’’ بڑا پیارا سوٹ پہنا ہوا ہے تم نے نسرین!‘‘ میں نے اس کے جوڑے کی تعریف کی، باقی باتیں جو ختم ہو گئی تھیں۔ اکثر آپ کو خواتین کی محفل میںکپڑوں اورجوتوں کی باتیں سننے کو ملتی ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ ان کے پاس اور کوئی موضوع نہیں ہوتا حالانکہ اس سے پہلے وہ تمام موضوعات جن پر انھیں عبور حاصل ہے، پر حسب توفیق گفتگو کر چکی ہوتی ہیں۔
’’ بہت بہت شکریہ، تمہیں واقعی پسند آیا یا ایسے ہی میرا دل رکھنے کو کہہ رہی ہو؟‘‘ اس نے حسب عادت سوال کیا۔
’’ نہیں واقعی بہت اچھا ہے۔‘‘
’’ میں نے فلاں برانڈ سے لیا تھا، سلمان تو کہہ رہے تھے کہ یہ اتنا اچھا نہیں ہے مگر مجھے پتا تھا کہ یہ سل کر اچھا لگے گا، مردوں کو کہاں کپڑوں کا پتا ہوتا ہے، ان کی ماننے لگو تو جانے کیسے اونترے اونترے سے کپڑے پہننے لگو گے۔ سارا کمال تو میرے درزی کا ہے، اس نے ہی سارے ششکے کر کے اس جوڑے کو اتنا کمال کا بنا دیا ہے۔ سلائی تو زیادہ لیتا ہے مگر کام اچھا کرتا ہے۔
سادہ سلائی کا جوڑا تین ہزار روپے میں سیتا ہے مگر میرا کوئی جوڑا عام ہوتا کہاں ہے سو وہ میرے جوڑے چھ سات ہزار سے کم میں نہیں سیتا۔ اوپر سے کمال دیکھو اپنی سہیلی کا کہ سر سے پاؤں تک میچنگ سے میں ہر جوڑے کی کافی ٹشن نکال لیتی ہوں، پرس تو خریدنا پڑتا ہے مگر جوتے تو میں اپنے جوڑوں کے میچنگ خود بنواتی ہوں، اسی لیے تو اتنا اچھی میچنگ ہوتی ہے۔ ( اس کے کہنے پر میں نے دیکھا تو واقعی جوتے اس کے قمیض کے کپڑے سے بنے ہوئے تھے۔ میاں کے پاس پیسہ ہو تو پھر بیویوں کے ایسے نخرے تو بنتے ہیں۔‘‘ اس نے شاید میرے سادہ سے جوڑے پر طنز کیا تھا، مجھے خود پر غصہ بھی آیا کہ یوں ماسیوں والے حلیے میں کامکار چھوڑ کر، مال آجانے کی کیا ضرورت ہوتی ہے۔
نسرین اور میں اس روز مال میں اتفاقاً ہی مل گئے تھے، ہم دونوں ہی اس وقت تنہا تھیں اور پندرہ بیس سال کے بعد کی ملاقات کو ہم یوں سرراہ کیسے سلام دعا کر کے ختم کر دیتے سو دونوں ایک کافی شاپ میں جا کر بیٹھیں اور کافی آرڈر کر دی۔ باقی تعارفی باتیں کھڑے کھڑے ہو گئی تھیں تو بیٹھ کر میں نے اس کے جوڑے کی تعریف کی تھی۔ ساری دنیا میں اتنے انقلابات آگئے تھے مگر نسرین کا سوائے عمر کے کچھ نہیں بدلا تھا۔ مجھے یاد آ گیا کہ نویں کلاس کے امتحانات ہو رہے تھے۔
اس نے ایک سوال کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا کہ میںنے اس کا کیا جواب لکھا تھا۔ میں نے بتایا تو اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا… ’’ کیا تم نے ارکان اسلام کا جواب صرف پانچ الفاظ میں لکھاہے؟‘‘’’ ہاں ، کلمہ، نماز ، روزہ، زکوۃ اور حج!!‘‘ میںنے اسے بتایا۔’’ اور تمہیں لگتا ہے کہ اس جواب پر تمہیں پورے نمبر مل جائیں گے؟‘‘ اس نے طنز سے کہا۔ ’’ اچھا اب بتاؤ کہ تم نے پاکستان کے موسموں والے سوال کا کیا جواب لکھا ہے؟‘‘ اسے یونہی عادت تھی کہ کمرہء امتحان سے باہر نکل کر کبھی کسی سے اور کبھی کسی سے ایسے سوال کرتی تھی اور انھیں طنز سے کہتی کہ وہ تو مشکل سے ہی پاس کر پائیں گے۔’’ میںنے لکھا کہ پاکستان میں چار موسم ہیں، موسم سرما، موسم گرما، موسم بہار اور موسم سرما۔‘‘ میں نے بتایا تو اس کی آنکھوں میں ہنس ہنس کر آنسو آگئے۔
’’ ایک تو جواب اتنا مختصر، اوپر سے ترتیب بھی غلط!‘‘ اس نے ہنسی کے درمیان کہا۔
’’ جتنا سوال تھا، اتنا ہی میں نے جواب لکھ دیاحسب ضرورت اور ترتیب سے لکھنے کو تو کہا بھی نہیں گیا تھا۔‘‘ ’’ تم بالکل بے وقوف ہو، حسب ضرورت تو یوں کہہ رہی ہو جیسے تم نے خرید خرید کر لکھنا تھا، بھئی مفت میں لکھنا ہوتا ہے تو حسب توفیق لکھا کرو، حسب خواہش لکھا کرو۔ زیادہ لکھنے سے امتحانی پرچہ چیک کرنے والا متاثر ہوتا ہے اور زیادہ نمبر دیتا ہے۔‘‘ اس کی منطق نرالی تھی میںبحث نہیں کرتی تھی اور جب نتیجہ آیا تو میرے زیادہ نمبر آنے کا سن کر تو اس نے رو رو کر دریا بہا ڈالے کہ میں نے جو پرچہ چار شیٹ پر حل کیا تھا اس نے دس شیٹ پر حل کیا تھا۔
(جاری ہے)