پاکستان میں حکمرانی کے نظام کا مجموعی مسئلہ شفافیت ہے جو بنیادی طور پر معاشرے میں موجود کمزور طبقات کے لیے نئے مسائل کو پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔آئی ایم ایف،ورلڈ بینک،ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت ترقی یا دیگر ادارے بار بار اس امر کی نشاندہی کررہے ہیں کہ پاکستان کو سیاسی اور معاشی طور پر آگے بڑھنے کے لیے اپنے گورننس کے نظام میں اہم اقدامات یا بڑی تبدیلیاں لانی ہونگی۔
ان کے بقول اگر پاکستان نے گورننس سے جڑے معاملات پر جلد زیادہ سنجیدگی سے کام نہ کیا یا ان میں کوئی بڑی اصلاحات اور عملدرآمد کے نظام کو ممکن نہیں بنایا تو وہ بہت سی اچھی پالیسیوں کے باوجود ترقی کے اہداف کو حاصل نہیں کرسکے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ترقی تو جدید بنیادوں پر کرنا چاہتے ہیں لیکن حکمران طبقات کا کردار فرسودہ روایات اور فکر کے ساتھ ہی جڑا ہوا ہے جہاں ہم ہر فرد کی ترقی کے مقابلے میں طبقاتی بنیادوں پر ترقی کے ماڈل کو آگے لے کر چلنا چاہتے ہیں اور ترقی کے مجموعی دائرہ کار کو اپنے فائدہ تک محدود کر رہے ہیں۔
اس وقت بلاوجہ ہمارے جیسے ملک میں وفاقی اور صوبائی سطح پر اچھی حکمرانی کی بحث موجود ہے جہاں ہر جماعت کی حکومت خود کو بہتر ماڈل کے طور پر پیش کرتی ہے اور سیاسی مخالفین کی حکومت کو بدترین حکمرانی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ اس وقت وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کی، سندھ اور بلوچستان میں پیپلزپارٹی جب کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ اس لیے ایک دوسرے پر الزام تراشیاں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں ۔کچھ غیر سرکاری ادارے چاروں صوبائی حکومتوں کے درمیان سروے بھی پیش کرتے ہیں کہ کہاں اچھی حکومت ہے۔
18ویں ترمیم کے بعد گورننس کی بہتری کی ایک بڑی ذمے داری وفاقی حکومت کے مقابلے میں صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے اور ان ہی کو اچھی حکمرانی کے تناظر میں جوابدہ سمجھا جاتا ہے ۔لیکن بدقسمتی سے 18ویں ترمیم کے بعد بھی ہماری صوبائی حکومتوں کا گورننس کا ماڈل لوگوں میں اپنی اچھی ساکھ قائم نہیں کرسکا۔یہ ہی وجہ ہے کہ لوگ ملک کی مجموعی حکمرانی کے نظام سے نالاں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ نظام ان کے مسائل کے حل میں ناکامی سے دوچار ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ ہمارے حکمران طبقات کی جانب سے سرکاری اشتہارات کی دنیا میں پاکستان یاان کے صوبے ترقی میں پیرس اور دیگر یورپی ممالک کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں ۔
ہمارا گورننس کا ماڈل خیراتی ماڈل کی تصویر پیش کرتا ہے جہاں ہم لوگوں کو خود انحصار کرنے کی بجائے ان کو حکومتوں ہی پر منحصر اور محدود رکھنا چاہتے ہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ لوگوں کی سیاسی اور معاشی حیثیت کو تبدیل کرنا ہماری ترجیحات کا حصہ نہیں ۔اس کھیل کی بنیاد پر حکمران اپنی ذاتی تشہیر کے لیے اربوں روپوں کے اشتہارات جاری کرتے ہیں جو قومی خزانے پر بوجھ بنتے ہیں۔اس نظام کی خرابی یہ ہے یہ اداروں کی بالادستی کی بجائے افراد یا خاندان کی بالادستی کو فوقیت دی جاتی ہے جو آگے جاکر اداروں کی کمزوری کا سبب بھی بنتا ہے۔اسی طرح 18ویں ترمیم کے باوجود ہم آج بھی نچلی سطح کے نظام کو بے اختیار کرنا ہوتا ہے۔یہ ہی وجہ ہے ایک مضبوط اور خود مختار مقامی حکومت کا نظام ہمیشہ سے ہماری سیاسی ترجیحات کا حصہ نہیں رہا ہے اور اس عمل نے گورننس کے نظام کی خرابیوں میں بنیادی کردار ادا کیا ہے ۔
