بنگلہ دیش اور مستقبل کے امکانات

حسینہ واجد کی جماعت کے ووٹرز نے بھی اپنا ووٹ عملی طور پر جماعت اسلامی یا دیگر جماعتوں کو دینے کی بجائے بی این پی کو ڈالا ہے


سلمان عابد February 17, 2026
[email protected]

بنگلہ دیش کے حالیہ انتخابات میں خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی جس کی سربراہی خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان کررہے تھے اس کی جماعت نے کل 297نشستوں میں سے 212نشستوں پر کامیابی کے بعد دو تہائی اکثریت حاصل کرلی ہے۔جب کہ اس کے مقابلے میں جماعت اسلامی اور اس کے اتحاد کو 77نشستوں پر کامیابی ملی جو بنگلہ دیش کی انتخابی تاریخ میں بڑا حصے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

عمومی طور پر بنگلہ دیش کے انتخابات میں حسینہ واجد اور خالدہ ضیا کی دو مضبوط سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوتی تھیں ۔لیکن ان انتخابات میں حسینہ واجد کی جماعت پر پابندی کے باعث انتخابی معرکہ بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان دیکھنے کو ملا اور دیگر جماعتوں نے ان ہی دو بڑی جماعتوں کے ساتھ مل کر اتحاد کی حکمت عملی اختیار کی۔حسینہ واجد جو اس وقت بھارت میں جلا وطن ہیں وہ بنیادی طور پر بنگلہ دیش کی سیاست میں اس مکافات عمل کا شکار ہوئی ہیں جو انھوں نے اپنے دور میں اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ایک بڑی فسطایت اور بدترین دشمنی بشمول جماعت اسلامی کے 80برس بزرگوں کی پھانسی جیسی سزائیں بھی شامل ہیں، کا مظاہرہ کیا تھا ۔

اسی بنیاد پر ان کے خلاف ملک گیر مہم چلی اور ان کو ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔خود حسینہ واجد نے اپنی سربراہی میں جو انتخابات کروائے تھے اس میںتمام سیاسی مخالفین کے راستے بند کردیے گئے تھے اور اب وہ خود اس کا شکار ہوئی ہیں ۔ایک تجزیہ یہ کیا جارہا ہے کہ ان انتخابات میں نئی نسل کی اپنی پارٹی کچھ نہیں کرسکی۔لیکن جو ووٹنگ ٹرن آوٹ ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ نئی نسل نے بڑی تعداد میں بی این پی اور جماعت اسلامی کو ووٹ دیا ہے کیونکہ مجموعی ووٹ ان ہی دو جماعتوں کو ملا ہے جس میں نئی نسل کے ناراض ووٹرز بھی شامل تھے۔

یہ بات پہلے سے نظر آرہی تھی کہ ان حالیہ انتخابات میں خالدہ ضیا کی جماعت بی این پی جیت جائے گی مگر یہ اندازہ مشکل تھا کہ ان کو اس عمل میں دو تہائی اکثریت ملے گی۔کچھ لوگ یہ پیش گوئی کررہے تھے کہ جماعت اسلامی انتخابی معرکہ جیت جائے گی مگر بیشتر سیاسی پنڈت جو بنگلہ دیش کی سیاست کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں وہ بی این پی کی جیت کی پیش گوئی کررہے تھے۔

حسینہ واجد کی جماعت کے ووٹرز نے بھی اپنا ووٹ عملی طور پر جماعت اسلامی یا دیگر جماعتوں کو دینے کی بجائے بی این پی کو ڈالا ہے کیونکہ وہ نظریاتی طور پر جماعت کے مخالف سمجھے جاتے ہیں اور ان کے پاس ووٹ ڈالنے کا کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا۔جماعت اسلامی کی کامیابی ماضی کے مقابلے میں ایک بڑی کامیابی ہے اور اس نے اس کے لیے مستقبل کی ملکی سیاست میں نئے مثبت امکانات پیدا کیے ہیں ۔ان انتخابات میں ہم جماعت کی کامیابی کو تین امور سے دیکھ سکتے ہیں۔

