’’خط لکھیں گے گرچہ‘‘ ایک جائزہ

خطوط کیا لکھے ہیں اپنا دل نکال کر رکھ دیا ہے


نسیم انجم February 15, 2026

نجمہ عثمان صاحبہ کا نام علم و ادب، شعر و سخن کے حوالے سے معتبر اور ممتاز ہے، اب تک وہ 7 کتابیں لکھ چکی ہیں، دوکتابیں تراجم کی بھی ہیں، افسانوں کے مجموعوں کی تعداد 3 ہے اور شعری مجموعے چار ہیں۔

ان کی شاعری اور افسانوں کا اگر موازنہ کریں تو کسی ایک کو دوسرے پر فوقیت دینا ناممکن ہے، ان کی شاعری بھی ندرت بیان اور سطوت الفاظ کا مرقع ہے اور افسانہ نگاری بھی قابل ذکر ہے، لکھنا پڑھنا ان کا اوڑھنا بچھونا ہے کبھی دل پر لکھتی ہیں توکبھی قرطاس پر، تخلیق کے بیل بوٹے بناتی ہیں اور پھر شب و روز کی محنت رنگ لے آتی ہے۔

آج ان کی دوکتابوں کی تقریب رونمائی ہے، ایک کا عنوان ہے ’’ خط لکھیں گے گرچہ‘‘ اور دوسرا افسانوں کا مجموعہ ’’ پیڑ سے بچھڑی شاخ‘‘ کا انگریزی ترجمہ whispers of Broken Branch میں انھیں آج کی خوبصورت محفل میں دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں۔

میرا مضمون ’’خط لکھیں گے گرچہ‘‘ کے حوالے سے ہے۔ ایک ہی نشست میں، میں نے پوری کتاب پڑھ ڈالی۔ کتاب 78 صفحات اور 8 خطوط کا احاطہ کرتی ہے۔

خطوط کیا لکھے ہیں اپنا دل نکال کر رکھ دیا ہے، ایک بڑے صدمے سے گزری ہیں، پچاس سالہ رفاقت کے بعد اپنے محبوب شوہر سے ہمیشہ کے لیے بچھڑی ہیں، ان کے ساتھ بیتے ہوئے دن، شام و سحر اور پرکیف لمحات نہ کہ مصنفہ کو یاد آتے ہیں بلکہ تڑپاتے بھی ہیں۔

وہ خیال و خواب میں محو گفتگو رہتی ہیں، انھوں نے خود کلامی کے انداز میں یادوں کے جزیروں اور محبت کی چھاؤں کو محسوس کرتے ہوئے قلم سنبھالا اور پھر اس کا حق ادا کردیا ہے وہ خود ہی سوال کرتی ہیں اور خود ہی جواب دے کر حقائق کو سامنے لاتی ہیں۔ جب لکھنے بیٹھیں تو لکھتی ہی چلی گئیں، یادوں کے چراغ روشن ہوتے گئے اور قلم کاری کا سلسلہ جاری رہا۔

اس طرح بیتی ہوئی زندگی سامنے آگئی ہے۔ اردو میں خطوط نگاری کی روایت غالب سے شروع ہوتی ہے اور ابوالکلام آزاد سے ہوتی ہوئی اپنے سفر پرگامزن رہتی ہے۔ ابوالکلام آزاد کے خطوط کا مجموعہ ’’ غبار خاطر‘‘ اردو ادب کا شاہکار مانا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ فیض احمد فیض نے بھی خطوط لکھے ’’ صلیبیں میرے دریچے میں‘‘ اور بھی کئی مصنفین کی خطوط کے حوالے سے کارکردگی سامنے آتی ہے، صفیہ اختر کے خطوط ’’ زیر لب‘‘ پریم چند کے خطوط اس صنف میں اثاثے کی مانند ہیں۔

نجمہ عثمان نے مذکورہ کتاب لکھ کر خطوط کی روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ کتاب میں 78 صفحات اور 9 خطوط پر مشتمل مصنفہ کی یادوں کا ذخیرہ موجود ہے۔

ان خطوط کی خوبی اور تاثیر یہ ہے کہ پڑھنے والا بھی نجمہ کے دکھوں میں شریک ہو جاتا ہے، وہ خود تو اپنے محبوب شوہرکی یاد میں بظاہر آنسوؤں سے رو چکی ہیں لیکن دل ان کی جدائی برداشت نہیں کر پا رہا ہے، لہٰذا بین کرتا ہے، بے قرار ہوکرگریہ و زاری کرتا ہے۔

کتاب کے قاری کی اب رونے دھونے کی باری ہے، وہ پڑھتا جاتا ہے اور آنسوؤں کی نمی اس کی آنکھوں میں جگہ بنا لیتی ہے اورکبھی یہ نمی موتیوں کی شکل میں رخساروں پر ڈھلک جاتی ہے۔

نجمہ عثمان نے کس طرح منظرکشی کی ہوگی اور انھوں نے اپنے غم اور درد انگیز کیفیت پرکیسے قابو پایا ہوگا، یہ ان کا ہی دل جانتا ہے، بار بار بکھری ہوں گی اور ٹوٹی ہوں گی۔

غم جاناں کو چھپانا اور اپنے محبوب شوہر کی جدائی نے انھیں شکستہ کردیا ہے لیکن وہ باہمت ہیں، حوصلہ مند ہیں اور کام کرنے کا جذبہ موجود ہے، انھیں اس مقام پر پہنچانے کے لیے سب سے بڑی طاقت عثمان صاحب کی ہے۔

