کراچی:
وفاقی وزیر صحت اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے مرکزی رہنما مصطفیٰ کمال نے پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی صوبائی حکومت کے اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ لیاقت آباد سے تحریک شروع کر رہے ہیں اور اگر اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں ہوئے تو 18 ویں ترمیم کی مخالفت کریں گے۔
وفاقی وزیر صحت اور ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے لیاقت آباد میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم نے اٹھارویں ترمیم کی حمایت کی تھی مگر اختیارات عوام تک نہیں پہنچے، اٹھارویں ترمیم کے وسائل صوبائی حکومت کو مل گئے مگر شہری سندھ کے عوام پر ظلم ہوا۔
مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ اگر اختیارات گلی کوچوں تک منتقل نہیں کیے جائیں تو 18ویں ترمیم قابل قبول نہیں اور ایم کیو ایم پاکستان اس کے خاتمے کا مطالبہ کرے گی، اگر ہماری آئینی ترامیم کی مخالفت کی جائے گی تو ایم کیو ایم بھی اٹھارویں ترمیم کی مخالفت کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ آخر کب تک ہمارے بچے گٹر میں گر کے، شاپنگ سینٹرز میں جل کے اور ڈمپروں کے نیچے کچل کر مرتے رہیں گے۔
وفاقی وزیر نے حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، نواب شاہ اور کراچی کے حلقہ بندیوں کے نظام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے مہاجر ووٹ اور شہری نمائندگی کو نہ صرف محدود کیا گیا بلکہ ہمارے ووٹوں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اب ایم کیو ایم ہر قومیت کی آواز بن چکی ہے، ہر ڈسٹرکٹ میں ایم کیو ایم کا پرچم بلند ہوچکا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہری پانی، بجلی، گیس، روزگار اور تعلیم سمیت متعدد مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، تین کروڑ کی آبادی میں ہر گھر کی شکایت ہے اور حکمران شہریوں کے مسائل پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے اعلان کیا کہ لیاقت آباد سے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جا رہا ہے اور ہر ٹاؤن میں اجتماعات منعقد کیے جائیں گے، جس کے بعد پورے کراچی کا بڑا عوامی احتجاجی جلسہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کا جھنڈا پورے سندھ اور پاکستان میں بلند ہوگا اور حق پرست شہریوں کی آواز ہر جگہ پہنچے گی۔
رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کراچی سے زیادہ سندھ کے غریب ہاریوں پر ظلم ڈھایا ہے، ایم کے ایم پاکستان کراچی سے سندھ کے غریب اور مظلوموں کی جنگ لڑ رہی ہے، سندھ کے شہری پیپلز پارٹی کی طرف سے پھیلائی گئی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