اول، حسینہ واجد کی حکومت کا جماعت اسلامی کے خلاف انتقامی سیاست کے دور کا خاتمہ اور اس کا عوامی ردعمل،دوئم، جماعت اسلامی کی حسینہ واجد کے خلاف مزاحمت اور ان کی حکومت کے خاتمہ میں موثر کردار اور عوامی سطح پر ان کی سیاسی قبولیت،سوئم، ان انتخابات میں حسینہ واجد کی جماعت پر پابندی اور اس خلا کا جماعت اسلامی نے فائدہ اٹھایا اور پہلی بار وہ اس پارلیمان میں ایک بڑی حزب اختلاف کے طور پر بیٹھے گی۔اسے کل ڈالے گئے سات کروڑ 60لاکھ ووٹ میں سے 3 کروڑ سے زیادہ ووٹ ملے ہیں جو کے تقریباً 39.47فیصد ہیں۔پاکستان ان انتخابات کے نتیجے میں آنے والی جماعت بی این پی اور خود جماعت اسلامی کو پاکستان ہمدرد جماعت کے طورپر دیکھتا ہے ۔کیونکہ حسینہ واجد جہاں پاکستان مخالفت کی بنیاد پر مشہور تھیں تو وہیں ان کو بھارت نواز سمجھا جاتا تھا اور اسی بنیاد پر ان کے دور میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات خراب تھے۔

اس لیے پاکستان کو یقین ہے کہ انتخابات کے نتیجے میں آنے والی بنگلہ دیش میں حکومت اور حزب اختلاف خطہ اور پاکستان کے تناظر میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوں گے۔لیکن دوسری طرف بھارت کے وزیر اعظم نے حسینہ واجد کی حمایت کے باوجود بی این پی اور طارق رحمان کو انتخابات جیتنے پر مبارکباد دی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ ہم مستقبل میں مل کر آگے بڑھیں گے۔لیکن اس میں ایک بنیادی مطالبہ بی این پی اور جماعت اسلامی کا بھارت کی حکومت سے حسینہ واجد کی حوالگی کا ہوگا جو ان کے درمیان تعلقات کو متاثر کرسکتا ہے۔

اسی طرح بنگلہ دیش کی نئی نسل میں دہلی اور مودی مخالف جذبات بھی بہت زیادہ ہیں اور اس کی وجہ بھی ان کی طرف سے حسینہ واجد کی حمایت ہے اور اسی نقطہ کو بنیاد بنا کر خطہ کی سیاست میں پاکستان بنگلہ تعلقات کو زیادہ موثر بنانا چاہتا ہے۔جب کہ اس کے مقابلے میں بھارت کی پوری کوشش ہوگی اور وہ تمام سفارتی اور ڈپلومیسی کارڈ معاشی بنیاد پر کھیلے اور بنگلہ دیش کو پاکستان کے حمایتی کیمپ میں جانے سے روکے تاکہ بھارت افغانستان کے بعد بنگلہ دیش سے بھی پاکستان کو دورکرسکے۔اسی کی بنیاد پر ہم بھارت کی سفارتی جنگ کے مختلف پہلوؤں کو دیکھ سکیں گے ۔

دوسری طرف اس بات کے امکانات واضح ہیں کہ بی این پی کے قائد طارق رحمان ہی حکومت کے سربراہ ہوںگے اور جماعت اسلامی حزب اختلاف کی سیاست کا حصہ ہوگی۔لیکن یہ بھی یاد رکھیں ان انتخابات کے ساتھ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس کی سربراہی میں آئینی ،سیاسی اور قانونی ،کرپشن اور انتخابی اصلاحات کے تناظر میں ان ہی انتخابات کے ساتھ ریفرنڈم کا انعقاد بھی ہوا جس میں لوگوں سے یہ پوچھا گیا کہ وہ موجودہ حالات میں اصلاحات چاہتے ہیں یا نہیں ۔اس ریفرنڈم میں65.05فیصد لوگ اصلاحات چاہتے ہیں جب کہ 34.05فیصد نے اس کی مخالفت کی ۔یقینی طورپر اب بنگلہ دیش میں جب حکومت تشکیل دی جائے گی تو پھر اس ریفرنڈم کی بنیاد پر اصلاحات کی نئی بحث شروع ہوگی اور حکومت کے لیے اصلاحات سے بھاگنا ممکن نہیں ہوگا اور خود جماعت اسلامی بھی اصلاحات کا نعرہ لگا کر موثر اپوزیشن کے طور پر سامنے آئے گی۔

