پاکستان کی سولر انقلاب کو توانائی کی شعبے کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جاتا ہے، مگر مالی طور پر مستحکم طبقے کی چھتوں پر چمکتے سولر پینلز کے پس پشت ایک تلخ حقیقت پوشیدہ ہے۔ ایک فیصد سے بھی کم بجلی کے صارفین 99 فیصد صارفین پر مالی بوجھ ڈال رہے ہیں۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی حالیہ عوامی سماعت میں پیش کیے گئے اعداد و شمار چونکا دینے والے تھے۔ دسمبر 2024 تک تقریباً 4 لاکھ نیٹ میٹرنگ کے حامل صارفین 38.5 ملین ایسے گرڈ صارفین پر 270 ارب روپے کا بوجھ منتقل کرچکے تھے جو اپنی چھتوں پر سولر لگانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اگر پالیسی مداخلت نہ کی جاتی تو یہ رجعت پسند لاگت منتقلی 2034 تک مجموعی طور پر 4.6 کھرب روپے تک پہنچ جاتی۔
اعداد و شمار واضح ہیں۔ پیداوار، ترسیل کے بنیادی ڈھانچے اور نظام کی دیکھ بھال سے متعلق 73 فیصد مقررہ اخراجات وہ صارفین برداشت کررہے تھے جو مکمل طور پر گرڈ پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ اخراجات بجلی کی ترسیل سے قطع نظر برقرار رہتے ہیں۔
جو گھرانے بڑے پیمانے پر سولر سسٹم نصب کرتے ہیں تو وہ گرڈ سے اپنی کھپت کم کردیتے ہیں لیکن شام کے اوقات میں وہ بجلی کے حصول کے لیے اسی نیٹ ورک پر انحصار کرتے ہیں۔ جو مقررہ اخراجات وہ ادا نہیں کرتے، وہ بدستور ادا کیے جانے ضروری ہوتے ہیں اور جنھیں باقی صارفین پر زیادہ ٹیرف کی صورت میں منتقل کردیا جاتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ 2026 میں غیر سولر صارفین پر فی یونٹ اضافی 2.87روپے کا بوجھ پڑرہا ہے، جو 2034 تک بڑھ کر 5.36 روپے فی یونٹ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
ایک نچلے متوسط طبقے کے خاندان کے لیے جو ماہانہ 300 یونٹ بجلی استعمال کرتا ہے، نیٹ میٹرنگ کے باعث اضافی بوجھ اس وقت تقریباً 860 روپے ماہانہ بنتا ہے، جو اگلے دس برسوں میں بڑھ کر 1,608 روپے ماہانہ تک جا پہنچے گا۔ یہ خاندان جو پہلے ہی مہنگائی کا شکار اور محدود آمدن پر انحصار کرتے ہیں، درحقیقت ان ہمسایوں کے بجلی بلوں کو سبسڈی دے رہے ہیں جو 15 سے 20 لاکھ روپے سرمایہ لگا کر شمسی بجلی کا نظام نصب کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔
پالیسی کا اصل سوال یہ نہیں کہ قابلِ تجدید توانائی کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس کی توسیع ان لوگوں کی قیمت پر ہونی چاہیے جو پہلے ہی معاشی طور پر کمزور ہیں؟
تکنیکی چیلنجز اس معاشی عدم توازن کو مزید پیچیدہ بنادیتے ہیں۔ فروری کی سماعت میں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے بے قابو سولر پھیلاؤ کے نتیجے میں گرڈ کے استحکام سے متعلق سنگین خدشات ظاہر کیے۔ بڑے شہروں میں ’’ڈک کَرو‘‘ کا رحجان نمایاں ہوچکا ہے، جہاں دن کے وقت سولر پیداوار طلب میں واضح کمی پیدا کرتی ہے جبکہ شام کے وقت اچانک تیزرفتار اضافہ ہوتا ہے جب سولر پیداوار رک جاتی ہے اور گھروں میں بیک وقت لائٹس، ایئر کنڈیشنرز اور دیگر آلات چلائے جاتے ہیں۔ اس صورت حال میں روایتی پاور پلانٹس کو دوپہر کے وقت جزوی لوڈ پر چلانا پڑتا ہے جس سے فی یونٹ ایندھن لاگت بڑھ جاتی ہے اور پھر غروبِ آفتاب کے وقت تیزی سے پیداوار بڑھانا پڑتی ہے جس سے پیداوار اور ترسیلی نظام پر دباؤ پڑتا ہے۔
