تعلیم اور ذہن سازی کی تشکیل

تعلیم میں ذہن سازی کی بڑی اہمیت ہوتی ہے ۔ ہمیں ذہن سازی کی تعریف کو سمجھنا ہوگا ۔اس سے مراد انسان کے طرز فکر اور طرز عمل کو تشکیل دینا ہے ۔


سلمان عابد February 12, 2026

بنیادی طور پر اگر ہم بغور دیکھیں تو اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ تعلیم کا عمل اور ذہن سازی کا ملاپ انسانی شخصیت کی تعمیر وترقی اور کردار سازی کے اہم ستون سمجھے جاتے ہیں۔عمومی طور پر ہم تعلیم کو ایک منظم علم کہتے ہیں جو ایک منظم انداز میں ہمیں اپنے ارد گرد جوڑتا ہے یا ہم میں اچھے اور برے کی تمیز یا پہچان کو ممکن بناتا ہے ۔

یہ تعلیم ہی کا عمل ہے جس میں ایک نسل سے دوسری نسل میں اقدار ، رویے یا طور طریقے سمیت علم اور معلومات کے تبادلہ کو ممکن بناتی ہے ۔یہ تعلیم ہی ہوتی ہے جو آپ کو سوچنے ،سمجھنے، تجزیے یا تنقیدی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ عمل رسمی اور غیر رسمی دونوں بنیادوں پر ہوسکتا ہے مسئلہ صرف لگن یا کچھ سیکھنے سے جڑا ہوتا ہے۔ یہ جو ہم عمومی طور پر شعور کی بیداری یا شعور کے ہونے یا نہ ہونے کی بحث کرتے ہیں تو اس میں بھی ہم تعلیم ہی کے پہلو کو جوڑ کر اپنا بیانیہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔

تعلیم میں ذہن سازی کی بڑی اہمیت ہوتی ہے ۔ ہمیں ذہن سازی کی تعریف کو سمجھنا ہوگا ۔اس سے مراد انسان کے طرز فکر اور طرز عمل کو تشکیل دینا ہے ۔ویسے تو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ذہن سازی کبھی جمہود کا شکار نہیں ہوتی اور اگر ہو جائے تو یہ انسانی شخصیت کو اپنی سوچ کی بنیاد پر جمہود کا شکار کردیتی ہے جو اس کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں کو ختم کرتی ہے۔

اسی لیے اس نقطہ پر زور دیا جاتا ہے کہ ذہن سازی کا عمل بتدریج آگے بڑھتا ہے اور تجربات،مشاہدات، علم ،معلومات ،بحث ومباحثہ خیالات میں تبدیلیاں لاتے ہیں یا یہ وقت کے ساتھ خود بخود پیدا ہوجاتی ہیں ۔انسانی ذہن اپنے ارتقائی عمل کے ساتھ آگے بڑھتا ہے اور بعض اوقات نئی سوچ ماضی کی سوچ سے بالکل مختلف ہوتی ہے ۔عمومی طور پر تعلیم سے جڑے ماہرین دماغ کی ترقی اور اس کے جمود کی نشاندہی بھی کرتے ہیں اور اسی بنیاد پر فرد کے درمیان ایک باریک سی لائن بھی کھینچتے ہیں ۔

یہ جو ہم تعلیم کی منطق دیتے ہیں وہ ذہن سازی ،اچھے برے کے درمیان فرق ،خود اعتمادی ،فیصلہ کرنے کی صلاحیت،بات کرنے کا سلیقہ ، تہذیب و تمدن ، ثقافت اور قیادت کرنے کی صلاحیتوں سمیت دوراندیشی کو پیدا کرتی ہے اور اسی بنیاد پر تعلیم کو پھیلانے پر زور دیا جاتا ہے تاکہ معاشرے میں تعلیم اور غیر تعلیم یافتہ کے درمیان فرق کو سمجھا اور پرکھا جاسکے ۔عمومی طور پر تعلیم کو ہم معلومات ،علم اور مہارتوں کے ساتھ جوڑ کر دیکھ سکتے ہیں جب کہ ذہن سازی کو سوچنے اور سمجھ کر آگے بڑھنے کے طور طریقوں کے ساتھ جوڑ کر دیکھ سکتے ہیں ۔

اب سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ذہن سازی کے بغیر تعلیم ممکن ہوسکتی ہے تو اس کا ایک جواب مثبت طور پر یہ دیا جاسکتا ہے کہ ہاں اس کے بعد ہمیں ایک خاص مضمون میں ڈگری مل جاتی ہے ۔لیکن اصل جواب یہ ہے کہ حقیقی تعلیم کا عمل اچھی یا مثبت ذہن سازی کے بغیر ممکن نہیں ہوتا ۔ حقیقی تعلیم کے تصورات میں ترقی یا جدیدیت کا تصور ہی تعلیم اور وہ بھی جدید تعلیم ہی کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔روائتی تعلیم اپنے وقت کے ساتھ ساتھ غیر اہم ہوجاتی ہے اور اس کی جگہ نئی تعلیمی فکر اور خیالات سامنے آجاتے ہیں یا وہ اپنی اہمیت منوا لیتے ہیں۔اسی طرح جب ہم مجموعی طور پر معاشرے کی سماجی ،معاشی اور اخلاقی یا معاشرتی ترقی کی بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں تو اس میں بھی ذہن سازی کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے ۔

