6 فروری کو اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے نے پوری پاکستانی قوم کو غمگین کردیا ہے۔ اس بزدلانہ حملے میں شہید ہونے والوں کے درجات کی بلندی اور ان کے لواحقین کے صبر کے لیے سب ہی دعا گو ہیں۔
مساجد اور امام بارگاہیں چند برس سے دہشت گردی سے محفوظ تھیں مگر لگتا ہے اب پھر دشمن نے اس کی ابتدا کردی ہے۔ اسلام آباد میں دہشت گردیکے لیے جس وقت کا انتخاب کیا گیا وہ بڑا معنی خیز ہے۔
یہ دہشت گردی ایسے وقت میں کی گئی جب وسطی ایشیائی ممالک قازقستان اور ازبکستان کے صدور پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے تھے۔ قازقستان کے صدر قاسم جومارت نے چار سے پانچ فروری تک پاکستان کا دورہ کیا۔
ان کے دورے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے علاوہ کئی اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے معاہدے کیے گئے۔ ان کی روانگی کے بعد ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف پاکستان کے دورے پر تشریف لائے۔
وہ 5 سے 6 فروری تک اسلام آباد میں اپنے وفد کے ہمراہ مقیم رہے، ان کا دورہ بہت اہم تھا۔ اس دورے میں دونوں ممالک کے درمیان 28 مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے سلسلے میں معاہدے ہوئے۔ بدقسمتی سے 6 فروری کو ہی سانحہ اسلام آباد ہوا۔
یہ خودکش دھماکا اتنا شدید تھا کہ 35 نمازی شہید ہو گئے اور ایک سو سے زیادہ نمازی زخمی ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ دھماکے میں بڑی تعداد میں نٹ بولٹ استعمال کیے گئے تھے جو زیادہ سے زیادہ ہلاکتوں کا سبب بنے۔
ہماری خفیہ ایجنسیوں نے اس دھماکے کے سہولت کاروں کا پتا لگا لیا ہے، تمام مجرم پولیس کی تحویل میں ہیں۔ خودکش بمبار کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ پشاور کا رہائشی ہے۔ وہ داعش سے متاثر تھا اور کئی مرتبہ افغانستان کا دورہ کرچکا تھا۔
ظاہر ہے وہاں اس کی ذہن سازی اور تربیت کی گئی ہوگی اور وہیں خودکش دھماکے کی منصوبہ بندی بھی ہوئی ہوگی، اس دھماکے کی داعش نے ذمے داری قبول کر لی ہے مگر یہ دھماکا ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اس وقت ازبک صدر اسلام آباد میں موجود تھے.
اور پھر دو روز قبل ہی افغانستان کی سرحد پار کرکے سیکڑوں دہشت گرد پاکستان میں داخل ہوئے تھے اور بلوچستان کے کئی شہروں میں دہشت گردی کا بازارگرم کردیا تھا مگر وہ تمام کے تمام ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں کی گولیوں کا نشانہ بن کر جہنم رسید ہوگئے۔
اس حملے کی بظاہر ذمے داری بی ایل اے نے قبول کی ہے مگر درپردہ یہ بھارتی اور افغانستان کی سازش تھی۔ دشمن کی جانب سے یہ صرف بلوچستان پر نہیں بلکہ پورے پاکستان پر حملہ تھا مگر دشمن کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
چنانچہ لگتا ہے اس بڑے حملے کی ناکامی کے بعد وہ تلملا گیا ہوگا کہ لاکھوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد بھی اسے بدنامی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو سکا۔ چنانچہ اس نے اپنی تسلی کے لیے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کو نشانہ بنانے کا پروگرام بنایا ہوگا۔
ماضی میں بھی دیکھا گیا ہے کہ مقدس مقامات پر دشمن دہشت گردانہ حملوں میں کامیاب ہی رہا ہے۔ وہ اس دہشت گردانہ حملے میں کامیاب تو رہا مگر پوری دنیا کی جانب سے اس حملے اور بلوچستان کے کئی شہروں میں دہشت گردی کرنے پر اس پر تنقید اور لعنت ملامت کی جا رہی ہے اور اب پوری دنیا جاننے لگی ہے کہ پاکستان کا دشمن بھارت اور افغانستان کے سوا کوئی اور نہیں ہے۔
طالبان کا بھارت کے ساتھ موجودہ گٹھ جوڑ ایک اہم سوال ہے ۔ افغان طالبان امریکی حمایت یافتہ افغانستان کی حکومت کے صدر حامد کرزئی اور اشرف غنی جیسے بھارت نواز حکمرانوں سے برسر پیکار تھے اور بھارت ان دونوں کی پشت پناہی کرتا رہا تھا۔