اس لیے بنگلہ دیش حکومت کے نئے سربراہ طارق رحمان کے لیے اقتدار کی سیج آسان نہیں ہوگی اور ان کے گرد مختلف طور طریقوں سے گھیر ا تنگ رکھا جائے گا۔اس ریفرنڈم سے قبل جو عبوری حکومت تھی اس نے مختلف کمیشن کی رپورٹ کو قومی اتفاق رائے کمیشن کے طور پر جمع کیااور اسے جولائی قومی چارٹر کا نام دیا گیا۔ یہ چارٹر80سے زیادہ اصلاحاتی تجاویز پر مشتمل ہے جس میں تقریبا آدھی سے زیادہ آئینی نوعیت کی ہیں۔اس چارٹر پر 25سے زیادہ سیاسی جماعتوں نے 17 اکتوبر 2025 کو دستخط بھی کیے تھے ۔ ریفرنڈم میں اس کی حمایت کی کامیابی کے بعد یہ چارٹر قانونی حیثیت اختیار کرگیا ہے ۔

کہا جاتا ہے کہ ریفرنڈم کا بنیادی مقصد2024میں ہونے والی سیاسی بغاوت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال یا سیاسی خلا کو پر کرنا اور ملک کو آمرانہ حکمرانی سے بچانا تھا۔یعنی مجوزہ آئینی ترمیم کی مدد سے حکمرانی کے نظام کو دوبارہ تشکیل دینا،جمہوریت کو مضبوط بنانا، سماجی انصاف کو فروغ دینا،اداروں میں احتساب کو بڑھانا،اداروں میں توازن پیداکرنا،صدر کے اختیارات میں اضافہ ،عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانا، وزیر اعظم کی ٹرم کا تعین کرنا،آزاد الیکشن کمیشن، عبوری حکومت کی تشکیل،پارلیمنٹ کی ساخت میں تبدیلی جیسے اہم امور شامل ہیں اور اسی بنیاد پر اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔

اس لیے بی این پی دو تہائی اکثریت پر مبنی جماعت کے سامنے بڑا چیلنج اس حالیہ ریفرنڈم کے نتائج اور اصلاحات کا عمل ہوگا جو بنگلہ دیش کی نئی حکومت اور پس پردہ طاقتوں کے درمیان یا تو طاقت کے نئے توازن کا تعین کرے گا اور اس دو تہائی اکثریت پر مبنی حکومت کے اختیارات میں توازن پیدا کرے گا۔ وگرنہ دوسری صورت میں ہمیں نئی حکومت اور طاقت کے مراکز میں ایک نیا ٹکراؤ یا سیاسی کشمکش دیکھنے کو ملے گی جو بنگلہ دیش کے داخلی بحران میں اور زیادہ مسائل کو پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔

ایک خاص سوچ اور مقصد کے تحت ہی عام انتخابات کے ساتھ ہی ریفرنڈم کی سیاسی کنجی کا کارڈ ایک بڑی حکمت عملی کے تحت کھیلا گیا یا اس کا سیاسی دربار سجایا گیا تھا کہ ہم اس کارڈ کی بنیاد پر نئی حکومت پر اصلاحات کے نام پر اپنا دباؤ بڑھا سکیں۔ایسے میں اگر صدر کے اختیارات میں اضافہ ہوتا ہے یا اسٹیبلیشمنٹ کو بھی بہت سے امور پر طاقت ملتی ہے تو حکومت کو دباؤ میں لانا آسان ہوگا۔اس لیے یہ کہنا کہ ان انتخابات کے بعد بنگلہ دیش کا سیاسی بحران ختم ہوگیا ہے درست نہیں بلکہ آنے والے کچھ عرصہ میں ہمیں بنگلہ دیش کی سیاست کے داخلی مسائل میں ایک اور جنگ دیکھنے کو مل سکتی ہے ۔اہم بات یہ ہے کہ ان حالات میں بنگلہ دیش حکومت کے سربراہ طارق رحمان کس انداز سے آگے بڑھتے ہیں یا وہ خود کتنی سیاسی لچک دکھاتے ہیں۔

مقبول خبریں