کیونکہ تعلیم محض فرد کی ترقی کا نام نہیں ہے بلکہ فرد سے یہ جڑی ترقی معاشرے کی اجتماعی ترقی سے جوڑنا ہی حقیقی تعلیم یا ذہن سازی کے زمرے میں آتا ہے ۔ہماری تعلیم کا المیہ یہ ہے کہ اس میں ہم تعلیم ، معلومات یا صلاحیتیں تو دے رہے ہیں مگر ان بچوں اور بچیوں کی اپنی ،خاندانی اور معاشرے کی ترقی کے لیے جو ذہن سازی کی ضرورت ہے اس پہلو کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے ۔یعنی تعلیم اور تربیت کے درمیان جو بنیادی نوعیت کا فرق ہے اس کو آج کا تعلیم کا نظام سمجھنے سے قاصر ہے یا ہم اس میں اجتماعی طور پر برابر کے مجرم ہیں ۔

کبھی کبھی یہ سوچنا پڑتا ہے کہ ہماری تعلیم اور اس میں موجود ذہن سازی کا عمل ہمیں مجموعی طور پر اپنے ارد گرد یا ریاست سے لے کر سماج تک موجود مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت یا اس سے نمٹنے کی تربیت دیتا ہے۔اگر ایسا نہیں تو کیا بطور قوم مسائل کے حل کی بجائے مسائل کو پیدا کرنے کے کھیل کا حصہ بن گئے ہیں کیونکہ اس معاشرے کی جو بھی پڑھی لکھی کلاس ہے اسی کی وجہ سے ہمارے ریاست اور حکمرانی کے بیشتر مسائل جڑے ہوئے ہیں اور وہ خود ان مسائل کو پیدا کرنے کے ذمے دار ہیں ۔ذہن سازی ہمیں بنیادی طور پر جہاں جدید خیالات سے متعارف کرواتی ہے وہیں یہ بھی اس کی خوبی ہوتی ہے کہ وہ ہمیں سماج میں پہلے سے موجود منفی سماجی رویوں،پرانی اور فرسودہ روایات سے باہر نکلنے کا شعور بھی دیتی ہے ۔ذہن سازی کا سب سے بڑا ہتھیار بات چیت یا ایک دوسرے کے خیالات کو سننے اور سمجھنے کا ہوتا ہے ۔

آپ لوگوں کے مختلف نوعیت کے خیالات سے لاکھ اختلاف کرسکتے ہیں مگر مل بیٹھ کر رہنا سیکھنا بھی ذہن سازی کا اہم کام ہوتا ہے۔اسی طرح اچھی ذہن سازی ہمیں کمزور طبقات کی مدد کے لیے کھڑا کرتی ہے اور آپ ظالم کے مقابلے میں مظلوم کا ساتھ دیتے ہیں۔یہ جو ہمارے خیالات میں تنگ نظری یا انتہا پسندی ہے یہ اچھی ذہن سازی کے برعکس ہے ۔یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ ہم سے مجموعی طور پر ذہن سازی کی سطح پر غلطیاں ہو رہی ہیں یا ہمارے تعلیمی نظام میں بنیادی نوعیت کی اصلاحات کی ضرورت ہے ۔کیونکہ جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری نئی نسل بہت کچھ جلدی جلدی حاصل کرنا چاہتی ہے یا ان میں جو منفی خیالات بڑھ رہے ہیں اس میں ذہن سازی کی سطح پر کہاں غلطیاں ہوئی ہیں ان سے ہمیں واقعی بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے ۔

ہمیں لوگوں کو پہلے سے طے شدہ خیالات سے باہر نکالنا ہے اور ان کو آج کی عالمی،علاقائی اور ملکی فریم ورک میں جوڑ کر بہت کچھ دکھانا ہوگا۔نئی نسل کو یہ بتانا ہوگا کہ جن قوموں نے ترقی کی ہے انھوں نے ذہن سازی کے عمل کو کیسے فروغ دیا ۔ذہن سازی میں ایک کلیدی کردار شہری تعلیم یعنی سوک ایجوکیشن کا ہوتا ہے جو آج ہماری تعلیم میں کہیں گم ہوکر رہ گئی ہے ۔

کمزور ذہن سازی کی وجہ سے ہم ایک ذمے دار شہری پیدا کرنے میں ناکام ہیں ۔یہ جو ہم نے ذہن سازی کی بنیاد پر طبقاتی نظام قائم کیا ہوا ہے اور لوگوںکو کسی ایک دائرے کار میں لانے کی بجائے طاقت اور کمزور کی بنیاد پر طبقاتی بنیادوں پر تقسیم کیا ہوا ہے وہ بھی منفی طرز عمل کو جنم دینے کا سبب بنتی ہے ۔اگر ہم نے ترقی کرنی ہے اور خود کو ایک مہذب معاشرے کے طور پر پیش کرنا ہے تو پھر ہمیں ذہن سازی کے عمل میں نئی جہتوں کو سامنے لانا ہوگا۔

مقبول خبریں