عوام کے لیے یکساں اور بااختیار بلدیاتی نظام کیوں نہیں

تینوں بڑی پارٹیاں اپنی مرضی کا محکوم اور چھوٹی پارٹیاں ملک میں یکساں اور بااختیار بلدیاتی نظام چاہتی ہیں۔


محمد سعید آرائیں February 17, 2026
[email protected]

بلدیاتی نظام کی اہمیت اور الیکشن میں تاخیر کے حوالے سے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وفاق اور صوبوں میں یکساں بلدیاتی نظام کے لیے آئینی ڈھانچہ بنانا ہوگا اور اگر سنجیدہ حلقے عوام کا حکومت پر اعتماد بحال کرنا چاہتے ہیں تو ملک بھر میں یکساں بلدیاتی نظام لانا ہوگا، کیونکہ ہر سیاسی حکومت بلدیاتی انتخابات کروانے سے گھبراتی ہے۔ پنجاب کے مجوزہ بلدیاتی ایکٹ 2025 میں خواتین کی نشستیں کم کردی گئی ہیں، خواتین کو 33 فی صد نمایندگی دینے اور نوجوانوں کی بھی نشستیں بڑھائے جانے کی اشد ضرورت ہے۔

 ملک میں آج کل صوبوں کی تعداد بڑھانے، ملک میں آئین کے تحت مقامی حکومتوں کے قیام اور ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کو وفاقی کنٹرول میں دینے کے مطالبات ہو رہے ہیں۔ فریقین کا اپنا اپنا موقف ہے کہ آئین کے تحت ایسا ہو سکتا ہے جب کہ سندھ حکومت کا موقف ہے کہ آئین میں کسی شہرکو وفاقی کنٹرول میں دینے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔گزشتہ سال لاہورکے سابق سٹی ناظم نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی تجویز دی تھی کہ ملک کی آبادی پچیس کروڑ تک ہوگئی ہے اور ملک کے موجودہ چار صوبے ناکافی ہیں جس کی وجہ سے عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے پریشانی کا سامنا ہے اور انھیں طویل سفرکر کے اپنے اپنے صوبائی دارالحکومت جانا پڑتا ہے جہاں انھیں رش اور سرکاری کام زیادہ ہونے کی وجہ سے مطلوبہ دفاترکے چکر بھی کاٹنا پڑتے ہیں۔

دور دراز کے وہ رہنے والے جن کے کراچی، لاہور، پشاور اورکوئٹہ میں اپنے عزیز و اقارب نہیں انھیں وہاں ہوٹلوں میں بھی ٹھہرنا پڑتا ہے اور مہنگائی کے دور میں صوبائی دارالحکومت جانا آسان نہیں بہت مشکل ہوتا ہے جس سے ان کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں اور وقت بھی لگتا ہے۔ نئے صوبوں کا مطالبہ کرنے والے دیگر ممالک کی بھی مثال دیتے ہیں جہاں پاکستان سے آبادی کم ہونے کے باوجود صوبوں کی تعداد زیادہ ہے، اس لیے پاکستان میں بھی صوبوں کی تعداد بڑھائی جانی چاہیے تاکہ عوام کو سہولت ہو اور ان کی پریشانیاں کم ہو سکیں۔

نئے صوبوں کے قیام کی حمایت و مخالفت میں ملک بھر میں بیان بازی اور مطالبات ہو رہے ہیں اور پنجاب، سندھ اور کے پی کی حکومتیں نئے صوبوں کی مخالف ہیں کیونکہ کے پی میں ہزارہ صوبے، پنجاب میں جنوبی پنجاب صوبے اورکراچی میں شہری و دیہی آبادی کی بنیاد پر صوبے کے مطالبے ہو رہے ہیں اور اکثر بڑی سیاسی جماعتیں نئے صوبوں کے قیام کی مخالف ہیں۔ (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب صوبے کی زبانی حمایت کرتی رہی ہیں، پی ٹی آئی نے بھی اسی بہانے 2018 میں جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت کرکے ووٹ لیے تھے، مگر تینوں بڑی جماعتوں نے عملی طورکچھ نہیں کیا مگر مطالبے اب بھی جاری ہیں۔ جنرل ضیا الحق کی حکومت میں بھی ملک میں 16 صوبے یعنی ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کی باتیں شروع ہوئی تھیں اور وزیر اعظم بننے سے قبل بے نظیر بھٹو نے بھی سکھر میں ضلعی گورنروں کی بات کی تھی۔