ان کی حوصلہ افزائی اور وصیت تھی کہ وہ قلم سے رشتہ ہرگز نہ توڑیں، سو ان کی ہی فرمائش پر انھوں نے حج کا سفرنامہ ’’ کتاب دل‘‘ لکھا، اس کی تقریب سپاس بھی یادگار تھی اور آج کی تقریب بھی ان کی دل کش یادوں میں ڈھل جائے گی۔

چونکہ حال کو ماضی میں بدلنا ہوتا ہے اورکبھی ماضی کی خوشگوار یادیں، سہانے موسم، ہم سفر کا ساتھ، اس کی محبت، توجہ اور التفات کی کیفیت، جینے اور خوش رہنے کی راہیں ہموارکرتی ہے ، لیکن ایک خلا، اداسی اور روح کی تنہائی جسم و جاں کو اندر ہی اندرکھوکھلا کرنے کی سازش میں مصروف عمل رہتی ہے، لیکن باہمت لوگ اپنے طرز زندگی کی منصوبہ بندی اس انداز سے کرتے ہیں کہ دل میں چھپے غموں کو منظر عام پر لا کر اپنی تنہائی اور اذیت کو شکست فاش دے دیتے ہیں۔

نجمہ عثمان کا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے انھوں نے ’’ خط لکھیں گے گرچہ‘‘ کے عنوان سے جو کتاب لکھی ہے، اس کے ذریعے اپنے دکھوں اور غموں کو آشکار کر کے صبرکا وزنی پتھر دل پر اور شکر کی ردا سے اپنے آپ کو ڈھانپ لیا ہے۔

یہ دونوں دوا اور مرہم کی مانند ہیں،کسی کو حال دل سنا کر اور بدلے میں تسلی اور تشفی کے بول سن کر ایک سکون سا میسر آ جاتا ہے۔ مصنفہ کو بھی یہ نعمت حاصل ہے کہ زندگی کے ہر موڑ اور ہر قدم پر انھیں اپنے جیون ساتھی کا تعاون اور اپنائیت حاصل رہی، یہ ان کی خوش قسمتی ہی تھی کہ ان کے شوہر نے اپنی پیاری بیوی پر محبت کے خزانے لٹا دیے۔

بھرپور اعتماد اور جینے کے ڈھنگ سے بھی آشنا کر گئے، ان سے بچھڑنے کے بعد پہلی رات قیامت خیز تھی، کس طرح انھوں نے درد کی شدت کو محسوس کیا، کس طرح وہ رات گزری، انھوں نے اپنے دکھ کا تذکرہ جس طرح کیا ہے اس احساس کو وہی سمجھ سکتی ہیں یا پھر قاری، جس نے توجہ سے پڑھا اور پھر نجمہ عثمان کیساتھ انتقال سے تدفین تک اور تدفین کے بعد زندگی کے معمولات سے آگاہ اور غم سے نڈھال ہوا، وہ اپنے شوہر کو اس طرح یاد کرتی ہیں۔

ؑؑتم کو لکھنے بیٹھوں تو میں خود سے بچھڑی جاتی ہوں

کھیل کھلونوں کے ٹھیلے میں، تم بھی میرے ساتھ رہے

جو ہر اداس شام میں، مرے بہت قریب تھا

خوشی خوشی بچھڑ گیا، وہ شخص بھی عجیب تھا

میں نے ابتدائی صفحات میں جس ترجمہ شدہ کتاب کا ذکر کیا تھا، ’’پیڑ سے بچھڑی شاخ‘‘ اور اس بات سے بھی آگاہ کیا تھا کہ اس کتاب کا انگریزی میں ترجمہ ہو چکا ہے ’’پیڑ سے بچھڑی شاخ‘‘ میں شامل نجمہ عثمان کے مضمون سے ایک اقتباس۔

’’ میری کہانیوں کا پہلا مجموعہ ’پیڑ سے بچھڑی شاخ‘ آپ کی نذر ہے۔ ان کہانیوں میں کہیں نہ کہیں آپ کو اپنی زندگی کی جھلک ضرور نظر آئے گی،کیونکہ یہ رشتوں کے افسانے ہیں۔ رشتوں کے اس پیڑ کی ہر شاخ پر نسبتوں کے ہرے بھرے رنگ ہیں۔

محبت کے پھول ہیں، سچائیوں کی مہک ہے، پھر خزاں آلود موسموں کا پیلا پن ہے، پیڑ سے بچھڑی شاخ کے ہر زرد آلود پتے کی تنہائی اور اپنوں سے جدا ہونے کا کرب ہے۔ ہند و پاک کے دانشوروں اور نقادوں کا خیال ہے کہ بیرون ملک میں لکھی جانے والی کہانیاں اپنے اندر وہ مشاہدہ اور وسعت نہیں رکھتیں جو ہند و پاک کے لکھنے والوں کے یہاں ملتا ہے۔

میں ان کی رائے سے اتفاق نہیں کرتی۔ہجرت کا کرب، بے زمینی، دو تہذیبوں کا ٹکراؤ، نئی نسل کی رسہ کشی، تعصب کی فضا۔ کیا یہ سب ذہن کو وسعت عطا نہیں کرتے؟

تارکین وطن کے جو سماجی اور معاشرتی مسائل ہیں، وہ ان لوگوں سے قدرے مختلف اور پیچیدہ ہیں جو اپنے وطن کی سرزمین میں سانس لے رہے ہیں۔

یہی نہیں ہجرت کرنے والی پرانی نسل کا ایک اور المیہ یہ ہے کہ اپنی مٹی سے بچھڑنے کا کرب، دکھ یا احساس ندامت جہاں اس کو دن رات کچوکے لگاتا ہے، وہیں اس کے سامنے اس کی اپنی نئی نسل اب ایک سوال بن کر کھڑی ہے۔

(تقریب رونمائی کے موقع پر پڑھا گیا مضمون)

مقبول خبریں