امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات مثبت رہی، انھیں بتایا ہے کہ ایران سے ڈیل ترجیح ہے، اگر ڈیل نہیں ہوتی تو دیکھیں گے کہ مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے، دوسری جانب اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ بورڈ آف پیس میں باضابطہ شمولیت اختیار کر لی ہے۔
عالمی سیاست اس وقت ایک ایسے دوراہے پرکھڑی ہے جہاں الفاظ اور اعمال کے درمیان خلیج مسلسل وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ ایک طرف بڑی طاقتیں امن، مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا راگ الاپتی ہیں، دوسری طرف زمینی حقائق جنگ، محاصرے، پابندیوں اور طاقت کے بے دریغ استعمال کی داستان سناتے ہیں۔ یہ تضاد محض نظریاتی نہیں بلکہ اس کے اثرات براہِ راست کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ غزہ سے لے کر یوکرین تک اور تہران سے واشنگٹن تک، عالمی نظام کے دعوے اور کارکردگی کے درمیان فاصلہ سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اس تضاد کی سب سے واضح مثال ہے۔ غزہ میں جاری بحران نے عالمی ضمیرکو جھنجھوڑ تو دیا، مگر عملی طور پر بڑی طاقتیں کسی مستقل اور منصفانہ حل تک پہنچنے میں ناکام نظر آتی ہیں۔ اسرائیل اور فلسطین کے تنازعے کی جڑیں تاریخ میں گہری پیوست ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں تشدد کی شدت اور انسانی المیے کی وسعت نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاریوں کا پھیلاؤ، جبری بے دخلیاں اور مکانات کی مسماری ایسے اقدامات ہیں جو زمینی حقائق کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرتے ہیں۔ جنوبی سلوان جیسے علاقوں میں فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی نہ صرف انسانی حقوق کا مسئلہ ہے بلکہ بین الاقوامی قانون کی روح کے بھی منافی ہے۔
جنیوا سے جاری بیان میں اقوام متحدہ کے ہائی کمیشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے واضح کیا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی کنٹرول میں اضافہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ بیان عالمی قانون کی یاد دہانی تو ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایسے بیانات کے بعد کوئی مؤثر احتسابی عمل بھی سامنے آتا ہے؟ اقوام متحدہ کی قراردادیں اکثر ویٹو پاورکی سیاست کی نذر ہو جاتی ہیں اور طاقتور ممالک اپنے اتحادیوں کو سفارتی تحفظ فراہم کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً عالمی ادارے اخلاقی وزن تو رکھتے ہیں، مگر عملی اثراندازی محدود رہ جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ بیان کہ ایران کے ساتھ ڈیل ترجیح ہے، بظاہرکشیدگی کم کرنے کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔ ان کی اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات اور ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں اسرائیل کی شمولیت کا اعلان بھی سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہے۔ تاہم ان بیانات کے ساتھ ہی ماضی کی دھمکی آمیز زبان، پابندیوں اور ممکنہ عسکری کارروائیوں کے اشارے اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ کیا یہ واقعی امن کا راستہ ہے یا دباؤکی نئی حکمت عملی؟
ایران کے ساتھ مذاکرات کی تاریخ پیچیدہ رہی ہے۔ 2015 کا جوہری معاہدہ، جسے عالمی سطح پر ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا گیا تھا، بعد ازاں امریکی پالیسی کی تبدیلی کے باعث کمزور پڑگیا۔ پابندیوں کی واپسی اور علاقائی کشیدگی میں اضافہ اس بات کی مثال ہے کہ جب معاہدوں کو داخلی سیاست یا طاقت کے توازن کی بنیاد پر توڑا جائے تو اعتماد کی فضا متاثر ہوتی ہے، اگر موجودہ قیادت ایران کے ساتھ نئی ڈیل چاہتی ہے تو اسے دھمکی اور دباؤ کے بجائے باہمی احترام اور اعتماد سازی کو بنیاد بنانا ہوگا، ورنہ تاریخ خود کو دہرا سکتی ہے۔دوسری طرف یورپ میں روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ عالمی طاقتوں کے کردار پر ایک اور سوالیہ نشان ہے۔
ابتدا میں اس جنگ کو علاقائی تنازع سمجھا گیا، مگر جلد ہی یہ عالمی جغرافیائی سیاست کا محور بن گئی۔ مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو عسکری اور مالی امداد، روس پر سخت اقتصادی پابندیاں اور سفارتی محاذ آرائی نے جنگ کو طول دینے میں اپنا کردار ادا کیا۔ بلاشبہ روس کی فوجی کارروائی بین الاقوامی قانون کے اصولوں سے متصادم قرار دی گئی، لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا جنگ کے خاتمے کے لیے اتنی ہی شدت سے سفارتی کوششیں کی گئیں جتنی عسکری امداد کے لیے؟