اچھی حکمرانی کا نظام نہ صرف اداروں کو مستحکم بناتا ہے بلکہ لوگوں کی سطح پر اعتماد بحال کرتا ہے اور لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ ہمارے مسائل کا حل اسی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ یہ ہی عمل شہریوں میں حکمرانوں پر اعتماد کو بھی بحال کرتا ہے جو سیاسی اور جمہوری نظام کو بھی مضبوط بنانے میں اہمیت رکھتا ہے ۔اچھی گورننس معاشرے میں موجود عدم انصاف اور عدم مساوات کے نظام کو ختم کرکے سب میں برابری کی سیاست کو اہم بناتی ہے۔
ہر شہری کا حق ہے کہ اس کے پاس معلومات تک رسائی ہو اور وہ حکمرانوں کو جوابدہی کے طور پر دیکھ سکے یا وہ ان سے سوالات کرسکے ۔پاکستان جیسے ملک میں اول جہاں کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست عام ہے، اعتراف کیا جارہا ہے کہ ہمارے سرکاری اداروں میں سالانہ بنیادوں پر اربوں روپے کرپشن،بددیانتی یا بے ضابطگی ہے ۔سب سے بڑھ کر پاکستان کے گورننس کے مسائل کی بنیادی خرابی انسانی وسائل پر کم توجہ اور کم بجٹ رکھنا ہے اور اسی بنیاد پر ہمارے قومی اعداد وشمار میں سماجی ترقی اور کمزور طبقات کی ترقی میں بہت زیادہ فرق دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہماری ترقی کی توجہ کا مرکز انتظامی ڈھانچوں اور چند بڑے مخصوص شہروں کی ترقی تک محدود ہے جو لوگوں میں محرومی کی سیاست کو جنم دینے کا سبب بنتا ہے ۔
یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ اگر ملک میں گورننس کا نظام عدم شفافیت کی بنیاد پر قائم رہے گا تو اس کا براہ راست اثر ملک کی سیاست ،جمہوریت یا معیشت کی کمزوری کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ آج دنیا کی ترقی میں سب سے زیادہ توجہ اپنے گورننس کے نظام کی بہتری کی طرف ہے ۔ ہمیں گورننس کے نظام کی بہتری کے حوالے سے چند بنیادی نوعیت کے فکری مغالطوں سے بھی باہر نکلنا ہوگا۔اگر واقعی ہم نے گورننس کے نظام میں بہتری پیدا کرنی ہے یا اس میں بہتری کے نتائج دیکھنے ہیں تو ہمارے پاس واحد کنجی اصلاحات پر مبنی نظام ہوتا ہے ۔
اس لیے اگر ہم نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سطح پر گورننس کے نظام کی بنیاد پر کارکردگی کو جانچنا ہے تو پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ کس کی حکومت اور کس جماعت نے پولیس ،عدلیہ اور انصاف،ادارہ جاتی یا بیوروکریسی،انتظامی،سیاسی، معاشی ،سیکیورٹی اور کمزور طبقات کی بہتری میں سخت گیر اصلاحات اور ان کا مکمل عملدرآمد کا جامع نظام اور فریم ورک تشکیل دیا ہے تو ہمیں جواب نفی میں ہی ملے گا۔جس فرسودہ انداز سے نظام کو چلانے کی کوشش کی جارہی ہے اس سے اس نظام کے بارے میں اور زیادہ مایوسی پیدا ہورہی ہے اور موجودہ گورننس کا نظام پہلے سے موجود طبقاتی تقسیم اور خلیج کو اور زیادہ گہرا کررہا ہے ۔یہ ہی عمل حکومت اور شہریوں کے درمیان باہمی اعتماد کو بھی کمزور کرتا ہے ۔اس لیے حکمرانوں کی جذباتیت یا اشتہارات پر مبنی حکمرانی کا نظام لوگوںمیں ان کی بہتر ساکھ کو قائم نہیں کرسکے گا۔ہمیں جدید حکمرانی کے ماڈل درکار ہیں اور اسی بنیاد پر ایک بڑے قومی فریم ورک کی مدد سے سخت گیر اصلاحاتی ماڈل کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا اس وقت ہماری سیاسی مجبوری ہے۔لیکن کیا حکمران اس کے لیے تیار ہیں اس پر غور کرنا ہوگا۔