اسلام آباد:
اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی کی سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کرنے کی درخواست پر اعتراض عائد کردیے اور کہا ہے کہ جب مرکزی اپیل پر اعتراض موجود ہے تو سزا معطلی کی درخواست کیسے لگائی جا سکتی ہے؟
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کرنے کی درخواست پر اعتراض عائد کر دیا۔ بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ ٹو کیس اپیل پر بروقت رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور نہ کرنے کا اعتراض عائد کیا گیا ہے۔
اعتراض لگایا گیا ہے کہ درخوست گزار نے توشہ خانہ ٹو کیس کی مرکزی اپیل پر بروقت اعتراضات دور نہیں کیے، اپیل پر رجسٹرار کے اعتراضات سات دن میں دور کرنے تھے۔
رجسٹرار آفس کا اعتراض ہے کہ بروقت اعتراضات دور نہ کرنے کا وقت گزر گیا ہے، اپیل پر اعتراض موجود ہے تو سزا معطلی کی درخواست کیسے لگائی جا سکتی ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی بلغاری سیٹ والے توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی اپنی دائیں آنکھ کی ایک سنگین بیماری میں مبتلا ہیں۔
پمز کے ڈاکٹر محمد عارف نے آنکھ کی بیماری کی تشخیص کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کی دائیں آنکھ خون کے لوتھڑے کے باعث شدید ہوئی جس کے دائیں آنکھ کی بینائی صرف پندرہ فیصد رہ گئی ہے اس بیماری کا علاج جیل کے اندر ممکن نہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی عمر تہتر سال ہے انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