امریکا خود کو جمہوریت، انسانی حقوق اور عالمی استحکام کا علمبردار قرار دیتا ہے، مگر اس کی خارجہ پالیسی اکثر مفادات کے تابع دکھائی دیتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بعض حکومتوں کی کھلی حمایت اور بعض کے خلاف سخت پابندیاں، ایک مخصوص معیار کی نشاندہی کرتی ہیں، اگر انسانی حقوق واقعی اصول ہیں تو ان کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے، نہ کہ اتحادی اور حریف کی بنیاد پر مختلف۔
عالمی طاقتوں کے اس طرزِ عمل نے بین الاقوامی نظام کی ساکھ کو متاثرکیا ہے۔ کمزور اقوام کے لیے انصاف کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ جب کسی ملک پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو ان کا اثر صرف حکومت پر نہیں بلکہ عام شہریوں پر بھی پڑتا ہے۔ معیشت سکڑتی ہے، مہنگائی بڑھتی ہے، ادویات اور خوراک کی قلت پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح پابندیاں بھی ایک خاموش ہتھیار بن جاتی ہیں، جو براہِ راست گولی یا بم کے بغیر بھی انسانی زندگیوں کو متاثر کرتی ہیں۔
غزہ میں انسانی بحران نے عالمی طاقتوں کے بیانات اور عملی اقدامات کے درمیان فرق کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ جنگ بندی کی اپیلیں کی جاتی ہیں، مگر مستقل اور پائیدار حل کی سمت میں پیش رفت سست ہے۔ انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور بے گھر افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک ایسی تصویر پیش کرتی ہے جس میں فوری اور غیر جانبدار اقدام کی ضرورت ہے، لیکن عالمی سیاست میں انسانی جانوں سے زیادہ اسٹرٹیجک مفادات کو اہمیت دی جاتی ہے۔
یہ صورتحال اس بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ عالمی نظام کی تشکیل کن اصولوں پر ہوئی تھی اور آج وہ کن بنیادوں پر چل رہا ہے؟ دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والے اداروں کا مقصد طاقت کے بے لگام استعمال کو روکنا اور تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنا تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ طاقت کا توازن تبدیل ہوا اور ادارے اکثر بڑی طاقتوں کے سیاسی مفادات کے زیرِ اثر آگئے۔ ویٹو پاورکا استعمال کئی اہم قراردادوں کو مؤثر ہونے سے روک دیتا ہے، جس سے چھوٹے ممالک میں احساسِ محرومی بڑھتا ہے۔
تحقیقی و تجزیاتی زاویے سے دیکھا جائے تو عالمی سیاست میں طاقت اور اخلاقیات کا توازن ہمیشہ نازک رہا ہے۔ حقیقت پسندی (Realism) کی تھیوری کے مطابق ریاستیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے طاقت کا استعمال کرتی ہیں، جب کہ لبرل ازم بین الاقوامی تعاون اور اداروں کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ موجودہ حالات میں محسوس ہوتا ہے کہ حقیقت پسندی کا پلڑا بھاری ہے اور اخلاقی اصول اکثر ثانوی حیثیت اختیارکرجاتے ہیں۔
ایران کے ساتھ مذاکرات، اسرائیل کی سیکیورٹی، فلسطینیوں کے حقوق، روس کی توسیع پسندانہ پالیسی، یوکرین کی خود مختاری، یہ سب حقیقی مسائل ہیں جن کا حل یکطرفہ اقدامات سے ممکن نہیں، اگر امریکا اور دیگر بڑی طاقتیں واقعی امن چاہتی ہیں تو انھیں اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ مذاکرات کو دھمکیوں سے پاک اور معاہدوں کو داخلی سیاسی تبدیلیوں سے محفوظ بنانا ہوگا۔ اسی طرح علاقائی طاقتوں کو بھی ذمے دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ تنازعات کو پراکسی جنگوں میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔کمزور اقوام کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ عالمی سیاست کی بساط پر مہرے بن جاتی ہیں۔ ان کی داخلی سیاست، معیشت اور سلامتی بیرونی فیصلوں سے متاثر ہوتی ہے۔ فلسطینی عوام کا حقِ خود ارادیت، یوکرین کی خود مختاری اور ایرانی عوام کی معاشی مشکلات، یہ سب اس امرکی یاد دہانی ہیں کہ عالمی فیصلوں کا انسانی پہلو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
امن کا قیام صرف بیانات سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے اعتماد سازی، غیر جانبدار ثالثی اور بین الاقوامی قانون کی حقیقی پاسداری ضروری ہے، اگر عالمی طاقتیں دہرے معیار ترک کر کے یکساں اصول اپنائیں تو شاید دنیا ایک زیادہ منصفانہ سمت میں آگے بڑھ سکے۔ بصورتِ دیگر یہ تاثر مضبوط ہوتا جائے گا کہ عالمی نظام طاقتوروں کے لیے سہولت اور کمزوروں کے لیے سزا کا دوسرا نام ہے۔
آخرکار، دنیا کو یہ طے کرنا ہوگا کہ کیا وہ طاقت کی سیاست کے دائرے میں قید رہنا چاہتی ہے یا ایک ایسے عالمی نظام کی تشکیل چاہتی ہے جہاں انصاف، مساوات اور خود ارادیت محض الفاظ نہیں بلکہ عملی حقیقت ہوں۔ اگر عالمی قیادت نے اس لمحے کی نزاکت کو نہ سمجھا تو تاریخ ایک بار پھر گواہی دے گی کہ جب طاقت کو اصولوں پر فوقیت دی جاتی ہے تو امن محض ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے اورکمزور اقوام کی چیخیں عالمی ایوانوں کی دیواروں سے ٹکرا کر خاموش ہو جاتی ہیں۔