ایپسٹین فائلز: کیا امریکا اسرائیل کو بے نقاب کر رہا ہے؟

اسرائیل کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور وہ سارا ڈیٹا جو بلیک میلنگ کےلیے استعمال ہونا تھا، سب کمپرومائز ہوگیا


حسیب اصغر February 15, 2026
بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے سرغنہ اور لڑکیوں کیساتھ ٹرمپ کی تصاویر

اگر میں آپ کو کہوں کہ امریکا جو کہ غیر قانونی صہیونی ریاست اسرائیل کے ہر غیر قانونی، غیر انسانی اور غیر اخلاقی اقدام کے پیچھے محافظ بن کرکھڑا رہا ہے۔ درحقیقت وہ صہیونی ریاست کے ہاتھوں بری طرح بلیک میل ہوتا رہا ہے اور اب نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ امریکا صہیونی ریاست کی حفاظت کےلیے اپنی سلامتی کو بھی داؤ پر لگا چکا ہے، جس کے باعث امریکی مقتدر حلقوں میں اب تشویش بڑھتی جارہی ہے۔

امریکا کو اب احساس ہونے لگا ہے کہ صہیونی اب امریکا کی سلامتی کےلیے خطرہ بن رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اب اندرونی سیاست میں موجود صہیونی حکام جو اسرائیل کےلیے کام کررہے ہیں، ان سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔ یہ بات اب ذہین دماغوں سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے۔

دوسری جانب صہیونی ریاست کو بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ اب امریکا میں اس کو زیادہ وقت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے امریکا اور اسرائیل دونوں کے فیصلہ سازوں نے اپنے اپنے بچاؤ کےلیے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہونے کا اپنے اپنے جال بچھانا شروع کردیے ہیں۔

ان تفصیلات کو پڑھ کر مجھے یقین ہے زیادہ تر لوگ اس کو دیوانے کا خواب کہیں گے یا خام خیال، یا پھر اس کو اسرائیل فوبیا کا نام دیں گے۔ لیکن یہاں میں کسی طرح کے تجزیے اور رائے کا اظہار نہیں کروں گا بلکہ جیسا میں ہمیشہ اپنے مضامین میں کرتا رہوں وہی کروں گا یعنی حقائق سامنے رکھوں گا اور فیصلہ قارئین پر چھوڑ دوں گا۔

میں یہاں توجہ دلانا چاہوں گا کہ خدا نے ظالموں کو مہلت تو دی ہے لیکن بے لگام نہیں چھوڑا ہے۔ وہ ظلم کرتے ہیں لیکن ایک حد تک پھر ان کی بساط خود ان ہی پر الٹا دی جاتی ہے۔ جس کی ایک مثال یہ ہے کہ اگر آپ دنیا کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ انسانی تہذیب کی کہانی صرف عروج کی نہیں بلکہ زوال کی بھی کہانی ہے۔

آج ہم ان بستیوں، شہروں اور کھنڈروں سے واقف ہیں جو کبھی تہذیبی مراکز تھے مگر وقت کے ساتھ ان کا نام و نشان مٹ گیا۔ وہ تہذیبیں اب ماضی کا حصہ بن گئیں، بلکہ ان تہذیبوں کے حوالے سے ہمیں کچھ بہت زیادہ معلومات بھی نہیں ہے، جن میں سے اکثریت وہ ہے جنہوں نے ظلم کیا، چالاکیاں کیں اور چالیں چلیں۔

قرآنِ مجید کی سورۂ الانفال میں اللہ نے ارشاد فرمایا: ’’وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ‘‘۔
ترجمہ: وہ اپنی چالیں چلتے ہیں اور اللہ اپنی تدبیر کرتا ہے، اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔

اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی محدود عقل اور فہم کے مطابق منصوبے بناتا ہے۔ بعض اوقات وہ سازشیں کرتا ہے، حق کو دبانے کی کوشش کرتا ہے یا اپنے مفاد کےلیے چالیں چلتا ہے۔ اسے گمان ہوتا ہے کہ اس کی حکمتِ عملی ہی سب پر غالب آئے گی۔ لیکن قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کائنات کا اصل اختیار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔

