پنجاب سول سیکریٹریٹ کے باہر سرکاری ملازمین کا 10 روز سے دھرنا، مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل

جب تک ہمارے مطالبات نہیں مانے جاتے تب تک احتجاج  جاری رہے گا، سرکاری ملازمین


خالد رشید February 19, 2026
فوٹو: فائل

لاہور:

حکومت پنجاب نے سول سیکریٹریٹ کے باہر سرکاری ملازمین کا 10 روز سے جاری دھرنے کے نتیجے میں مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔

حکومت پنجاب نے سرکاری ملازمین کے احتجاج پر حکومتی کمیٹی تشکیل دی ہے اور نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس کے مطابق اعلیٰ سطح کی حکومتی کمیٹی سراپا احتجاج ملازمین کے مطالبات پر مذاکرات کرے گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق سیکریٹری ریگولیشن کی سربراہی میں 7 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو ملازمین کے مطالبات کا تفصیلی جائزہ لے کر 30 روز کے اندر اندر حتمی سفارشات اور فیصلہ پیش کرے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ مذکورہ کمیٹی ملازمین کے نمائندوں سے مشاورت کرے گی تاکہ قابل عمل اور متفقہ حل نکالا جا سکے اور محکمہ آئی اینڈ سی نے متعلقہ محکموں کو مشاورتی کمیٹی کا نوٹیفکیشن ارسال کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ پنجاب کے سرکاری ملازمین کا پنشن رولز میں ترمیم، لیو انکیشمینٹ اور رول 17 اے کے خاتمے کے خلاف 10 روز سے پنجاب سول سیکریٹریٹ میں دھرنا جاری تھا۔

سرکاری ملازمین کا پنشن رولز میں ترمیم کا نوٹیفکیشن، لیو انکیشمنٹ اور سرکاری ملازمین کا رول 17 اے کے خاتمے کا نوٹیفکیشن بھی واپس لینے کا مطالبہ ہے۔

مظاہرین نے مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل کے بعد احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا اور ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر محمد احمد نے کہا کہ مطالبات کی منظوری کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

محمد احمد نے کہا کہ مطالبات کی منظوری کے لیے حکومت کے پاس 31 مارچ تک کی ڈیڈ لائن ہے، اگر 31 مارچ تک مطالبات منظور نہیں ہوئے تو دوبارہ احتجاج اور دھرنا ہوگا۔

 

مقبول خبریں