سرحد پارگٹھ جوڑ اور دہشت گردی

کراچی میں شاہ لطیف ٹاؤن کا واقعہ بھی اسی سلسلے کی کڑی دکھائی دیتا ہے۔


ایڈیٹوریل February 19, 2026

باجوڑ میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا کر 13 خوارج کو ہلاک کردیا جب کہ حملے کے دوران 11 اہلکار شہید ہوگئے۔ دوسری جانب شہر قائد ایک بڑی تباہی سے بال بال بچ گیا جب شاہ لطیف ٹاؤن میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور دہشت گردوں کے درمیان ہونے والے شدید مقابلے میں چار دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

 ملک بھر میں ایک بار پھر دہشت گردی کی نئی اور منظم لہر نے سر اٹھا لیا ہے، حالیہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ محض چند منتشر کارروائیاں نہیں بلکہ ایک گہری منصوبہ بندی کے تحت جاری مہم کا حصہ ہیں۔ ان واقعات کی ذمے داری جن عناصر پر عائد کی گئی اور جن کے بارے میں سرکاری سطح پر کہا گیا کہ انھیں بیرونی سرپرستی حاصل ہے، وہ اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دہشت گردی کی یہ لہر داخلی کمزوریوں کے ساتھ ساتھ بیرونی مداخلت کا بھی نتیجہ ہے۔ داخلی کمزوری یہ تھی کہ خیبرپختون خوا کی تمام شاہراہیں احتجاجی سیاست کی وجہ سے بند تھیں جس کی وجہ سے دشمن کو وار کرنے کا موقع ملا۔

 گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان بارہا اس امر کی نشاندہی کرتا رہا ہے کہ بھارت اور افغانستان کی سرزمین یا وہاں موجود نیٹ ورکس کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس پس منظر میں حالیہ حملوں کو ایک وسیع تر جغرافیائی و اسٹرٹیجک تناظر میں دیکھنا ناگزیر ہے۔جنوبی ایشیا ہمیشہ سے عالمی اور علاقائی طاقتوں کی کشمکش کا میدان رہا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، اس کا ایٹمی طاقت ہونا، چین کے ساتھ اس کے تزویراتی تعلقات، اور خطے میں اقتصادی راہداریوں کے منصوبے بعض قوتوں کے لیے باعثِ تشویش رہے ہیں۔

ایسی صورت میں کسی ملک کو براہِ راست جنگ میں الجھانے کے بجائے پراکسی عناصر کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنا ایک آزمودہ حکمت عملی سمجھی جاتی ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کو مالی وسائل، اسلحہ، تربیت اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر کے انھیں اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ ریاستی اداروں، سکیورٹی تنصیبات اور شہری آبادی کو نشانہ بنائیں، تاکہ خوف و ہراس کی فضا قائم ہو اور ریاستی رٹ کو چیلنج کیا جا سکے۔

باجوڑ حملے میں خودکش دھماکہ خیز گاڑی کا استعمال، چیک پوسٹ کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا اور قریبی رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچانا اس بات کی علامت ہے کہ مقصد صرف عسکری نقصان نہیں بلکہ سماجی سطح پر عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنا بھی تھا۔ دہشت گردی کی حکمت عملی میں نفسیاتی جنگ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ جب ایک چھوٹے سے علاقے میں بھی ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کا پیغام دور دور تک پہنچتا ہے کہ دشمن ہر جگہ موجود ہے۔ یہی وہ نفسیاتی دباؤ ہے جو سرمایہ کاری، سیاحت، معاشی سرگرمیوں اور عوامی اعتماد پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

کراچی میں شاہ لطیف ٹاؤن کا واقعہ بھی اسی سلسلے کی کڑی دکھائی دیتا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے معاشی مرکز میں دہشت گردوں کی موجودگی اور بارودی مواد کی تیاری اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ شہری مراکز کو بھی غیر مستحکم کرنے کی کوشش جاری ہے، اگر کراچی جیسے شہر میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو جائے تو اس کے اثرات پورے ملک کی معیشت پر پڑتے ہیں۔ بندرگاہی سرگرمیاں، بین الاقوامی تجارت، مالیاتی ادارے اور صنعتی یونٹس سب متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دہشت گردی کا اصل ہدف محض جانوں کا ضیاع نہیں بلکہ ریاستی و معاشی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے۔

اس نئی لہر کے اسباب و محرکات کو سمجھنے کے لیے ہمیں داخلی اور خارجی دونوں عوامل کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔ خارجی سطح پر سب سے اہم عنصر علاقائی رقابت اور پراکسی جنگ ہے۔ اگر واقعی پاکستان مخالف عناصر کو بیرونی سرپرستی حاصل ہے تو یہ ایک منظم منصوبہ بندی کا حصہ ہو سکتا ہے جس کا مقصد پاکستان کو سفارتی، عسکری اور معاشی محاذوں پر دباؤ میں رکھنا ہے۔

افغانستان کی موجودہ سیاسی صورت حال، سرحدی علاقوں کی پیچیدہ جغرافیائی ساخت اور قبائلی روابط دہشت گردوں کے لیے نقل و حرکت کو آسان بناتے ہیں۔ اگر افغان حکومت اپنی سرزمین کو کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے عزم پر مکمل عملدرآمد یقینی نہیں بنا پاتی تو اس کا براہِ راست نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑتا ہے۔