آج کل ایپسٹین فائلز نے عالمی سیاست میں بھونچال مچادیا ہے۔ اس سے اب ہم تقریباً سب ہی واقف ہیں۔ اس کی تفصیلات میں جائے بغیر میں اس حصے پر بات کرنے کی کوشش کروں گا جو غالبا منظر عام سے غائب ہے، یعنی یہ جو عالمی سیاست کو بری طرح جھنجھوڑنے والا اسکینڈل ہے، اِسے منظر عام پر کون لایا اور اِس کے پیچھے کیا محرکات تھے؟ یہ سوال صرف ایک واقعے کی تہہ تک جانے کی کوشش نہیں، بلکہ اُس کے پیچھے پوری عالمی سیاست کے وہ کردار ہیں جن سے اب تک ہم لاعلم تھے۔

دنیا میں موجود تمام ممالک ہر قدم پر فائدے اور نقصان کا حساب لگاتے ہیں۔ ملکی پالیسی مذہب یا پسند ناپسند کی بنیاد پر نہیں بلکہ قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی جاتی ہیں۔ ریاستوں میں موجود پالیسی میکرز کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بتاتے ہیں کہ ان کی بنائی ہوئی پالیسی کا ملک پر کیا اثر ہوگا اور اس کا عوامی ردعمل کیا ہوگا، بین الاقوامی سطح پر سیاسی تصویر کیا بنے گی، اور دنیا کے سامنے کیا پوزیشن ہوگی۔ ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر دیکھا جائے تو امریکا اس وقت سپر پاور ہے جس کو فوجی اعتبار سے بہرحال دنیا پر برتری حاصل ہے اور اس کی خفیہ ایجنسیاں دنیا بھر میں اپنے آپریشنز کامیابی سے انجام دے رہی ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر یہ قابل غور ہے کہ ایپسٹین فائلز اسکینڈل منظر عام پر کیسے آگیا؟ اس اسکینڈل نے امریکا کی ان شخصیات کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا جو دنیا میں طاقتور ترین سمجھے جاتے تھے۔

ایپسٹین فائلز اسکینڈل کوئی معمولی واقع ہرگز نہیں، کیونکہ اس میں لاکھوں دستاویزات، ہزاروں ویڈیوز، اَن گنت تصاویر شامل ہیں۔ جو اب تک جاری کیے جاچکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ ہر روز اس میں کچھ مزید حیران کردینے والا ظاہر ہورہا ہے۔ یہ سلسہ جاری ہے، رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ نہ معلوم یہ کب رکے گا، اور کیسے رکے گا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ فائلز باہر کیسے آئیں؟ یعنی اس میں جن لوگوں کے نام اور کرتوت درج ہیں وہ کوئی یونین کونسلر، چیئرمین یا معمولی افراد نہیں، بلکہ وہ ہیں جو ممالک کی قسمتوں کا فیصلہ کرتے ہیں، تو ایسے میں یہ بات بہت اہم ہے کہ امریکا کو کیا ضرورت پڑگئی کہ اُس نے ان فائلز کو منظرعام پر لانے کا اپنے لیے اتنا بڑا خطرہ مول لیا؟

یہاں ایک بات بہت ہی اہم ہے جس کو سمجھے بغیر ایپسٹین فائلز کی حقیقت کو سمجھنا شاید ناممکن ہو۔ آپ کو یہ جاننا پڑے گا کہ امریکا سے مراد کون لوگ ہیں؟ کیا امریکا کوئی اکائی ہے یا وہ مختلف قوتوں کا مجموعہ ہے۔

