بے مقصد دھرنے اور الٹی میٹم

تجزیہ کاروں نے اپنے اپنے حساب سے بانی کی صحت پر تبصرے کیے اور غیر جانبدار تجزیہ کاروں کو بھی حکومت کی پالیسی پر تنقید کا موقعہ مل ہی گیا۔


محمد سعید آرائیں February 20, 2026
[email protected]

اڈیالہ جیل کے سامنے بانی پی ٹی آئی کی ہمشیراؤں کے ہفتہ وار احتجاج، عارضی دھرنوں، وزیر اعلیٰ کے پی کے اڈیالہ کے باربار چکروں میں ناکامی کے بعد چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات رنگ لائی اور بانی کی جسمانی صحت، بینائی کے مسئلے، بانی سے ملاقاتیں نہ کرانے پر حکومت کے خلاف پی ٹی آئی کی شکایات کا ازالہ سپریم کورٹ کے حکم پر ہی ہوا اور بانی کے وکیل نے اپنی تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جس پر چیف جسٹس نے حکم بھی صادر کیا مگر پی ٹی آئی نے دو تین دن کا صبر بھی گوارا نہ کیا اور بانی کی صحت پر جو سیاست شروع کی وہ حکومت کی غلط پالیسی کے باعث کسی حد تک کامیاب بھی ہو گئی اور بانی کی بینائی کی خبریں اخبارات کی شہ سرخیاں بنیں اور الیکٹرانک میڈیا میں بھی نمایاں ضرور ہوئیں۔ تجزیہ کاروں نے اپنے اپنے حساب سے بانی کی صحت پر تبصرے کیے اور غیر جانبدار تجزیہ کاروں کو بھی حکومت کی پالیسی پر تنقید کا موقعہ مل ہی گیا۔

حکومتی حامیوں کو بھی تسلیم کرنا پڑا کہ جیلوں میں کسی بھی وجہ سے قیدیوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں جو انھیں ملنے چاہئیں مگر پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت نے نہیں دیے۔ (ن) لیگی رہنما میاں جاوید لطیف کو بھی کہنا پڑا کہ کسی حکومت کو کسی کی زندگی سے کھیلنے کی اجازت نہیں مگر خود بانی اپنے اقتدار میں کس طرح دوسروں کی صحت کا مذاق اڑایا کرتے تھے وہ بھی مناسب نہیں تھا۔ (ن) لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان سے بھی بانی کی حمایت نظر آئی۔ تجزیہ کاروں کا موقف بھی درست تھا کہ قیدیوں کے علاج کے لیے بروقت اقدامات حکومت کی ذمے داری ہے۔ آنکھ کا مسئلہ سیریس ہوتا ہے جس پر حکومت اور پی ٹی آئی کسی کو بھی سیاست نہیں کرنی چاہیے۔

حکومت کی طرف سے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ ہوا ہے جو نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ بانی سابق وزیر اعظم ہیں انھیں فوری توجہ کی ضرورت تھی۔ ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ہی سلمان صفدر نے بانی سے ملاقات کی تو یہ مسئلہ سامنے آیا، اگر آنکھ کا کوئی مسئلہ تھا تو جنوری میں بانی کی ہمشیرہ جب بانی سے ملی تھیں تو اس وقت آنکھ کے علاج کی بات ہی نہیں ہوئی تھی۔ وزیر مملکت طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ بانی کی آنکھ اور بینائی کا فیصلہ وکیل نہیں ڈاکٹروں نے ہی کرنا ہے اور حکومت نے کوئی لاپرواہی نہیں کی اور سلمان صفدر سے ملاقات سے قبل بانی نے خود کچھ نہیں بتایا تھا۔ پی ٹی آئی کی طرف سے جیل کے سابق سپرنٹنڈنٹ پر بھی الزامات لگائے جا رہے ہیں جب کہ ان کی طرف سے تو کہا گیا ہے کہ بانی نے بینائی کی معمولی شکایت کی تھی جس پر متعدد بار ڈاکٹروں نے معائنہ کیا تھا اور دوائی بھی دی تھی۔ سابق سپرنٹنڈنٹ جیل نے تو چارج چھوڑنے سے قبل بھی بانی کا معائنہ کرایا تھا۔

یہ بھی درست ہے کہ بانی کی بہنوں اور پی ٹی آئی کو بانی سے ملاقاتیں نہ کرانے کی ضرور شکایات تھیں اور عدالتوں سے بھی رجوع کیا گیا تھا۔ حکومت نے بانی سے ملنے پر کسی وجہ سے پابندی لگائی تھی کیونکہ بانی کی بہنیں ملاقاتوں کے بعد بھی سیاست کر رہی تھیں اور ہر منگل چند گھنٹوں کے لیے احتجاج و دھرنا بھی ہوتا تھا۔

ملاقات نہ کرانا حکومتی مسئلہ تھا مگر جیل انتظامیہ کی طرف سے بانی کی آنکھ کا مسئلہ بڑھ جانے پر حکومت نے بانی کو پمز لا کر ان کی آنکھ کا معائنہ بھی کرایا تھا مگر حکومت نے یہ حقیقت چھپائی بھی تھی جو غلط حکومتی فیصلہ تھا۔ بعد میں حکومت نے تصدیق بھی کی جس سے پی ٹی آئی کو شکایتوں کا موقعہ ملا اور سلمان صفدر کی ملاقات کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس کو بڑا مسئلہ بنا دیا اور یہ تک کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے زیادہ ضروری ہمارے لیے کچھ نہیں۔ اس بیان کا مقصد بینائی کے مسئلے کو سیاسی بنا کر احتجاج و دھرنے کا جواز پیدا کرنا تھا جو حکومتی غلط پالیسی سے پی ٹی آئی کو مل گیا۔

بانی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا کہ ہم الٹی میٹم دے رہے ہیں کہ بانی کو رہا کرو۔ سینیٹ میں پی ٹی آئی سینیٹروں نے ہنگامہ کیا جس پر حکومتی مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی غیر ضروری احتجاج نہ کرے۔ معائنہ کرنے والے ڈاکٹر جس سے کہیں گے حکومت بانی کا علاج کرائے گی۔ انھوں نے کہا کہ جنوری میں بانی کی آنکھ کی تکلیف کا بتایا گیا تھا اب ان کی صحت پر سیاست کرنا غلط ہے۔ پرویز رشید کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی اب لاشوں اور جھوٹوں کی سیاست نہیں چلے گی۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے احتجاج سے حکومت نہیں جھکے گی۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا جو حکومت نے نہیں ہونے دیا جس پر اپوزیشن ارکان نے ایوان صدر کی طرف جانے والے گیٹ پر دھرنا دیا اور نعرے بازی کی جو اپوزیشن کا حق تھا مگر 16 فروری کا انتظار نہیں کیا گیا اور وقت سے پہلے عدالتی فیصلہ نہ آنے پر بھی احتجاج کیا گیا۔

بانی کی ہمشیرہ علیمہ خان بانی کی رہائی کے لیے الٹی میٹم بھی دے رہی ہیں اور وزیر اعلیٰ کے پی اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے سخت بیانات بھی آ رہے ہیں اور مخالفانہ بیان بازی بھی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے 8 مقدمات بھی سماعت کے لیے مقرر ہو گئے ہیں اور عدالتی ریلیف بھی ملنے لگا ہے جس کے بعد احتجاج، دھرنے اور دھمکی آمیز بیانات بے مقصد ثابت ہو رہے ہیں۔

مقبول خبریں