دور اندیش فیض احمد فیض

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر


ایم اسلم کھوکھر February 13, 2026

13 فروری 1911 میں سیالکوٹ میں جنم لینے والے فیض احمد فیض کو حصول تعلیم کے مراحل طے کرتے ہوئے ہی ادراک ہوگیا تھا کہ عدم مساوات کیا ہے، ظلم و جبر و استحصال کیا ہے کیونکہ جس دور میں فیض احمد فیض نے شعور کی دنیا میں قدم رکھا تو وہ دور ایسا تھا کہ جب برصغیر پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی کی غلامی کے سو برس جوکہ 1857 میں مکمل ہوئے پھر برٹش سرکار کے قریب قریب ستر برس دورے سامراجی گورنمنٹ کے پورے ہو چکے تھے، البتہ برٹش سرکار کا سامراجی دور کا تسلسل ابھی جاری تھا۔ ان تمام تر سامراجی جبر کے دور میں اگر فیض احمد فیض ترقی پسند نظریات کا ادراک کر چکے تھے تو تعجب کی کیا بات ہے۔

وہ نہ صرف ان حالات کا مشاہدہ کر رہے تھے بلکہ اس سامراجی جبر کے خلاف سینہ سپر بھی ہو چکے تھے۔ 1935 میں جب ان کی عمر فقط 24 برس تھی تو وہ اپنے نظریات کے باعث کافی نامور ہو چکے تھے۔ چنانچہ 1935 میں ہی جب فرانس کے شہر پیرس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے ادبا کی انجمن قائم ہوئی تو سید سجاد ظہیر جنھوں نے ملک راج آنند کے ساتھ اس ترقی پسند ادبا کی انجمن میں شرکت کی تھی تو سید سجاد ظہیر نے برصغیر میں ترقی پسند ادبا کی انجمن قائم کرنے کا عزم کیا۔

انھوں نے جب اس سلسلے میں پنجاب کا دورہ کیا تو سید سجاد ظہیر نے صوفی غلام مصطفیٰ تبسم، میاں افتخار الدین، رشید جہاں، فیروز الدین، منصور محمود جیسے جید ادبا سے ملاقات کی تو انھوں نے 25 سالہ فیض احمد فیض سے بھی ملاقات کی اور انجمن کے قیام کے سلسلے میں ان سے مشاورت بھی کی۔ یوں اپریل 1936 میں لکھنو میں ترقی پسند ادبا کی انجمن قائم ہوئی جس کا پورا نام انجمن ترقی پسند مصنفین تجویز ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب برصغیر میں آزادی کی تحریک اپنے عروج پر تھی۔ 1939 میں دوسری عالمگیر جنگ کا آغاز ہو چکا تھا، اس جنگ میں جرمن ڈکٹیٹر ہٹلر پوری دنیا کو فتح کرنے کے عزم کے ساتھ دنیا پر حملہ آور ہوا تھا۔ یہ ضرور تھا کہ دنیا بھر کے محنت کش ایک امید کے ساتھ سوویت یونین کی جانب دیکھ رہے تھے جہاں 1917 میں محنت کشوں کی آمریت قائم ہو چکی تھی، گویا وہ دور بہت ہنگامہ خیز دور تھا۔ چنانچہ اس دور میں فیض احمد فیض بھی برصغیر کے لوگوں کا لہو اپنی شاعری کو ذریعہ بنا کر گرما رہے تھے۔

یہ ضرور تھا کہ فیض احمد فیض 1929 میں ہی شاعری کا آغاز کر چکے تھے، اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ فیض احمد فیض برصغیر کی آزادی کے نہ صرف حامی تھے بلکہ وہ خود اس تحریک میں شریک بھی تھے البتہ یہ ضرور تھا کہ وہ حقیقی آزادی کے لیے کوشاں تھے۔ وہ بھگت سنگھ کے اس نظریے کے قائل تھے کہ ہمیں ایسی آزادی سے کچھ حاصل نہ ہوگا جس آزادی کے بعد ہم برٹش سرکار کی بجائے مقامی اشرافیہ کے غلام بن جائیں، چنانچہ جب 1947 میں برصغیر کی آزادی کا وقت قریب آیا تو دور اندیش فیض احمد فیض نے آنے والے حالات کا حقیقی ادراک کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہو رہا ہے، یہ جغرافیائی آزادی ہے، ہمیں سماجی آزادی کی ضرورت ہے۔ چنانچہ انھوں نے ایک نظم لکھی جوکہ آزادی سے دو ماہ قبل ہی ماہ جون میں شائع ہوگئی جس کے بول تھے:

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر

چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں

فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل

کہیں تو ہوگا شب سست موج کا ساحل

جگر کی آگ نظر کی امنگ دل کی جلن

کسی پہ چارۂ ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں

کدھر سے آئی نگار صبا کدھر کو گئی

ابھی چراغ سرِ رہ کو کچھ خبر ہی نہیں

ابھی گرانی شب میں کمی نہیں آئی

نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

مگر جب مارچ 1951 کو فیض احمد فیض و دیگر 14 لوگوں پر بغاوت کا مقدمہ قائم ہوا تو انھوں نے اپنی صفائی ان الفاظ میں پیش کی:

 وہ بات جس ذکر سارے فسانے میں نہ تھا

وہ بات ان کو بہت ناگوارگزری

البتہ جب اکتوبر 1958 میں ملک بھر میں ایوبی آمریت نافذ ہوئی تو فیض احمد فیض اپنے لوگوں سے یوں مخاطب ہوئے۔

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں

چلی ہے رسم کوئی نہ سر اٹھا کے چلے

جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے

نظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے

فیض احمد فیض نے تمام قسم کا جبر برداشت کیا لیکن اپنے ترقی پسند نظریات کا پرچار کرتے رہے اور یوں کہا کہ:

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے

جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

البتہ ذوالفقار علی بھٹو سے ان کے اچھے مراسم رہے اور وہ ان کی کابینہ میں مشیر بھی رہے۔ شاید اسی عوامی دور میں انھوں نے یہ نظم رقم کی تھی:

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

بول زباں اب تک تیری ہے

تیرا ستواں جسم ہے تیرا

بول کہ جاں اب تک تیری ہے

دیکھ کہ آہن گر کی دکاں میں

تند ہیں شعلے سرخ ہے آہن

کھلنے لگے قفلوں کے دہانے

پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن

بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے

جسم و زباں کی موت سے پہلے

بول کہ سچ زندہ ہے اب تک

بول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے

البتہ چار اور پانچ جولائی کی درمیانی شب جب ملک میں ضیا الحق نے آمریت مسلط کی تو فیض احمد فیض پھر زیر عتاب آ گئے۔ یہاں تک کہ ضیا الحق نے یہ حکم جاری کیا کہ فیض احمد فیض کے بینک اکاؤنٹ چیک کرو، کتنی رقم ہے۔ یہ خبر نہ تھی کہ جس کے گھر میں راشن مشکل سے آتا ہو، اس کے اکاؤنٹ میں رقم کہاں، وہ کہتے تھے۔

دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے

لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

البتہ 20 نومبر 1984 کو وہ گویا رخصت ہوئے کہ

دونوں جہاں تیری محبت میں ہار کے

وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے

لیکن 13 فروری2026 کو فیض احمد فیض کا 115 واں جنم دن ان کے چاہنے والے جوش و انقلابی جذبے کے ساتھ منا رہے ہیں۔

مقبول خبریں