اگر امریکا کو موضوعی طور پر دیکھا جائے تو امریکا کی سیاست کو صرف دو متصادم قوتوں میں تقسیم کر دینا حقیقت کو بہت سادہ بنا دینا ہے۔ وہاں طاقت کا ڈھانچہ نہایت پیچیدہ ہے جس میں سیاسی جماعتیں، کارپوریٹ مفادات، دفاعی صنعت، مذہبی گروہ، تھنک ٹینکس، میڈیا ادارے اور مختلف نسلی و مذہبی کمیونٹیاں سب اپنا اپنا کردار ادا کرتی ہیں، تاہم آج کے امریکا میں بنیادی طور پر دو قوتیں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی ہیں۔ ایک قوت ہے امریکا فرسٹرز کی، جو کہتے ہیں کہ امریکا سب سے پہلے۔ دوسری قوت ہے اسرائیلی نواز صہیونی لابی، جس نے اب امریکی سیاست اور نظام پر بہت زیادہ کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

وال اسٹریٹ جنرل کی ایک رپور ٹ کے مطابق اس وقت امریکا میں چھوٹی بڑی سیاسی و غیر سیاسی یہودی تنظیموں کی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ ہے لیکن جہاں تک سوال ہے کہ کون سے صہیونی یا اسرائیلی نواز پریشر گروپس امریکی سیاست میں اثر رکھتے ہیں، تو اس سب سے زیادہ معروف تنظیم AIPAC (American Israel Public Affairs Committee) ہے، جو امریکی قانون سازوں کے ساتھ رابطہ رکھتی ہے اور امریکا اسرائیل تعلقات کے حق میں لابنگ کرتی ہے۔ اسی طرح Anti Defamation League (ADL) ایک تنظیم ہے جو بظاہر یہود مخالف تعصب اور نفرت انگیزی کے خلاف کام کرتی ہے۔ J Street نامی گروپ خود کو ’’اسرائیلی نواز، پرو امن‘‘ کہتا ہے اور دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ Conference of Presidents of Major American Jewish Organizations مختلف یہودی تنظیموں کا ایک پلیٹ فارم ہے جو اجتماعی طور پر نمائندگی کرتا ہے۔ آپ کو یہ جان کر ممکن ہے کہ حیرت ہو کہ یہ صہیونی تنظیمیں امریکا میں اتنی طاقتور ہیں کہ ان کی آمادگی کے بغیر امریکی ایوان نمائندگان میں قانون ساز تقریر بھی نہیں کرسکتے ہیں۔

میں یہاں تفصیلات کے بجائے مختصر انداز میں بتانا چاہوں گا کہ امریکا میں 2000 سے اب تک اسرائیل نواز صہیونی پریشر گروپس اور تنظیموں نے کس طرح امریکا کے مختلف صدور کو اپنے مطالبات منوانے کےلیے مجبور کردیا تھا۔ 2000 میں امریکی صدارتی انتظامیہ میں نئے قدامت پسندوں یعنی ’’نیو کنزرویٹیوز'‘‘ کا اثر و رسوخ غیر معمولی طورپر بڑھ چکا تھا۔

نئے قدامت پسندوں نے نائن الیون سے چار برس قبل ’’پروجیکٹ فار نیو امریکن سینچری'‘‘ نامی تھنک ٹینک میں شمولیت اختیار کی۔ اس تھنک ٹینک کے بانیوں میں ولیم کرسٹل اور روبرٹ کیگن جیسے نظریہ ساز شامل تھے جنہوں نے پہلے ہی سے امریکا پر زور دینا شروع کردیا تھا کہ وہ جب تک ممکن ہو، دنیا میں اپنی اجارہ داری قائم رکھے۔ واضح رہے کہ ارونگ کرسٹل پال وولفووٹز رابرٹ کیگن اور رچرڈ پرل امریکی سیاست میں انتہائی طاقتور شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور یہ تمام افراد کٹر صہیونی خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

نائن الیون کے خودساختہ دہشت گرد حملوں کے بعد امریکا نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی کی گرد ابھی بیٹھی بھی نہ تھی کہ نئے قدامت پسندوں نے اس وقت کے امریکی صدر جارج بش کے ساتھ ایسا کیا جادو کیا کہ وہ ایک افغانستان، عراق، شام، لیبیا کے ساتھ جنگ میں کود گئے، جس نے امریکا کو کروڑوں ڈالر کا نقصان دیا اور ہزاروں فوجی مارے گئے۔ امریکی تجزیہ کاروں نے بھی اس وقت اس بات پر اتفاق کیا کہ بش کی انتظامیہ اس پر ضرورت سے زیادہ ردعمل ظاہر کیا، اس وقت تو اس کا مقصد سمجھ نہیں آیا لیکن اب سمجھ آرہا ہے۔

