بھارت اور امریکا کے درمیان شدید تناؤ ، سخت بیانات اور بھاری محصولات کے بعد آخر کار ایک تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق یہ معاہدہ اچانک نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے مہینوں کی خاموش سفارتکاری، پردے کے پیچھے پیغامات اور اسٹریٹیجک صبر کارفرما تھا۔ مودی کی گزشتہ ستمبر میں چین میں روسی صدر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے فوراً بعد قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کو واشنگٹن میں بھیجا گیا تاکہ امریکا سے بگڑتے تعلقات کو سنبھالا جا سکے۔
اجیت دوول نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات میں واضح پیغام دیا کہ بھارت ، امریکا کے ساتھ تلخی ختم کر کے دوبارہ تجارتی معاہدے پر بات چیت چاہتا ہے۔ دونوں کی اس خفیہ ملاقات کے کچھ ہی عرصہ بعد تعلقات میں نرمی کے آثار نظر آنے لگے۔
گذشتہ سال 16 ستمبر کو صدر ٹرمپ نے مودی کو ان کی سالگرہ پر فون کیا اور ان کی تعریف کی۔ گذشتہ سال کے اختتام تک دونوں رہنماؤں کے درمیان مزید چار ٹیلی فونک رابطے ہوئے۔ جس کے دوران محصولات کم کرنے کے معاہدے کی طرف پیش رفت ہوئی۔ بھارتی وزارت خارجہ نے باضابطہ بریفنگ میں ملاقات کی تردید کی جب کہ امریکی وزارت خارجہ نے کہا کہ سفارتی روایت کے مطابق نجی ملاقاتوں کی تفصیل ظاہر نہیں کی جاتی ۔ بالآخر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ کی اچانک بھارت نواز حکمت عملی ، بیک ڈور امریکا بھارت طویل مذاکرات ، اسرائیل کی حمایت اور مشرق وسطی کے مستقبل کا جغرافیہ۔ نایاب معدنیات پر واشنگٹن میں کانفرنس۔ بھارت بھی وہاں موجود لیکن پاکستان کی عدم شرکت۔ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے کئی ماہ تک بھارت سے کشیدہ تعلقات ، امریکی ٹیرف کی بھارتی مصنوعات پر بھاری شرح اور پاکستان کی جانب واضح جھکاؤ اور تعریفی بیانات کے بعد اچانک بھارت کو رعایت ۔ ٹیرف 18 فیصد ، اس کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر اعظم کو گریٹ مین قرار دینے کا صدر ٹرمپ کا رویہ محض بیانات تک محدود نہیں ۔
بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ اور امریکی وزیر مالیات سمیت متعدد امریکی اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتوں اور مذاکرات میں مصروف رہے اور نایاب معدنیات کے بارے میں کانفرنس میں بھی شریک ہوئے۔ بعض با خبر امریکی حلقوں کے مطابق بھارت اور امریکا کے درمیان مشرق وسطی، جنوبی ایشیاء اور مشرق بعید کی صورت حال کے تناظر میں خاموش اور بیک ڈور مذاکرات میں ’’کافی‘‘ کچھ انڈر اسٹینڈنگ طے پانے کے بعد بھارت کے لیے ٹیرف میں مثالی کمی اور بھارت کے بارے میں مثبت رویہ کی راہ اپنائی گئی ہے۔ اس سلسلے میں بھارت کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا بھی شکر گزار ہونا چاہیے کیونکہ ’’ایران اور مشرق وسطی کی صورتحال سے اسرائیلی انداز میں نمٹنے کے لیے اسرائیل کو بھارت کے تعاون کی بھی ضرورت ہے‘‘۔
پہل گام حملے کا بینفشری کون؟ جو سوال میںنے گذشتہ سال کے شروع میں اٹھایا تھا، آج تک اس کا جواب نہ مل سکا۔ یاد رہے کہ پہل گام حملے کے نتیجے میں ہی بھارت ، پاکستان جنگ ہوئی۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکا ، بھارت کو اپنے ڈھب پر لے آیا ہے۔
امریکا نے مشرق وسطی میں ایران کے خلاف ایک فیصلہ کن معرکہ سر کرنا ہے۔ جس میں خدانخواستہ کامیابی کے بعد پوری دنیا امریکا کے سامنے سجدہ ریز ہو جائے گی۔ یاد رہے کہ داعش کو جن ملکوں نے مل کر بنایا ، ان میں امریکا ، برطانیہ ، جرمنی اور فرانس بھی شامل ہیں۔ کیا کسی نے اس حقیقت پر غور کیا کہ افغان طالبان ہوں ، ٹی ٹی پی ہو، داعش خراسان ہو، القاعدہ ہو یا بی ایل اے ہو، انھوں نے اسرائیل کے خلاف جہاد کرنے کے بجائے ہمیشہ افغانستان اور پاکستان کے مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے اور اب بھی کر رہے ہیں۔ جب کہ ان کے سامنے فلسطینیوں کی نسل کشی ہو رہی ہے، انھوں نے غزہ میں حماس کا کبھی ساتھ نہیں دیا ہے۔ یہ ہے ان کا فہم اسلام۔
اس حوالے سے فروری ، مارچ، اپریل ، مئی انتہائی اہم اور احتیاط طلب مہینے ہیں۔ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ جس کا آغاز 15 فروری کے بعد اور 20 فروری سے بھی ہو سکتا ہے۔