جماعت اسلامی بھی ایک قومی جماعت ہے مگر عوام نے کبھی جماعت کو قومی و صوبائی اسمبلیوں میں کامیابی کے لیے ووٹ نہیں دیے مگر جماعت کو 2002 میں مجلس عمل میں شمولیت کے باعث صوبہ سرحد میں کچھ وزارتیں ملی تھیں اور وزیر اعلیٰ جے یو آئی کا تھا۔ جماعت اسلامی کو کراچی سے چند نشستیں ضرور ملیں اور ایم کیو ایم بننے سے قبل دو بار کراچی میں ان کا میئر رہا، بعد میں اس کا سٹی ناظم بھی منتخب ہوا مگر اب کراچی میں جماعت کے پاس سندھ اسمبلی کی ایک نشست اور نو ٹاؤنز کی سربراہی ملی ہوئی ہے مگر اس کے موجودہ امیر، پی پی حکومت کی چال کی وجہ سے میئر نہیں بن سکے تھے اور پی پی اپنا میئر پہلی بار لانے میں کامیاب رہی تھی۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن اور ایم کیو ایم ملک میں بااختیار مقامی حکومتوں کی حامی ہیں جب کہ پیپلز پارٹی ایسا نہیں چاہتی۔ ایم کیو ایم، (ن) لیگ کی حکومت میں اتحادی ہے اور کوشش کر رہی ہے کہ مجوزہ اٹھائیسویں ترمیم میں اس کا بااختیار مقامی حکومتوں کا مطالبہ منظورکرایا جائے جس کا وزیراعظم نے وعدہ بھی کیا ہے مگر تین بڑی پارٹیاں جن کی وفاق میں حکومتیں رہی ہیں ایسا نہیں چاہتیں کہ ملک میں یکساں اور بااختیار حکومتیں آئین کے ذریعے بنائی جا سکیں۔

تینوں بڑی پارٹیاں اپنی مرضی کا محکوم اور چھوٹی پارٹیاں ملک میں یکساں اور بااختیار بلدیاتی نظام چاہتی ہیں۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی جس میں تینوں بڑی پارٹیوں کی نمایندگی ہے نے بلدیاتی ترمیمی بل پھر موخرکردیا ہے اور وزیر اعظم اس سلسلے میں ایم کیو ایم کو مسلسل آسرے پر رکھ رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) جو کمزور بلدیاتی انتخابات بھی پنجاب اور اسلام آباد میں کرانے سے گریزاں ہے وہ ملک کو یکساں اور بااختیار مقامی حکومتوں کے قیام کا فیصلہ آئینی ترمیم کے ذریعے کبھی نہیں ہونے دے گی اور پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی بھی بااختیار اور ملک میں یکساں بلدیاتی نظام کی سخت مخالف ہیں اور ارکان اسمبلی بھی کبھی نہیں چاہیں گے کہ وہ ہر سال ملنے والے ترقیاتی فنڈز سے محروم ہو جائیں اور ان کی کمائی کا ذریعہ بنے ہوئے یہ فنڈ ان کی مرضی کی بجائے مقامی حکومتوں کے ذریعے خرچ ہوں یہ انھیں کبھی قبول نہیں ہوں گے۔

وفاق اور صوبوں میں یکساں بلدیاتی نظام کے لیے آئینی ڈھانچہ ارکان اسمبلی نے بنانا ہے جو وہ کبھی نہیں بنائیں گے اور ملک میں بااختیار اور یکساں بلدیاتی نظام چاہتے ہی نہیں اور صوبائی حکومتیں بھی اس کی مخالف ہیں اسی لیے وہ اپنی اسمبلی سے اکثریت کے باعث مرضی کا کمزور بے اختیار بلدیاتی نظام منظورکراتی ہیں۔ ہر صوبے میں وزیر اعلیٰ کے بعد وزیر بلدیات نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے وہ جب دورے پر جاتا ہے تو علاقہ سجایا جاتا ہے، خیر مقدمی بینرز لگتے ہیں اور اس کا وزیر اعلیٰ جیسا استقبال ہوتا ہے، جو دوسرے وزیروں کو میسر نہیں۔ عوام کا بنیادی مسائل کے حل کے لیے بڑا واسطہ بلدیاتی اداروں سے پڑتا ہے۔

ملک کو بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام جنرل پرویز نے دیا تھا اور باقاعدگی سے بلدیاتی الیکشن غیر سول حکومتوں میں ہوئے جو عوام کی بھی ضرورت تھے جب کہ سیاسی حکومتوں کا کوئی ایسا اچھا ریکارڈ ہے نہ ہوگا اور کمزور بلدیاتی سسٹم سیاسی حکومتیں کبھی مضبوط نہیں بنائیں گی۔

مقبول خبریں