کے الیکٹرک نے وولٹیج بیک فیڈ کے مسائل کی نشاندہی کی جو خود سولر صارفین کو بھی متاثر کررہے ہیں جبکہ جیپکو نے سرکاری تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے خبردار کیا کہ غیر منظم قابلِ تجدید توانائی کا انضمام نظام کو غیر مستحکم کر سکتا ہے اور بلیک آؤٹ کے خطرات بڑھا سکتا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کے اثرات بھی کم تشویشناک نہیں۔
متعدد تقسیم کار کمپنیوں نے بتایا ہے کہ خوشحال علاقوں میں ٹرانسفارمرز پر لوڈ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، بعض ٹرانسفارمرز اوور وولٹیج اور تیز رفتار خرابی کا شکار ہو رہے ہیں۔ پاور فیکٹر میں کمی آئی ہے، ری ایکٹو پاور سپورٹ ناکافی ہوگئی ہے اور یہ ریگولیٹری شرط کہ پروزیومر کی صلاحیت ٹرانسفارمر ریٹنگ کے 80 فیصد سے زیادہ نہ ہو، معمول کے مطابق نظر انداز کی جا رہی ہے۔ کئی پروزیومر اپنی منظور شدہ حد سے کہیں زیادہ غیر مجاز صلاحیت پر کام کرتے پائے گئے، جس سے گرڈ پر دباؤ بڑھا مگر کوئی مؤثر کاروائی نہ ہوئی۔ یہ سب عوامل اس تقسیم کار نظام کی پیمائشی خرابی کی نشان دہی کرتے ہیں جو لاکھوں صارفین کو خدمات فراہم کررہا ہے۔
پروزیومر ریگولیشنز مجریہ 2026 مندرجہ بالا کمی کا براہِ راست تدارک کرتی ہیں۔ نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی طرف منتقلی کے ذریعے برآمد کی گئی بجلی کی قیمت اس کی حقیقی نظامی لاگت کے مطابق مقرر کی جائے گی، ناکہ مکمل ریٹیل ٹیرف کے مطابق جس میں کیپیسٹی چارجز اور ترسیلی اخراجات شامل ہوتے ہیں جن سے سولر پروزیومرز اپنی کھپت آف سیٹ کرتے وقت غیر منصفانہ فوائد حا صل کرتے ہیں۔ قومی اوسط توانائی کی قیمت خریدوہ رقم ظاہر کرتی ہے جو یوٹیلیٹیز دوپہر کے شمسی پیداوار کے عروج کے اوقات میں ادا کرتی ہیں، جو عموماً 10 سے 13 روپے فی کلو واٹ گھنٹہ ہوتی ہے جبکہ شام کے عروج کے وقت ریٹیل ٹیرف 42 سے 48 روپے فی یونٹ تک ہوتا ہے جب سولر پیداوار صفر ہوتی ہے۔
ناقدین اسے قابل تجدید توانائی کے خلاف سزا قرار دیتے ہیں، مگر یہ پالیسی کے مقصد کی غلط ترجمانی ہے۔ ریگولیٹر کے حالیہ فیصلوں کے تحت موجودہ معاہدے اپنی مدت تک برقرار رہیں گے۔ نئے پروزومرز بدستور سولر نصب کرسکیں گے، گرڈ سے منسلک ہوسکیں گے اور برآمد شدہ بجلی کی ادائیگی حاصل کرسکیں گے۔ جو تبدیلی آرہی ہے وہ ایک ایسی باہمی سبسڈی کے خاتمے کی ہے جو غیر پائیدار اور غیر منصفانہ تھی۔ یہ ضوابط صارفین کو اپنی ذاتی کھپت کے مطابق مناسب حجم کے شمسی نظام لگانے کی ترغیب دیتے ہیں، بجائے اس کے کہ محض زائد پیداوار مہنگے نرخوں پر فروخت کرنے کے لیے بڑے سسٹمز نصب کیے جائیں، دوسرے الفاظ میں یہ غیر منصفانہ منافع خوری یا کرایہ خوری کے رحجان کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔
پاکستان کی توانائی منتقلی کو پائیدار اور منصفانہ دونوں ہونا چاہیے۔ نئے پروزیومر ضوابط اسی توازن کو قائم کرنے کی کوشش ہیں جو قابلِ تجدید توانائی کی حوصلہ افزائی کو برقرار رکھتے ہوئے فوائد کو چند خوشحال افراد تک محدود ہونے اور اخراجات کو کمزور طبقات پر منتقل ہونے کا تدارک کرتے ہیں۔ یہ قابل تجدید توانائی سے پسپائی نہیں بلکہ ایک ضروری اصلاح ہے تاکہ توانائی کی منتقلی تمام پاکستانیوں کے مفاد میں ہو، ناکہ صرف مالی طور پر مستحکم طبقے کے لیے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