اسلام نام ہے خدا کے بنائے ہوئے قانون کا، جس میں انسانی حقوق کی مکمل حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے۔ کسی بھی شخص یا ادارہ کو ہرگز حق نہیں کہ شریعت کے نام پر اپنی من مرضیوں کو لوگوں پر مسلط کرے اور ان کے بنیادی حقوق کو تلف کرے، نیز ان میں اپنی مرضی کی تاویلات کو دین کے نام پر پیش کرے۔
اسلام ایک آفاقی و الہامی دین ہے، اس میں کسی بھی شخص کی مرضی کا ہرگز دخل نہیں ہوسکتا۔ لیکن افغانستان میں شریعت کے نام پر جو مذاق بلکہ ظلم کیا جارہا ہے اور اسلامی قانون کے نام پر لوگوں کے بنیادی حقوق کو غصب کیا جارہا ہے، وہ اب قانوناً لاگو کردیا گیا ہے۔
رسوم و رواج اور اپنی مرضیوں کو شریعت کے نام پر لوگوں پر نافذ کرنا بذات خود وہ گھناؤنا جرم ہے جس کی کسی طرح بھی معافی نہیں ہوسکتی۔
حال ہی میں طالبان کے رہنما ہیبت اللہ اخوند زادہ نے ’’عدالتوں کے لیے فوجداری ضابطہ‘‘ قائم کیا ہے، جس پر عمل درآمد کے لیے پورے افغانستان میں صوبائی سطح پر عدالتوں میں بھیج دیا گیا ہے۔ 4 جنوری 2026 کو جاری کردہ یہ ضابطہ فوجداری تین حصوں، 10 ابواب اور 119 مضامین پر مشتمل ہے، جس میں انسانی حقوق کی مکمل حق تلفی کی گئی ہے اور ایسے ایسے قوانین لائے گئے ہیں جن کا اسلام کی بنیادی تعلیمات کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں۔
دین نام ہے قرآن و سنت کا، نہ کہ کسی شخص کی ذاتی رائے کا۔ تاریخ اسلام میں چار مکتبہ فکر، حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی ہیں۔ ان کی رائے یا دینی تشریحات کو دین کے نام پر پیش نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی قانونی طور پر لاگو کیا جاسکتا ہے، ہاں دین کی سمجھ کے لیے ان آئمہ کی، کی گئی تشریح کو لیا جاسکتا ہے جو قرآن و سنہ کی روح کے زیادہ قریب لگے۔
لیکن افغانستان میں اس دستاویز کے تحت حنفی فقہ کے پیروکار ہی مسلمان کہلانے کے حقدار کہلائیں گے۔ آرٹیکل 2 کی شق آٹھ میں کسی کو بھی حنفی فقہ ترک کرنے کی اجازت ہرگز نہیں ہوگی، اور اگر ایسا ثابت ہوجائے تو جج اسے دو سال کی قید دے گا۔ یہ حکم مذہب اور عقیدہ کی آزادی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ دین اسلام کو فقہ حنفی تک محدود کرنا اور فقہ حنفی کو دین بنا کر پیش کرنا جرم ہے۔
ہر مہذب معاشرے میں عدالتوں کو قیام اسی لیے کیا جاتا ہے کہ معاشرہ میں نظم و ضبط قائم کیا جاسکے۔ رسول اللہ نے عدالتوں کا قیام فرمایا، قاضی مقرر کیے، آپؐ کے بعد آپ کے اصحاب کی بھی یہی روش رہی۔ کسی بھی شخص کو انفرادی طور پر یہ آزادی نہیں دی جاسکتی کہ وہ جزا و سزا کا نظام اپنے ہاتھ میں لے۔ لیکن آرٹیکل 4 کی شق 6 میں یہ کہا گیا ہے کہ جب بھی کوئی کسی گنہگار کو گناہ کرتے دیکھے تو اسے اس کی سزا دینے کےلیے آگے بڑھنے کی اجازت ہے۔