اگر میں 2000 سے اب تک کی تفصیلات بتاؤں گا تو یہ بہت طویل ہوجائے گا اور اپیسٹین اسکینڈل کو وقت نہیں ملے گا تو اس کو مختصر کرکے براہ راست ٹرمپ کے دور حکومت پر آتے ہیں۔

اگر ہم واقعات کی ایک چھوٹی سی ٹائم لائن آپ کے سامنے رکھیں تو ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے ساتھ ایک نئی داستان شروع ہوتی ہے۔ ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ امریکا کو دوبارہ عظیم بنانا چاہتے ہیں اور اس کام کےلیے ان کو بیرونی جنگوں سے امریکا کا پیسہ نکالنا ہوگا۔ وہ خود کو پیس میکر کہتے ہیں وہ اقتدار میں آئے ہی اس نعرے پر تھے کہ امریکا بیرون ممالک جنگیں ختم کرے گا۔

ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد آپ نے دیکھا کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، 13 جون 2025 کو ہوئی، جب اسرائیل نے ایرانی جوہری اور فوجی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔ یہ حملے تہران سمیت کئی بڑے شہروں میں کیے گئے اور جنگ کے آغاز میں ہی ایرانی اعلیٰ فوجی کمانڈرز و سائنسدان ہلاک ہوئے۔ صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا کہ امریکا اس جنگ میں شامل ہو ۔ ٹرمپ نے بھی ایران کے حوالے سے بہت جارحانہ بیان دیے کہ نقشے سے مٹادیا جائے گا۔ دوسری طرف امریکا کے وائس پریزیڈنٹ جے ڈی ونس جو کہتے تھے کہ ایران سے بات چیت ہونی چاہیے اور اس دوران اسرائیل ایران پر حملوں کے لیے امریکا کو مجبور کیا۔ صورتحال ایسی ہوگئی کہ اب امریکا نے ایران پر حملہ کیا اور تب کیا، اس دوران ٹرمپ مسلسل ایران کو دھمکاتے رہے کہ ایران کو تباہ برباد کردیا جائے گا لیکن اس کے باوجود ایران پر حملہ نہیں کیا گیا۔

اسرائیل کے مسلسل مطالبے پر ٹرمپ نے امریکا کا بحری بیڑا جو وہ پہلے جنوب مشرقی ایشیا کے سمندر South China Sea میں تھا، اسے خلیج فارس میں بھیج دیا۔ ٹرمپ کے اس اقدام پر امریکا فوج میں احتجاج ہوا جس کو امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا۔ اور یوں 21 جون 2025 کو امریکی فضائیہ نے ایران پر بی ٹو بمبار جہازوں سے حملہ کیا۔ اس حملے کو خود امریکا میڈیا نے رپورٹ کیا کہ حملے میں ایران کا کوئی جوہری پلانٹ نشانہ نہیں بنا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ حملہ محض اسرائیل کے دباؤ میں کیا گیا تھا اس سے ایران کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔

اسرائیل کو بھی یہ بات سمجھ آگئی تھی جس کے نتیجے میں صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو ،جو امریکا کے دورے پر تھے، انھوں نے ایک بیان میں یکطرفہ طور پر کہا کہ وہ ایران کے خلاف raising lion 2 operation کرنے والا امریکا ان کا ساتھ دے یا نہ دے۔

اس بیان کے بعد ایک غیر معمولی صورتحال عالمی میڈیا نے دیکھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان جاری کیا جس میں انھوں نے دائیں جانب مارکو روبیو کو بٹھایا اور بائیں جانب جے ڈی وینس کو بٹھایا اور کہا کہ ہم ایران پر حملہ کریں گے اگر ضرورت پڑی، لیکن فوج بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یہ بیان نیتن یاہو کو واضح پیغام تھا جس میں دیکھا جارہا تھا کہ ٹرمپ نیتن یاہو کے مطالبے کو ماننے کو تیار ہیں لیکن انکار کرنے کی جرأت بھی نہیں ہے۔

