کئی سال کے وقفے کے بعد اس سال پھر سے بسنت کے انعقاد کا احیا ہوا ہے۔ زندہ دلان لاہور نے بسنت بڑے زور شور سے منایا۔ اربوں روپے پتنگ بازی اور خور و نوش پر خرچ کر دیے گئے۔ تقریبات کے تیسرے روز دہلی دروازے پر بڑا جلسہ ہوا، جس میں سفارتکاروں اور شوبز سے وابستہ افراد نے شرکت کی ، مہمان خواتین نے پیلے رنگ کے ملبوسات پہنے۔
بسنت کے سلسلے میں ہندو اساطیری روایات بڑی دلچسپ ہیں۔ بھارت کی اس عہد کی ایک دیوی کی صاحبزادی کو جس کا حسن و جمال بے مثال تھا پاتال کے دیوتا نے اغوا کر لیا اور پاتال میں لے جا کر اپنی سلطنت میں چھپا لیا۔ پاتال زمین کے اندرون میں ایک مفروضہ مملکت ہے جس کا راجہ بڑا طاقتور تھا۔ دیوی اپنی بیٹی کی جدائی میں ہوش و ہواس کھو بیٹھی، پوری دنیا میں بیٹی کو ڈھونڈتی رہی مگر وہ کہاں ملتی، کیوں کہ پاتال تک رسائی تو دیوتاؤں کے بس میں بھی نہیں تھی۔
بالآخر اندر دیوتا کی سربراہی میں ایک اجلاس بلایا گیا جس میں سارے دیوتا مدعو تھے اور سبھی نے دیوی کی صاحبزادی کی موجودگی سے لاعلمی ظاہر کی۔ بڑی کاوش کے بعد پاتال کے خوں خوار دیوتا نے تسلیم کر لیا کہ لڑکی اس کے پاس ہے مگر اس نے اس سے بیاہ کر لیا ہے اور اسے واپس کرنے کو تیار نہیں۔ دیوتاؤں کی کوششوں سے فیصلہ ہوا کہ اب جب کہ وہ پاتال کے دیوتا کی بیوی ہے، دیوتا اسے چھوڑ نہیں سکتا۔ طے پایا کہ سال کے چھ ماہ میں وہ ماں کے پاس رہے گی اور چھ ماہ پاتال دیوتا کے ساتھ۔ اس پر طرفین راضی ہو گئے، اب جب لڑکی اپنی ماں کے پاس آتی ہے تو بہار کا موسم شروع ہو جاتا ہے۔
ہر طرف پھولوں کی شادابی ہوتی ہے، خوشیوں سے فضا بھر جاتی ہے۔ یہ مسرتوں کا دورانیہ بسنت کہلاتا ہے اور جب لڑکی پاتال دیوتا کے گھر چلی جاتی ہے تو دنیا پر خزاں کا موسم چھا جاتا ہے، ماں پھر سے افسردہ ہو کر جنگلوں کی خاک چھاننے نکل جاتی ہے مگر اب یہ جدائی ابدی نہیں رہتی ہر بار بسنت بہار آ کر دیوی کی زندگی کو لالہ زار اور پُربہار بنا دیتی ہے۔ ہندومت میں اسی کشمکش کی یادگار بسنت کے طور پر منائی جاتی رہی اور دیوی کی شہزادی کی باریابی کی علامت کے طور پر بسنت کی تقریبات مذہبی جوش و جذبے سے منائی جانے لگیں۔
مسلمانوں نے بھی اسے موسمی تبدیلی اور خوش گوار تبدیلی کے طور پر منانا شروع کیا اور جس طرح ہم نئے سال کے آغاز پر آج بھی جشن مناتے ہیں۔ ایران میں نوروز کے جشن کا رواج آج بھی ہے، اسی طرح ہمارے ہاں بھی بغیر سوچے سمجھے اور بسنت کے مذہبی پس منظر سے بظاہر ناواقفیت کے سبب اسے ایک خوشی کے تہوار کے طور پر منانا شروع کر دیا گیا۔
اسلام نے مسلمانوں کے لیے عید کے دو تہوار مقرر کیے تھے یہ خوشی منانے کے دن بھی ہیں لیکن ہر خوشی عبادات کے ساتھ مشروط ہے اور خوشیاں منانے کے طریقے بھی بے لگام نہیں ہیں ان میں وقار و تمکنت بھی، عبادت و ریاضت بھی اور اس کے نتیجے میں خوشی اور مسرت بھی ہے۔ اسلام کے نقطہ نظر سے دنوں کے الٹ پھیر میں، موسموں کی آمد و شد میں انسانی زندگی کے لیے امکانات چھپے ہیں اور یہ تمام مظاہر قدرت انسان کی فلاح و بہبود کے لیے ہوتے ہیں۔ مومن ان کا پابند نہیں ہوتا یہ سب موسمی نشیب و فراز انسانی زندگی کے لیے مناسب ماحول پیدا کرتے ہیں اور بس!
تہواروں کے منانے میں اسراف کو بھی ناپسند کیا جاتا ہے اب جو یہ بسنت کا تہوار منایا جا رہا ہے اس کا ایک اور پہلو اسراف ہے۔ بھلا بتائیے کہ ایک ایک پتنگ کی قیمت ہزاروں روپے تک پہنچ گئی ہے، پھر جشن منانے کے ساتھ ’’خوش خوراکی‘‘ کا بھی مظاہرہ روا رکھا گیا ہے اور رات کو انواع و اقسام کے لذیذ اور ’’مضر صحت‘‘ کھانوں کا ایسا اہتمام کیا گیا جس پر لاکھوں روپے کے اخراجات آئے۔ ہمارے جیسے ملک کو یہ زیب نہیں دیتا کہ ہمارا ملک قرضوں کے بوجھ سے دبا جا رہا ہو اور ہم کاغذ کی پتنگوں کی وہ قیمت ادا کر رہے ہوں گویا وہ سونے چاندی کے ورقوں سے بنائی گئی ہوں۔
فراوانی زر اور اس کی ریل پیل دیکھ کر بھلا کون یہ اندازہ کر سکتا ہے کہ یہ قرضوں سے لدے ملک کے عوام کا طریقہ حیات ہے۔ اس سارے معاملے کا ایک ناخوش گوار پہلو یہ بھی ہے کہ ’’عوامی مسرت‘‘ کے لیے موقع کی فراہمی کے لیے حکومت کی مدح سرائی تو ہو رہی ہے اور ہوتی رہے گی لیکن اس کے مضمرات پر کسی کی نظر نہیں۔