اب یہ وہ جنگل کا قانون جس میں ہر شخص جزا و سزا کا کوڑا ہاتھ میں لے کر پھر رہا ہوگا اور جس کو چاہے جو مرضی سزا سے نوازے، اسلام کے اصولوں کے صریح خلاف ورزی ہے۔
اسلام کی بنیادی تعلیمات میں معاشرے سے طبقاتی تقسیم کا خاتمہ کرکے ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی تھی۔ اسلام کے ابتدائی دور میں دو گروہ زیادہ پس رہے تھے، ایک غلام اور دوسرا عورت۔ اور ان دو گروہوں کی بقا کےلیے ہی رسول اللہ کے احکامات زیادہ ہیں۔ رسول اللہ کی آخری وصیتوں میں بھی غلام اور خواتین کے معاملے میں خدا سے ڈرنے کی بار بار تلقین کی گئی ہے۔
اسلام سے پہلے معاشرے میں غلامی کا رواج تھا۔ انسانی غلاموں کی باقاعدہ جانوروں کی طرح منڈیاں لگتی تھیں اور یہ قانوناً لاگو تھا۔ اسلام نے آکر اس کی حوصلہ شکنی کی۔ چونکہ یہ لت عرب کی گھٹی میں شامل تھی لہٰذا ایک ہی دفعہ ایک ہی حکم سے اس کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا تھا، اس لیے تدریجاً دوسرے احکامات کی طرح اسلام نے اس پر بھی کاری ضرب لگائی۔
ان اقدامات میں غلاموں کو آزاد کرنا ایک کارِ ثواب قرار دیا گیا، پھر مختلف گناہوں کا کفارہ غلاموں کی آزادی قرار دیا گیا۔ پھر غلام عورتوں سے نکاح کر کے ان کی آزادی کو لازم کیا گیا۔ یہاں تک کہ حضرت عمر کے دور تک غلامی کی مسلسل حوصلہ شکنی کرتے ہوئے اس کو ختم کردیا گیا۔ لیکن اس فوجداری قانون میں غلام بنانا قانوناً جائز قرار دے دیا گیا ہے، یعنی کوئی بھی امیر اپنی مرضی سے غریب لوگوں کو خرید کر اپنا غلام بناسکتا ہے۔ نیز آقا غلام پر تعزیراً سزا کا حق بھی رکھے گا۔ غلامی کو قانوناً جائز قرار دے دینا کون سی دینی خدمات کے تحت آتا ہے؟ وہ دین جس نے غلامی کو ختم کرنے کےلیے احکامات جاری کیے، یہ دستاویز اس کو جائز قرار دے رہی ہے۔
معاشرے کی طبقاتی تقسیم کو اور پروان چڑھانے کےلیے صرف غلامی کو ہی رائج نہیں کیا گیا بلکہ افغانستان کے عدالتی ضابطہ فوجداری کے آرٹیکل 9 کے تحت معاشرے کو چار حیثیتوں میں تقسیم کردیا گیا ہے، جن میں سب سے اونچا علماء کا طبقہ ہے، اس کے بعد اشرافیہ کا، پھر متوسط طبقہ اور اس کے بعد نچلا طبقہ۔ اور اس تقسیم کے تحت ہی عدالتیں جرم کی سزا کسی کے جرم کی نوعیت سے نہیں کریں گی بلکہ اس کی سماجی حیثیت کو مد نظر رکھ کر کریں گی۔
اگر علمائے کرام یا مولویوں میں سے کسی نے جرم کا ارتکاب کیا ہے تو علمائے کرام اور طبقہ اشرافیہ سزا سے مبرا ہوں گے۔ انہیں قاضی کسی قسم کی سزا نہیں دے سکتا۔ یہ تمام سزائیں درمیانی اور نچلے طبقے کی عوام کو ملیں گی۔
خدا کی پناہ! حضورؐ کے دور میں جب فاطمہ نامی ایک امیر عورت نے ہار چرایا اور اس کے ہاتھ کاٹنے کی سزا پر کچھ صحابیوں کی طرف سے سفارش ہوئی تو رسول اللہ نے فرمایا اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو یہ سزا ضرور دی جاتی۔ تم سے پہلے قومیں اسی لیے برباد ہوئیں کہ ان میں سے جب کوئی امیر جرم کرتا تو اسے معاف کردیا جاتا اور جب کوئی غریب جرم کرتا تو اسے سزا دی جاتی۔ یہ قوانین تو صریحاً اسلام کے نظام مساوات اور عدل و انصاف کو چیلنج کر رہے ہیں۔