یہ بیان اور اس کی ٹائمنگ کے ساتھ ساتھ اس تقریب کو اس لیے اہمیت دی جارہی ہے کیونکہ اس تقریب میں ٹکر کارلسن مدعو تھے۔ ٹکر کارلسن اس موقع پر کیوں اہم ہیں، اس لیے کہ وہ اسرائیل کے مقابلے میں امریکی مفاد کو ہر موقع پر کھلے عام اولیت دینے کی بات کرتے ہیں۔ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی مداخلت کے مخالف ہیں۔ امریکا کی بیرونی جنگوں اور اسرائیل کو دی جانے والی مالی امداد پر سوال اٹھاتے ہیں، انھیں غزہ اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں میں امریکی شمولیت پر اعتراض کیا اور وہ اسرائیل کے امریکی سیاست میں مداخلت کے سخت مخالف ہیں، اس لیے ان کا اس موقع پر موجود ہونا خود ایک پیغام ہے۔

ابھی یہ صورتحال ختم نہیں ہوئی تھی کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 14 ستمبر کو صہیونی ریاست اسرائیل کا دورہ کرتے ہیں جہاں انھوں نے صہیونی وزیراعظم سے ملاقات کی اور کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) کا دورہ بھی کیا اس دوران نیتن یاہو پارلیمنٹ میں کہتے ہیں کہ ہم بین المقدس کو یہودیانے کےلیے تیار ہیں۔ نیتن یاہو کے اس بیان کا مقصد صاف تھا کہ امریکی وزیرخارجہ موجود ہے، اس کی موجود گی میں یہ بیان دینے کا مطلب یہ ہے کہ امریکا اس بیان کو تسلیم کرتا ہے اور وہ اس کی حمایت کرتا ہے۔ نیتن یاہو کے بیان پر جب مارکو روبیو سے سوال کیا گیا تو اس نے دوٹوک الفاظ میں اس سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فضول بات ہے ایسا کوئی منصوبہ امریکا کا نہیں ہے۔

اسرائیل مخالف ڈھکے چھپے جذبات کا اظہار تو عالمی میڈیا کم و بیش 10 سال سے دیکھ رہا ہے، لیکن اب اس میں ایک غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اس کی ایک مثال سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی ہے جنہوں نے جون 2025 میں ایک ٹی وی شو (The Daily Show) میں صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو کے بارے میں ایک بہت سخت بیان دیا تھا، جس میں انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو نے ایران کے خلاف جنگ کو ایک طریقہ بنایا ہے تاکہ وہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہ سکے۔ انھوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے اور عام شہریوں کے قتل کو روکنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غیر ضروری ردعمل دے رہا ہے۔

یہاں میں بتانا چاہوں گا کہ اداروں اور ممالک کے درمیان اختلافات ہوتے ہیں لیکن وہ میڈیا کے سامنے نہیں آتے، امریکا اور اسرائیل کے درمیان اختلاف بہت سارے شعبوں میں ہونے کے باوجود منظر عام پر نہیں آتے تھے لیکن اب صورتحال بہت بدل چکی ہے جس کے نیتجے میں اب اختلافات کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ صہیونی ریاست کی انٹیلی جنس ایجنسی موساد اور امریکی ایجنسی سی آئی اے میں موجود امریکا فرسٹرز کے درمیان سرد جنگ اب غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے اور اس میں گہری دراڑ پڑگئی ہے۔ یہ درڑ اب ایجنسیوں سے نکل کر نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان پہنچ گئی ہے جس کے باعث ٹرمپ پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

جب ٹرمپ پر دباؤ میں کوئی خاص فائدہ نہیں ملا تو آپ کو 25 نومبر کو واشنگٹن میں فائرنگ کا واقعہ یاد ہوگا جس میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والا مشتبہ شخص ایک افغان شہری نکلا، جو ماضی میں افغانستان میں امریکی فوج کے ساتھ خدمات انجام دے چکا ہے۔ اس واقعے نے صدر ٹرمپ پر غیر معمولی دباؤ ڈالا تھا۔

