداد چند سو سے بھی کم رہ گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں صرف دو ممالک پاکستان اور افغانستان ایسے ہیں جہاں پولیو ابھی مکمل ختم نہیں ہوا، جبکہ باقی 190 سے زائد ممالک میں یہ بیماری مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔
پاکستان کے اندر بھی ڈیٹا واضح پیغام دیتا ہے۔ 2024 میں پاکستان میں 74 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 2025 میں یہ تعداد کم ہو کر تقریباً 30 رہ گئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ویکسین مہم مؤثر ہے اور جیسے جیسے کوریج بہتر ہو رہی ہے، بیماری کم ہو رہی ہے۔ صرف 2025 کی آخری قومی مہم میں 4 کروڑ 40 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین دی گئی، جس میں ہزاروں پولیو ورکرز نے گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلائے۔
لوگ یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ جیفری ایپسٹین جیسا شخص خود بچوں سے جنسی جرائم کا مرتکب رہا ہو، وہ بچوں کا خیر خواہ کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ سوال بظاہر فطری لگتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں بڑے کاروباری، سرمایہ دار اور بااثر افراد مختلف فلاحی منصوبوں میں عطیات دیتے رہتے ہیں، اور اس کے پیچھے ہمیشہ نیک نیتی ہی واحد وجہ نہیں ہوتی۔ کبھی اپنا امیج بہتر بنانا مقصد ہوتا ہے، کبھی سیاسی تعلقات مضبوط کرنا، کبھی ٹیکس میں رعایت حاصل کرنا، اور کبھی کسی ادارے کی جانب سے مدد کی درخواست پر رقم دے دینا۔ لیکن اس سارے معاملے میں اصل اہمیت عطیہ دینے والے کے کردار کی نہیں بلکہ اس منصوبے کے نتائج اور اس کے اثرات کی ہوتی ہے۔
پولیو ویکسین کے معاملے میں بھی اصل سوال یہ نہیں کہ کسی وقت کسی متنازع شخص نے کہاں فنڈ دیا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ ویکسین واقعی بچوں کو بیماری سے بچاتی ہے یا نہیں؟ اور اس کا جواب دنیا بھر کے ڈیٹا میں موجود ہے جہاں تقریباً 20 لاکھ سے زائد بچوں کی زندگیاں پولیو ویکسین کی بدولت بچائی جا چکی ہیں۔
ایک عام سازشی دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ مغرب مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے، اس لیے ویکسین کے ذریعے کچھ چھپایا جا رہا ہے۔ مگر اس دلیل کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ پولیو ویکسین سب سے پہلے خود امریکا، یورپ اور جاپان جیسے ممالک میں دی گئی، جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں۔ ان ہی ممالک میں آج پچاس سال سے زائد عرصے سے ایک بھی مقامی پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
اگر یہ ویکسین نقصان دہ ہوتی تو سب سے پہلے یہی معاشرے اس کے اثرات بھگت رہے ہوتے، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے البتہ اتنا ضرور ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں پولیو وائرس کی موجودگی کی وجہ سے دنیا بھر کے بچوں کا مستقبل آج بھی رسک پر ہے اور یہی بنیادی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک ان دو ممالک کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے پر زور دیتے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ مسئلہ صرف صحت کا نہیں بلکہ قومی وقار کا بھی ہے۔ پولیو کی وجہ سے پاکستانی شہریوں کو آج بھی کئی ممالک میں داخلے کے لیے ویکسین سرٹیفکیٹ دکھانا پڑتا ہے، اور عالمی ادارہ صحت پاکستان کو اب بھی ’’ہائی رسک کنٹری‘‘ قرار دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ویکسین سے انکار محض ایک خاندان کا ذاتی فیصلہ نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی ساکھ، سفری آزادی اور عالمی اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔
مزید یہ کہ اگر کسی کو واقعی یہ لگتا ہے کہ پولیو ویکسین ان کے بچوں کی دشمن ہے تو سب سے منطقی راستہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ خود اس پر تحقیق کرے، مستند طبی جرائد پڑھے، ڈاکٹروں سے بات کرے، اعداد و شمار دیکھے، اور سائنسی شواہد کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرے۔ محض سنی سنائی باتوں، یوٹیوب ویڈیوز یا سطحی سوشل میڈیا پوسٹس پر یقین کرکے ایک پوری نسل کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دینا نہ دانشمندی ہے اور نہ ہی ذمے داری۔
آخر میں اصل سوال یہ نہیں کہ دنیا میں کون اچھا ہے اور کون برا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے بچے کس قیمت پر اپنی معذوری یا صحت کا فیصلہ کریں گے۔ پولیو ویکسین کسی سازش کا ہتھیار نہیں بلکہ جدید طب کی ان چند بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے جس نے دنیا بھر میں 99 فیصد سے زائد پولیو کیسز ختم کر دیے۔ اگر واقعی ہم بچوں کے خیر خواہ ہیں تو ہمیں خوف کے بجائے ڈیٹا، افواہ کے بجائے تحقیق، اور جذبات کے بجائے سائنسی حقیقت کو بنیاد بنا کر فیصلے کرنے ہوں گے، کیونکہ اس فیصلے کا بوجھ کسی اور پر نہیں بلکہ براہ راست ہماری آنے والی نسلوں پر پڑتا ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