سعودی عرب میں رمضان المبارک 1447 ہجری کے مقدس مہینے کے استقبال کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔
سعودی میڈیا کے مطابق حکومتی سطح پر استقبال رمضان کی تیاریاں عروج پر ہیں جب کہ اللہ کے مہمانوں کو خوش آمدید اور شاندار میزبانی کی تیاری بھی مکمل کرلی گئی۔
گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی رمضان کے شایان شان استقبال کے لیے اھلاً و سہلاً یا رمضان المبارک کے بینرز جگہ جگہ آویزاں کردیئے گئے۔
سعودی عرب کی شاہراؤں اور گلی محلوں کو بھی برقی قمقموں سے سجایا گیا ہے۔ قرآن پاک کی مقدس آیتوں اور احادیث مبارکہ سے سجے بل بورڈز بھی لگائے گئے ہیں۔
رمضان کے مقدس ساعتوں سے لمحہ لمحی نیکی بٹورنے کے سنہری مواقعوں سے مستفید ہونے کے لیے متعدد اصلاحی اور تبلیغی پروگرام بھی ترتیب دیئے گئے ہیں۔
ماہ مقدس میں افطار کروانا بھی بڑی نیکی ہے جس کے لیے بڑے بڑے افطار اجتماعات میں منعقد کیے جائیں گے۔
سب سے زیاد رونقین مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں دیکھنے میں آرہی ہیں جہاں شاہراہیں، گلیاں اور اہم مقامات کو رنگ برنگے قمقموں اور فانوس سے سجایا گیا ہے۔
دنیا بھر سے مسلمان عمرہ ادائیگی اور عبادات کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینی منور کا رخ کریں گے۔ اللہ کے مہمانوں کے لیے خصوصی انتظامات کیے جارہے ہیں۔
ماہِ شعبان کے آخری جمعے پر مسجد الحرام میں تقریباً 15 لاکھ سے زائد زائرین نے شرکت کی، جو رمضان کی آمد کی توقعات اور استعدادِ زائرین میں اضافے کا مظہر ہے۔
رمضان المبارک میں تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونے کا قوی امکان ہے۔ آخری عشرے میں تو گویا حج کا سا گماں ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب سمیت متعدد اسلامی ممالک میں رمضان کا آغاز 19 فروری سے ہونے کا قومی امکان ہے تاہم حتمی اعلان چاند نظر آنے کے بعد ہی کیا جائے گا۔