خواتین کے حقوق کی پاسداری اسلام دین کا وہ طرۂ امتیاز ہے جس کی آج تک کوئی مذہب نظیر پیش نہیں کرسکتا۔ لیکن اسلام کے نام پر خواتین کے حقوق کو غصب کرنا یہ اسلام دشمنی کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا۔
خواتین کی تعلیم پر مکمل پابندی کے ساتھ ساتھ افغانی دیوانی دستاویز آرٹیکل 32 کے تحت عورت کو مرد کی ذمے داری قرار دے کر شوہر کو بیوی پر تعزیر کا مکمل اختیار دے دیا گیا ہے، سوائے اس کے کہ اس مار میں بیوی کی ہڈی نہ ٹوٹے یا جلد نہ پھٹے۔ اس کے علاوہ ہر طرح سے زودوکوب کا حق شوہر کو حاصل ہے۔ یہاں تک کہ بار بار شوہر کی اجازت کے بنا اپنے والدین سے ملنے ان کے گھر جانے یا رشتہ داروں سے ملنے پر بھی وہ سزا کی مسحق قرار پائے گی۔ نیز گھروں میں کھڑکیوں کی جگہ اینٹوں سے بھی پُر کرنے کی اجازت ہے تاکہ پردہ کا مفہوم پورا ہوسکے۔ 9 سال کی بچی کو عورت قرار دے کراس کے ساتھ نکاح کو جائز قرار دیا جا چکا ہے۔
یہ کون سا اسلام ہے؟ کسی علاقے کے رواج کو دین کے نام پر کیسے پیش کیا جاسکتا ہے؟ اگر یہ قانون عرب معاشرے میں زوجہ رسول حضرت عائشہ کا رسول اللہ سے نکاح سے لیا گیا ہے تو پہلی بات یہ کہ اسے کہیں بھی دین بنا کر پیش نہیں کیا جا سکتا کیونکہ عرب معاشرے میں چھوٹی بچیوں سے نکاح کا رواج تھا وہاں کی آب و ہوا کے مدنظر۔ پھر حضرت عائشہ کا نکاح رسول اللہ سے بہ حکم الہیٰ کے طور پر وحی حکم کے مطابق تھا۔ یہ خاص ان احکامات میں سے تھا جو صرف رسول اللہ کے ساتھ مخصو ص تھے۔ یہ عمل کہیں بھی عمومی نکاح کے حکم میں نہیں دیا گیا، نہ ہی اسے دین بنا کر لاگو کیا جاسکتا ہے۔
اور آخر میں آخری مہر جو لوگ بھی طالبان کے خلاف یا ان کی بنائی گئی (اسلام دشمن) پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائیں گے، انہیں 3 سے 50 کوڑوں کی سزا اور چھ ماہ کی قید قانوناً لازمی ہوگی۔
یہ تمام قوانین اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں، ان میں سے کوئی قانون بھی قرآن و سنہ کے مطابق نہیں ہے، بلکہ قرآن وسنہ کے صریحاً مخالف ضرور ہیں۔ اور اس جہالت کو شریعت اسلامیہ کا نام دے کر معاشرے پر قانوناً لاگو کردینا ظلم و جبر کی انتہا ہے۔
عہد جاہلیت کے قوانین اور رسومات کو اسلام کے نام پر ہرگز نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ احکامات شرعی نہیں بلکہ جدید جاہلیت کے عکاس ہیں، جو انسانیت کی توہین کرتے ہیں۔ یہ اسلام کی صحیح تصویر کی کسی طرح سے بھی عکاسی نہیں کرتے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