امریکا میں میڈیا اور عوام نے واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ اہلکاروں پر حملے کو بڑی خبر کے طور پر پیش کیا۔ امریکی شہریوں نے صدر سے فوری اور سخت ردعمل کی توقع کی، خاص طور پر سیکیورٹی اور امیگریشن پالیسیوں کے حوالے سے۔ ٹرمپ کے تنقیدی حریف اور ناقدین نے کہا کہ ان کی امریکی سرحدوں اور پناہ گزینوں کی جانچ پالیسی ناکافی ہے۔ کانگریس میں کئی سینیٹرز اور نمائندگان نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ افغان پناہ گزینوں اور تارکین وطن کی سیکیورٹی چیک مزید سخت کریں۔ بعض قانون سازوں نے کہا کہ یہ واقعہ امریکا میں داخل ہونے والے غیر ملکیوں کی جانچ میں خامیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ پارلیمانی اور عوامی دباؤ کے نتیجے میں ٹرمپ نے امریکی امیگریشن اور پناہ گزین پالیسیوں پر نظر ثانی کا اعلان کیا۔

اسرائیل کی جانب سے ٹرمپ پر غیرمعمولی دباؤ ہے۔ یہ اسی دباؤ کا نتیجہ ہے کہ ٹرمپ ایران کے خلاف سنگین تنائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں لیکن بات چیت بھی کررہے ہیں، یعنی وہ اسرائیل کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتے لیکن اسرائیل کی بات ماننے کو بھی تیار نہیں۔

ایسے واقعات تو بہت سارے ہیں لیکن میں یہاں ایک اور واقعہ پیش کرنا چاہوں گا جب غزہ فلسطینیوں کی نسل کشی کا اسرائیلی سلسلہ جاری تھا جس کے نیتجے میں بحر احمر میں یمن کے حوثیوں نے سمندر کو اسرائیلی اور امریکی جہازوں کےلیے بند کردیا تھا، تو مئی 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ نے نیتن یاہو کو بتائے بغیر حوثیوں کے ساتھ ایک جنگ بندی معاہدہ کرلیا تھا جس پر اسرائیل میں بڑی چہ میگوئیاں ہوئی تھیں۔ امریکی سفیر نے بعد میں ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا کو ایسی ڈیلز کےلیے اسرائیل کی ’’اجازت‘‘ یا مشورہ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ غزہ میں امریکی شہری ادن الیگزینڈر کی رہائی کا ہوا، جس کی رہائی کےلیے امریکا نے حماس سے براہ راست مذاکرات کیے اور حماس نے اس کو رہا کردیا۔ یہاں بھی اسرائیل کو آگاہ نہیں کیا گیا تھا جس پر اسرائیلی حکام نے تشویش اور حیرت کا اظہار کیا تھا۔

یہاں میں کہوں گا کہ موساد اور سی آئی اے، ایک دوسرے کے خلاف اور نیتن یاہو اور ٹرمپ ایک دوسرے کے خلاف کام کررہے ہیں لیکن یہاں سی آئی اے نے صہیونی خفیہ ایجنسی کے سب سے بڑے آپریشن کو بے نقاب کردیا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایپسٹین آئی لینڈ کی فائلوں کو عام کردیا گیا، جس کے باعث اسرائیلی اربوں ڈالر کی بساط الٹ کر رکھ دی گئی۔

اسرائیل کی جانب سے امریکا سمیت دنیا کے اہم ترین افراد، جن پر اس نے کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی، ان کی انتہائی حساس خفیہ معلومات اپنے پاس رکھی تھیں، اس کا کوئی نہ کوئی مقصد تو ضرور تھا جس کو امریکا نے عام کردیا اور اس طرح اسرائیل کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور وہ سارا ڈیٹا جو انھوں نے بلیک میلنگ کےلیے استعمال کرنا تھا، سارا کچھ کمپرومائز ہوگیا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
حسیب اصغر
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔

مقبول خبریں