صرف پاکستان کے تعاون سے انھیں افغانستان میں اقتدار حاصل ہوا تھا مگر آج وہ پاکستان سے دور ہوگئے ہیں اور بھارت کی گود میں جا بیٹھے ہیں۔
ان کا بھارت سے رشتہ قائم ہونا اور پاکستان کے احسانوں کو بھلا دینا اس کہاوت کو تقویت بخشتا ہے کہ افغانوں سے وفا کی امید رکھنا عبث ہے۔
اس وقت بھارت صرف پاکستان دشمنی میں طالبان کے قریب ہوگیا ہے، وہ پاکستان میں پھر سے دہشت گردی کو بڑھانے کے لیے افغانستان میں پوری تیاری کے ساتھ سرگرم ہو گیا ہے۔
بھارت نے طالبان سے کیوں رشتہ جوڑا، اس کی وجہ صاف ہے کہ وہ گزشتہ سال مئی کے مہینے میں پاکستان پر حملہ کر کے منہ کی کھا چکا ہے، وہ پاکستان پر حملوں میں اپنے آٹھ قیمتی طیارے جن میں رفال بھی شامل تھے گنوا چکا ہے۔
لگتا ہے اس نے پاکستان سے اس حزیمت خیز شکست کے بعد ہی اپنی پاکستان مخالف پالیسی میں تبدیلی کی ہے اور اب وہ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ پاکستان سے جنگ کرنا بھارت کی سلامتی کے لیے خطرناک ہے، چنانچہ پاکستان پر براہ راست حملہ کرنے کے بجائے افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیا جائے۔
تاکہ دباؤ بڑھایا جاسکے۔ جب سے امن کے دشمن نریندر مودی نے اقتدار سنبھالا ہے، وہ پاکستان پر مسلسل فضائی حملے کرا رہا ہے، اس سے اسے ضرور سیاسی فائدہ ہو رہا ہے مگر اس کے اس جنگی کھیل سے بھارت کا نقصان ہو رہا ہے۔
ایک مشہور بھارتی سیاستدان اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے ایک بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس میں اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ مودی کی پاکستان کے ساتھ مسلسل دشمنی سے بھارت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی پاکستان کے معاملے میں ناکام ہوگئی ہے۔
پاکستان سے مسلسل دشمنی سے جنوبی ایشیا میں امن خطرے میں پڑگیا ہے، البتہ مودی پاکستان دشمنی کو اپنے مفاد میں استعمال کر رہا ہے۔
انھوں نے مزید لکھا ہے کہ بھارت کو پاکستان سے بات چیت شروع کرنا چاہیے اور خاص طور پر دونوں ممالک کے درمیان جو اصل مسائل ہیں، ان کو حل کرنے کی مخلصانہ کوششیں کی جائیں پھر پاکستان سے مذاکرات کرنا کوئی شکست نہیں ہے۔
مودی کی پاکستان مخالف پالیسی پر دیگر بھارتی تجزیہ کار اور دانشور بھی تنقید کرتے رہے ہیں مگر مودی دراصل آر ایس ایس کے پاکستان مخالف ایجنڈے کو مکمل کرنے میں مصروف ہے وہ پاکستان کو نقصان پہنچانے اور اس کے تشخص کو خراب کرنے کے لیے ہر وہ حربہ استعمال کر رہا ہے جو وہ کر سکتا ہے۔
اس کی فوجی تیاریوں کو دیکھیے تو اس کا ہدف بھی صرف پاکستان ہی ہے چین تو ہو ہی نہیں سکتا، اس لیے کہ چین تو پہلے ہی اس کے کئی علاقوں پر قابض ہے اور بھارتی حزب اختلاف کی جماعتوں کی لاکھ تنقید کے باوجود بھی وہ ابھی تک لداخ کے علاقے چینی فوج سے خالی نہیں کرا سکا ہے۔
بہرحال اس وقت بھارت افغانستان میں پیر جما کر بہت خوش ہے کیوں کہ اسے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کرنے کا کھلا راستہ طالبان نے فراہم کر دیا ہے۔ کاش ! کہ طالبان کچھ غورکریں کہ یہی بھارت ایک سال قبل ان کا جانی دشمن تھا، اب صرف پاکستان دشمنی میں ان کا دوست بن گیا ہے۔
ایک تو طالبان پہلے سے ہی دنیا بھر میں دہشت گرد کیطور پر بدنام ہیں اور اب بھارت کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کرنے کے موقع فراہم کرکے اپنی شبیہ کو مزید داغدار بنا رہے ہیں۔
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان بہت جلد بھارت کی کارستانیوں سے بے زار ہو کر انھیں اپنے ملک سے کھدیڑ دیں گے اور پھر وہ پاکستان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانے پر مجبور ہوں گے.
مگر کچھ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسی صورت حال میں پاکستان ہرگز انھیں اپنے گلے نہیں لگائے گا کیونکہ پاکستانی عوام اس کی اجازت نہیں دیں گے کہ وطن عزیز طالبان کی حمایت کی وجہ سے پہلے ہی بہت بدنام ہو چکا ہے اور بھاری جانی و مالی نقصان اٹھا چکا ہے۔