دوسری جانب بھارت کے ساتھ تاریخی کشیدگی، خصوصاً کشمیر کے مسئلے کے تناظر میں، باہمی اعتماد کی فضا کو کمزور رکھتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں تناؤ اور سرحدی جھڑپیں ایک ایسے ماحول کو جنم دیتی ہیں جہاں پراکسی عناصر کے استعمال کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر دہشت گرد گروہوں کو مالی یا لاجسٹک معاونت فراہم کی جا رہی ہے تو یہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان کو چاہیے کہ وہ ٹھوس شواہد کے ساتھ عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ، کے فورمز پر اپنا مقدمہ پیش کرے تاکہ عالمی دباؤ کے ذریعے ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔داخلی عوامل بھی کم اہم نہیں۔ گزشتہ برسوں میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے گئے، مگر نظریاتی اور مالیاتی نیٹ ورکس مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکے۔

شدت پسند بیانیہ، مذہبی یا نسلی جذبات کا استحصال، اور سوشل میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈا نوجوانوں کو متاثر کرتا ہے۔ جب تک ان فکری جڑوں کو نہیں کاٹا جائے گا، دہشت گردی کی نئی شکلیں سامنے آتی رہیں گی، لہٰذا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے محض عسکری کارروائی کافی نہیں۔ ایک ہمہ جہت حکمت عملی ناگزیر ہے جس کے چند بنیادی ستون ہوں۔ پہلا ستون انٹیلی جنس اور سیکیورٹی کا مربوط نظام ہے۔ مختلف اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مؤثر بنایا جائے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس اور سائبر مانیٹرنگ کے ذریعے دہشت گرد نیٹ ورکس کی نقل و حرکت، مالی لین دین اور آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ سرحدی نگرانی کو مزید مضبوط بنانے، باڑ کی تکمیل اور جدید آلات کے استعمال سے دراندازی کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں۔

دوسرا ستون نظریاتی محاذ ہے۔ علما، دانشور، اساتذہ اور میڈیا کو مل کر ایسا بیانیہ تشکیل دینا ہوگا جو انتہا پسندی کی فکری بنیادوں کو چیلنج کرے۔ مذہب کے نام پر تشدد کو بے نقاب کرنا اور آئینی و جمہوری اقدار کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نصابِ تعلیم میں تنقیدی سوچ، برداشت اور مکالمے کی ثقافت کو شامل کرنا طویل المدتی استحکام کا ضامن بن سکتا ہے۔ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں، ہنر مندی کے پروگراموں اور قومی دھارے میں شمولیت کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ شدت پسند عناصر کے جھانسے میں نہ آئیں۔تیسرا ستون معاشی و سماجی ترقی ہے۔

قبائلی اضلاع اور سرحدی علاقوں میں انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقع کی فراہمی کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔ جب ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرتی ہے تو ان کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے اور وہ دہشت گردوں کے خلاف ریاست کا ساتھ دیتے ہیں۔ مقامی عمائدین اور کمیونٹی لیڈرز کو امن کمیٹیوں کے ذریعے شامل کر کے سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

چوتھا ستون سفارت کاری ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ علاقائی ممالک کے ساتھ مسلسل مکالمہ جاری رکھے اور واضح پیغام دے کہ کسی بھی قسم کی سرحد پار دہشت گردی ناقابلِ قبول ہے۔ اگر افغانستان کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے اختلافات ہیں تو انھیں مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ اسی طرح بھارت کے ساتھ بھی، خواہ تعلقات کشیدہ ہی کیوں نہ ہوں، بیک چینل یا رسمی سفارتی ذرائع سے اس مسئلے کو اٹھایا جانا چاہیے تاکہ غلط فہمیوں اور الزامات کی سیاست کے بجائے شواہد اور حقائق کی بنیاد پر بات آگے بڑھے۔

پانچواں اور سب سے اہم ستون قومی یکجہتی ہے۔ دہشت گردی کا مقصد معاشرے کو تقسیم کرنا، فرقہ وارانہ اور نسلی اختلافات کو ہوا دینا اور ریاستی اداروں کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اگر سیاسی قیادت باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر قومی سلامتی کے معاملے پر متحد ہو جائے تو دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔ میڈیا کو بھی ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنسنی خیزی کے بجائے ذمے دارانہ رپورٹنگ کو فروغ دینا چاہیے۔آج کا تقاضا یہی ہے کہ دہشت گردی کو محض ایک سیکیورٹی چیلنج کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ اسے قومی بقا اور مستقبل کے تناظر میں سمجھا جائے۔

اگر ہم نے مربوط حکمت عملی، جدید ٹیکنالوجی، مؤثر سفارت کاری، نظریاتی اصلاح اور معاشی ترقی کو یکجا کر لیا تو دہشت گردی کی یہ نئی لہر بھی دم توڑ دے گی۔ بصورت دیگر، وقتی کامیابیاں بھی مستقل امن میں تبدیل نہیں ہو سکیں گی۔ فیصلہ کن لمحہ آن پہنچا ہے، اور قوم کو ایک بار پھر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اپنے شہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دے گی اور ہر سطح پر دشمن کے عزائم کو ناکام بنائے گی۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو پائیدار امن، استحکام اور ترقی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔

مقبول خبریں